اسٹیٹ بینک کے ذخائر کم ہو کر 7 ارب 80 کروڑ ڈالر رہ گئے

اپ ڈیٹ 25 نومبر 2022
<p>گزشتہ 3 کاروباری دنوں کے دوران ڈالر کی قدر میں 50 پیسے کا اضافہ ہوچکا ہے — فائل فوٹو: رائٹرز</p>

گزشتہ 3 کاروباری دنوں کے دوران ڈالر کی قدر میں 50 پیسے کا اضافہ ہوچکا ہے — فائل فوٹو: رائٹرز

18 نومبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید 13 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی کمی ہوگئی جس کے بعد اس کے پاس موجود ذخائر 7 ارب 80 کروڑ ڈالر رہ گئے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ذخائر کی کمزور پوزیشن شرح تبادلہ پر منفی اثر ڈالتی ہے جب کہ انٹربینک مارکیٹ میں روزانہ کی بنیاد پر ڈالر کی قدر میں اضافہ ہو رہا ہے، گزشتہ 3 کاروباری دنوں کے دوران اس کی قدر میں 50 پیسے کا اضافہ ہوچکا ہے۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے فراہم کردہ انٹربینک ریٹ، ایکسچینج کمپنیوں کی جانب سے جاری کردہ ریٹ سے نمایاں طور پر کم ہے۔

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے جمعرات کے روز ڈالر کا انٹربینک ریٹ 225 روپے بتایا جب کہ مرکزی بینک نے کلوزنگ ریٹ 223 روپے 92 پیسے بتایا۔

اسٹیٹ بینک کے کم ہوتے ہوئے ذخائر ڈالر کے مقابلے میں مقامی کرنسی کی کم ہوتی قدر کی بڑی وجہ ہیں، کرنسی ڈیلرز کو یقین نہیں ہے کہ ملک میں موجودہ سیاسی غیر یقینی کی صورتحال کب تک برقرار رہے گی۔

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر ایک ماہ سے زائد عرصے تک 8 ارب ڈالر کے قریب رہے لیکن سکوک بانڈز میچور ہونے کے بعد 5 دسمبر کو واجب الادا ایک ارب ڈالر کی ادائیگی کے ساتھ ان میں کمی آئے گی۔

خدشہ ہے کہ ایک ارب ڈالر کی کی ادائیگی کے بعد ڈالر کی قدر میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے جب کہ ڈالر انفلو کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔

حکومت آئندہ قسط کے اجرا کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہے لیکن بنیادی طور پر اسے ملک کی معاشی صورتحال سے متعلق مشکلات کا سامنا ہے۔

ٹیکس کلیکشن میں کمی کے باعث حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ ٹیکس کلیکشن بڑھانے کے لیے مزید ٹیکس لگائے جب کہ اس وقت ٹیکس کلیکشن، آئی ایم ایف کے مقرر کردہ ہدف سے بہت کم ہے۔

رواں مالی سال کے ابتدائی 4 ماہ کے دوران مہنگائی کی شرح کا مرکزی انڈیکس (سی پی آئی) پہلے ہی 26 فیصد سے زیادہ ہے، مزید ٹیکس کے نفاذ سے غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کی زندگی مزید مشکلات کا شکار ہوجائے گی جب کہ پاکستان میں غربت کا تخمینہ 50 فیصد ہے۔

اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ 18 نومبر تک ملک کے کُل ذخائر 15 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کم ہوکر 13 ارب 60 کروڑ ڈالر رہ گئے جب کہ کمرشل بینکوں کے پاس 5 ارب 82 کروڑ ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مرکزی بینکوں کے ذخائر میں کمی کی وجہ بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں ہیں، اسٹیٹ بینک کے ذخائر رواں سال جولائی میں 8 ارب 40 کروڑ ڈالر سے کم ہو کر 7 ارب 80 کروڑ ڈالر رہ گئے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں