چینی صدر شی جن پنگ 3 روزہ دورے پر بدھ کو سعودی عرب پہنچیں گے

06 دسمبر 2022
<p>—فائل/فوٹو: ڈان</p>

—فائل/فوٹو: ڈان

چین کے صدر شی جن پنگ بدھ سے سعودی عرب کا 3 روزہ سرکاری دورہ کریں گے جہاں وہ سعودی فرماں روا اور ولی عہد سے ملاقاتیں کریں گے۔

خبرایجنسی اے ایف پی کے مطابق سعودی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ بدھ سے سعودی عرب کا دورہ کریں گے اور سعودی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔

چینی صدر شی جن پنگ دورے کے موقع پر خلیجی تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے اور مشرق وسطیٰ کے دیگر رہنماؤں سے چین کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کے لیے مذاکرات کریں گے۔

سعودی پریس ایجنسی کا کہنا تھا کہ چینی صدر بدھ کو سعودی عرب پہنچیں گے جو کوویڈ کی عالمی وبا شروع ہونے کے بعد ان کا تیسرا غیرملکی دورہ ہوگا۔

شی جن پنگ کا 2016 کے بعد پہلی مرتبہ سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں۔

دوطرفہ سربراہی اجلاس کی صدارت سعودی فرماں روا شاہ سلمان کریں گے جہاں ولی عہد محمد بن سلمان کریں گے۔

سعودی حکومت کے قریبی تجزیہ کار علی شہابی کا کہنا تھا کہ صدر شی جن پنگ کا دورہ اس بات کا مظہر ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ برسوں میں تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب سے سب سے زیادہ تیل درآمد کرنے کی حیثیت سے چین ایک اہم شراکت دار ہے اور دفاعی تعلقات مزید گہرے ہو رہے ہیں۔

تجزیہ کار نے کہا کہ اس دورے میں توقع ہے کہ کئی معاہدوں پر دستخط ہوں گے۔

چینی صدر کا دورہ اتفاقیہ طور پر ایک ایسے موقعے پر ہو رہا ہے جب سعودی عرب اور امریکا کے درمیان توانائی سے لے کر خطے کی سلامتی اور انسانی حقوق سمیت چند معاملات پر کشیدگی پائی جاتی ہے۔

امریکا اور سعودی عرب کے درمیان تازہ مخاصمت اکتوبر میں سامنے آئی جب روزانہ بنیاد پر اوپیک پلس نے 20 لاکھ بیرل تک محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا، جس کو واشنگٹن نے یوکرین جنگ کے دوران روس کی حمایت سے تعبیر کیا تھا۔

قبل ازیں 2016 میں جب صدر شی جن پنگ نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا تو ولی عہد محمد بن سلمان کو عہدہ سنبھالے ایک سال ہوگیا تھا جبکہ چینی صدر نے مصر اور سعودی حریف ایران بھی گئے تھے۔

دوسری جانب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان 2019 میں ایشیا کے دورے کے موقع پر چین بھی گئے تھے اور صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی تھی، جس کے بعد کورونا وائرس کی وبا نے دنیا کو لپیٹ میں لیا تھا۔

رواں برس سعودی عرب کا دورہ کرنے والے دیگر عالمی رہنماؤں میں فرانس کے صدر اور برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن، جنہوں نے بعد میں استعفیٰ دے دیا اور اس کے علاوہ امریکی صدر جوبائیڈن بھی دورہ کر چکے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں