معاشی ایمرجنسی کی خبریں جھوٹ ہیں، آئی ایم ایف پروگرام ٹریک پر آچکا، فنانس ڈویژن

اپ ڈیٹ 06 دسمبر 2022
<p>— فوٹو: ٹوئٹر</p>

— فوٹو: ٹوئٹر

فنانس ڈویژن نے ملک میں معاشی ایمرجنسی لگانے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے ایسا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے اور حکومت کی کوششوں سے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام ٹریک پر واپس آچکا ہے اور نویں جائزے کے حوالے سے مذاکرات ایڈوانس اسٹیج پر ہیں۔

فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ حالیہ دنوں میں پاکستان میں معاشی ایمرجنسی کے حوالے سے جھوٹا پیغام سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔

بیان میں بتایا گیا کہ فنانس ڈویژن نے ایسے دعووں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں معاشی ایمرجنسی لگانے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔

فنانس ڈویژن کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے اس پیغام کا مقصد ملک میں معاشی صورت حال کے بارے میں غیر یقینی کی صورت حال پیدا کرنا ہے اور یہ صرف ایسے لوگوں کی صرف سے پھیلایا جاسکتا ہے جو پاکستان کو خوش حال نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔

مزید کہا گیا کہ معاشی مشکلات کے وقت اس قسم کے جھوٹے بیانات دینا اور پھیلانا قومی مفاد کے خلاف ہے، پیغام میں 9 نکات کو محض پڑھنے سے ہی پتا چل جاتا ہے کہ یہ تجاویز کتنی ناقابل یقین ہیں۔

فنانس ڈویژن کا کہنا تھا کہ پاکستانی معیشت کا مختلف شعبوں پر انحصار اور موروثی مضبوطی کو دیکھتے ہوئے پاکستان کا موازنہ سری لنکا کے ساتھ کرنا نہایت غیر مناسب ہے۔

فنانس ڈویژن نے مزید کہا کہ ملک میں جاری معاشی مشکلات کی بنیادی وجوہات عالمی کساد بازاری، روس-یوکرین جنگ، اشیائے ضروریہ کی عالمی سطح پر بلند قیمتیں، امریکا میں شرح سود میں اضافہ اور حالیہ غیر معمولی سیلاب سے تباہی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت پوری کوشش کر رہی ہے کہ ایسے غیر ملکی فیکٹرز کے اثرات کو کم کیا جائے حالانکہ ہمیں تباہ کن سیلاب کے معیشت پر اثرات اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی شرائط کا بھی سامنا ہے۔

بیان میں مزید بتایا گیا کہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کو مکمل کرنے کے لیے پُرعزم ہے، اس کے ساتھ ساتھ بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں بھی وقت پر کی جائیں گی۔

فنانس ڈویژن نے مزید کہا کہ معاشی صورت حال کے چیلنجز میں حکومت نے وفاقی کابینہ کی منظوری سے سادگی کے حوالے سے متعدد اقدامات کیے ہیں، جو عوام کو معلوم ہیں، جن کا مقصد غیر ضروری اخراجات ختم کرنا ہے، اسی طرح حکومت توانائی کو بچانے کے حوالے سے اقدامات پر غور کر رہی ہے تاکہ درآمدی بل کم کیا جاسکے، ان پر کابینہ میں غور کیا جائے گا اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بعد بہترین قومی مفاد میں فیصلے کیے جائیں گے۔

فنانس ڈویژن کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی کوششوں سے آئی ایم ایف پروگرام ٹریک پر واپس آچکا ہے اور نویں جائزے کے حوالے سے مذاکرات ایڈوانس اسٹیج پر ہیں۔

بیان میں بتایا گیا کہ حکومت کی حالیہ کوششوں کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوا اور ایف بی آر نے حالیہ مہینوں میں ریونیو اہداف حاصل کرلیے ہیں۔

اس حوالے سے کہا گیا کہ مستقبل قریب میں بیرونی کھاتوں پر دباؤ کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے، اس کے ساتھ ساتھ وسط مدت میں ساختی ردوبدل کرنے کی بھی ضرورت ہے، ملک میں معاشی صورت حال استحکام کی جانب گامزن ہے۔

فنانس ڈویژن نے عوام پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی معاشی بہتری اور استحکام میں کردار ادا کریں اور گمراہ کن افواہوں پر توجہ نہ دیں جو قومی مفاد کے خلاف ہیں۔

واضح رہے کہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں زرمبادلہ کے ذخائر 25 نومبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں تاریخی کم سطح 7 ارب 50 کروڑ ڈالر تھے۔

اسمٰعیل اقبال سیکیورٹیز کے سربراہ برائے ریسرچ فہد رؤف نے بتایا تھا کہ آئی ایم ایف کا جائزہ تاخیر کا شکار ہے، جس کے سب سرمایہ کاروں میں بے چینی ہے، وزیرخزانہ کی جانب سے نجی ٹی وی پر تبصرے نے بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

وزیرخزانہ اسحٰق ڈار نے 2 دسمبر کو کہا تھا کہ انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ پاکستان کے 7 ارب ڈالر توسیع فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے نویں جائزے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی ٹیم پاکستان کا دورہ کرے یا نہ کرے اور انہیں ملکی مفاد کو مقدم رکھنا ہے’۔

جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزاداہ کے ساتھ‘ میں اسحٰق ڈار نے آئی ایم ایف کے دورۂ پاکستان میں تاخیر کے حوالے سے سوال پر کہا تھا کہ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آتے ہیں یا نہیں، میں ان کے سامنے بھیگ نہیں مانگوں گا، مجھے پاکستان اور عوام کا مفاد دیکھنا ہے ۔

انہوں نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم اگر پاکستان کا دورہ کرےگی تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں، حکومت بھی اس معاملے سے نمٹنے کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔

اسحٰق ڈار نے کہا تھا کہ نویں جائزہ قسط مکمل طور پر تیار ہے، تمام معاملات مکمل ہو گئے ہیں، میں نے انہیں یقین دلایا ہے کہ ہماری نویں جائزہ قسط بالکل درست ہے ، انہیں پاکستان کو 50 کروڑ ڈالر فنڈز دینے چاہئیں اور پاکستان لازمی آنا چاہیے۔

تبصرے (0) بند ہیں