چین: سخت کورونا پابندیوں میں نرمی کے بعد شہریوں کی زندگی معمول پر آگئی

اپ ڈیٹ 08 دسمبر 2022
<p>— فوٹو: رائٹرز</p>

— فوٹو: رائٹرز

انتہائی سخت لاک ڈاون کے خلاف غیر معمولی احتجاجی مظاہروں کے بعد کووڈ 19 کی سخت پابندیوں میں نرمی کے بعد چین کے دارالحکومت بیجنگ میں شہریوں کی زندگی معمول پر آنے لگی۔

ایک روز قبل بیجنگ نیشنل ہیلتھ کمیشن (این ایچ سی) نے سخت کورونا پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا تھا، نئی گائیڈلائنز کے مطابق جن افراد میں کورونا کی ہلکی علامات ہیں انہیں گھر میں ہی قرنطینہ میں رہنے کی اجازت دی گئی تھی، اس کے علاوہ پی سی آر ٹیسٹنگ کی رفتار میں کمی کے ساتھ لاک ڈاؤن میں بھی کمی لائی گئی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے صحافی نے بتایا کہ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں جہاں کورونا کے بڑھتے کیسز کی وجہ سے شہری گھروں میں محصور تھے اور کاروبار اور تعلیمی ادارے بھی بند تھے، وہیں کووڈ 19 کی نئی گائیڈلائنز کے اعلان کے بعد شہر میں ٹریفک کی روانی معمول پر آگئی ہے۔

نئی گائیڈلائنز کے تحت پی سی آر ٹیسٹنگ کے لیے لمبے طریقہ کار میں نرمی کی گئی تھی۔

بیجنگ میں ٹیسٹنگ سروس کی تعداد میں بھی کمی آگئی ہے تاہم کچھ سینٹرز میں اب بھی ٹیسٹنگ سروس جاری ہے۔

28 سالہ چین مین نے بتایا کہ ’میں کورونا ٹیسٹ کے لیے آیا ہوں کیونکہ میرے دفتر میں ایک شخص کو کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا تھا، مجھے امید ہے کہ میرا کووڈ ٹیسٹ منفی آئے گا‘۔

دیگر افراد نے کہا کہ وہ ٹیسٹ کے لیے اس لیے آئے ہیں کیونکہ وہ ہوٹل یا باورچی خانے میں کام کرتے ہیں جہاں کورونا ٹیسٹ کرانا لازمی ہے۔

فوڈ ڈیلوری ڈرائیور زینگ لان نے کہا کہ کمپنی نے درخواست کی ہے کہ ہمیں کورونا ٹیسٹ کرانا لازمی ہے۔

اس کے علاوہ شاپنگ سینٹر کے قریب کاروبار بھی کھلے تھے جہاں بہت کم ہجوم تھا اور مارکیٹ میں موجود گارڈ شہروں کے ہیلتھ کوڈ کی چیکنگ کرنے میں مصروف تھے۔

’ہر طرف خاموشی‘

کافی ہاؤس کمپنی اسٹار بَکس کے مینجر نے کہا کہ ’ہر جانب بہت خاموشی ہے، میرے خیال سے نئی گائیڈلائنز کے بعد لوگ اب بھی گھروں سے باہر نکلنے میں گھبراہٹ کا شکار ہیں۔

بیجنگ کے ضلع چاؤیانگ میں موجود کلینک میں ’اے ایف پی‘ کے ایک رپورٹر نے دروازے پر لکیروں کے نشان دیکھے۔

ایک اور مقام پر کئی گاہک نزلہ اور بخار کی دوا کے لیے مقامی فارمیسی میں موجود تھے۔

ایک ملازم سُن کنگ نے کہا کہ ہمارے پاس نزلہ اور زکام کی دوائی کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے، یہاں تک کہ وٹامن سی کی ادوایات بھی ختم ہوگئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے کچھ دنوں سے زیرو کووڈ پالیسی میں نرمی کے بعد شہری ادویات خریدنے کے لیے گھروں سے باہر نکل رہے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بدقسمتی سے کچھ لوگ ضرورت سے زیادہ ادویات خرید رہے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں