بی جے پی کی ’گجرات تشدد میں ملوث ہونے کی تصدیق‘ پر پاکستان کا اظہار تشویش

اپ ڈیٹ 28 نومبر 2022
<p>دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ  بھارت مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے آزاد انکوائری کمیشن تشکیل دے — فائل فوٹو: ڈان</p>

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے آزاد انکوائری کمیشن تشکیل دے — فائل فوٹو: ڈان

پاکستان نے 2002 کے گجرات کے فسادات کے دوران مسلم مخالف تشدد میں بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت کے براہ راست ملوث ہونے کی تصدیق پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ بھارت مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے فوری طور پر ایک آزاد انکوائری کمیشن تشکیل دے۔

یاد رہے کہ 25 نومبر کو بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی کے وفاقی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 2002 میں بطور وزیر اعلیٰ گجرات سماج دشمن عناصر کو سبق سکھایا تھا۔

اسکرول ڈاٹ اِن کی رپورٹ کے مطابق امیت شاہ نے گجرات میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم نریندر بھائی (مودی) کے لیے مسائل پیدا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے ایسا سبق پڑھایا کہ انہیں 2022 تک کچھ کرنے کی ہمت نہیں ہوئی، بھارتیہ جنتا پارٹی نے گجرات میں امن قائم کر دیا۔’

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ شنکر سنگھ واگھیلا کے حالیہ بیان نے پاکستان کے اس دیرینہ دعوے کی تصدیق کی ہے کہ بی جے پی کی موجودہ بھارتی حکومت کے وزیر اعظم نریندر مودی جو اُس وقت گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے، وہ گودھرا میں مسلم مخالف فسادات کے دوران اور مسلمانوں کے قتل عام کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس امر کی مزید تصدیق بالواسطہ طور پر بھارتی وزیر داخلہ نے کی ہے، جنہوں نے حال ہی میں دعویٰ کیا ہے کہ گجرات فسادات کے ذمہ داروں کو سبق سکھایا گیا ہے اور بی جے پی کے فیصلہ کن اقدامات سے گجرات میں مستقل امن قائم ہوا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے انسانیت کے خلاف جرائم صرف بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیاسی فائدے کے لیے کیے گئے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ گجرات سانحے کے 2 دہائیوں بعد بی جے پی ایک بار پھر اپنی تفرقہ انگیز پالیسیوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

دفتر خارجہ نے بتایا کہ بی جے پی کے دور حکومت میں بھارت کا اپنی اقلیتوں خاص طور پر بھارتی مسلمانوں کے ساتھ سلوک امتیازی، توہین آمیز اور نفرت اور تشدد پر مبنی ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق اس سال جون میں بھارت کی سپریم کورٹ نے موجودہ وزیر اعظم اور گجرات کے اُس وقت کے وزیر اعلیٰ کو 2002 کے گجرات فسادات میں ان کے کردار کے لیے کلین چٹ دے دی ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق سپریم کورٹ نے 2002 کے گجرات فسادات کے کیسز کی آزادانہ تحقیقات کے لیے بھارت کے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آر سی) کی طرف سے دائر کی گئی 11 درخواستوں پر مزید کاروائی حتم کر دی۔

ترجمان نے بتایا کہ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ بھارت کے موجودہ وزیر اعظم پر ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر ان کے انسانی حقوق کے غیر تسلی بخش ریکارڈ کی وجہ سے 2014 تک امریکا جیسے ممالک میں داخلے پر پابندی عائد تھی۔

انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ پوری بھارتی قانونی اور انتظامی مشینری حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ۔ آر ایس ایس گٹھ جوڑ کے ہندوتوا پر مبنی ایجنڈے پر آنکھیں بند کر کے عمل پیرا ہے، جہاں نفرت اور تشدد کے مرتکب افراد کو قانون کے ذریعے تحفظ حاصل ہے۔

دفتر خارجہ نے بتایا کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کو مسلسل دھمکیاں دی جاتی ہیں اور آزادی سے انکار کیا جاتا ہے، بغیر کسی خوف کے اپنے عقیدے پر عمل کرنا، جبکہ ان کی جان، مال اور عبادت گاہوں پر حملوں کا خطرہ رہتا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ گودھرا کے ہولناک واقعے کے ساتھ ساتھ گجرات فسادات کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے فوری طور پر ایک آزاد انکوائری کمیشن تشکیل دے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان، عالمی برادری خاص طور پر انسانی حقوق کے کارکنوں اور محافظین سے بھی مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بھارت میں اسلاموفوبیا کی بڑھتی ہوئی صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور بھارتی حکومت سے مطالبہ کرے کہ بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حقوق اور ان کی جانوں کا تحفظ یقینی بنائے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں