سیلاب متاثرین کیلئےرہائشی یونٹس کاافتتاح، وزیراعظم کی کاروباری حضرات سے مزید گھر تعمیر کرنے کی درخواست

اپ ڈیٹ 08 دسمبر 2022
<p>وزیراعظم نے مزید کہا کہ سیلاب کی وجہ سے بجلی اور مواصلاتی نظام بھی درہم برہم ہوگیا تھا — فوٹو: ڈان نیوز</p>

وزیراعظم نے مزید کہا کہ سیلاب کی وجہ سے بجلی اور مواصلاتی نظام بھی درہم برہم ہوگیا تھا — فوٹو: ڈان نیوز

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان سمیت بیرون ممالک مقیم کاروباری حضرات سے درخواست کرتا ہوں کہ سیلاب متاثرین کے لیے 100، 100 یونٹس کے گھر تعمیر کرنے کی ذمہ داری لیں کیونکہ انسانی خدمت کی اس سے بڑی کوئی مثال نہیں ہو سکتی۔

ڈیرہ اسمٰعیل خان کے سیلاب متاثرین کے لیے رہائشی یونٹس کے حوالے سے اسلام آباد میں افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب کے دوران پہاڑ نما چیلنجز تھے مگر صوبائی حکومتوں سمیت تمام اداروں نے مل کر کام کیا۔

انہوں نے کہا کہ آج کی تقریب شاندار اس کی مثال ہے اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے معاونت بھی قابل تحسین ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں پاکستان کے تمام مخیر حضرات سے درخواست کرتا ہوں کہ اس مثال کو اپنائیں اور اس سے کوئی زیادہ بوجھ بھی نہیں آئے گا اور اگر آپ 100، 100 یونٹ کے گھر اپنے ذمہ لیں تو دنوں میں پورے پاکستان میں ہزاروں گھر تعمیر ہو جائیں گے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان سمیت بیرون ممالک مقیم پاکستانی مخیر حضرات سے درخواست کرتا ہوں کہ سیلاب متاثرین کے لیے سو، سو یونٹس کے گھر تعمیر کرنے کی ذمہ داری لیں کیونکہ انسانی خدمت کی اس سے بڑی کوئی مثال نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ریلیف فنڈ میں پانچ ارب روپے جمع ہوئے ہیں مگر ان کو 10 ارب روپے تک لے جانا چاہتے اور جب 10 ارب مکمل ہوں گے تو فیصلہ کریں گے کہ گھر بنانے ہیں یا ہسپتال۔

ان کا کہنا تھا کہ سیلابی صورتحال کے دوران این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم ایز، افواج پاکستان اور تمام اداروں نے شاندار کاکردگی کا مظاہرہ کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بھر میں سیلاب نے تباہی مچادی تھی مگر دوست ممالک نے بڑھ چڑھ کر امدادی سامان دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیلاب کی وجہ سے بجلی اور مواصلاتی نظام بھی درہم برہم ہوگیا تھا مگر متعلقہ حکام کی بروقت کوششوں سے بحالی ہوئی۔

شہباز شریف نے کہا کہ وزارت خزانہ نے چاروں صوبوں کے سیلاب متاثرین کے لیے 70 ارب روپے مہیا کیے جو شفاف طریقے سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت تقسیم کیے گئے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں