سیاسی تناؤ میں کمی کی کوشش، صدر مملکت اور اسحٰق ڈار کی دوبارہ ملاقات

08 دسمبر 2022
<p>اسحٰق ڈار نے صدر سے ملاقات میں انہیں معاشی صورتحال سے آگاہ کیا—فوٹو : اے پی پی</p>

اسحٰق ڈار نے صدر سے ملاقات میں انہیں معاشی صورتحال سے آگاہ کیا—فوٹو : اے پی پی

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے درمیان 17 روز کے دوران دوسری بار ملاقات ہوئی تاکہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے اور سیاسی تلخی کم کی جا سکے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ ملاقات جہاں سیاسی تناؤ کو کم کرنے کے لیے حکومت کی پی ٹی آئی کے ساتھ بیٹھنے کے ارادے کی عکاسی کرتی ہے، وہیں حکومت اپنے اس مؤقف پر اب تک ڈٹی ہوئی ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے ساتھ صرف اس صورت بات چیت کے لیے تیار ہوگی اگر مذاکرات غیر مشروط اور بغیر کسی دباؤ کے ہوں گے۔

اسحٰق ڈار نے صدر عارف علوی سے ملاقات میں انہیں ملک کی معاشی صورتحال اور متاثرہ شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔

ایوان صدر کے مطابق اس ملاقات میں اقتصادی صورتحال، معیشت اور سیلاب متاثرین کی بحالی سے متعلق متعدد امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

حکومتی ذرائع نے بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کا پنجاب اسمبلی کو تحلیل کرنے سے گریزاں نظر آنے کے بعد مسلم لیگ (ن) نے پرویز الٰہی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی کوششیں مدھم کردی ہیں۔

بعد ازاں صدر عارف علوی نے نجی ٹی وی چینل ’اے آر وائی نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسحٰق ڈار کو حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان باضابطہ مذاکرات کے لیے کچھ تجاویز دیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسحٰق ڈار سے ملاقات کے دوران قبل از وقت انتخابات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

رابطہ کرنے پر مسلم لیگ (ن) کے ایک سینیئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکومت، پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے بشرطیکہ مذاکرات غیر مشروط ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان قبل از وقت انتخابات کی حتمی تاریخ دینے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالتے ہیں تو یہ ناقابلِ قبول ہو گا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں