عمران خان پر حملے کی تحقیقات، فیصل واڈا ریکارڈ سمیت طلب

اپ ڈیٹ 09 دسمبر 2022
<p>فیصل واڈا نے پی ٹی آئی کے مارچ میں خون خرابے کا خدشہ ظاہر کیا تھا — فائل/فوٹو: ڈان نیوز</p>

فیصل واڈا نے پی ٹی آئی کے مارچ میں خون خرابے کا خدشہ ظاہر کیا تھا — فائل/فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان پر گزشتہ ماہ پنجاب کے ضلع وزیر آباد میں ہونے والے حملے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) نے فیصل واڈا کو ریکارڈ سمیت طلب کرلیا۔

حکومت پنجاب کی جانب سے سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی سربراہی میں قائم جے آئی ٹی نے پی ٹی آئی کے سابق وفاقی وزیر فیصل واڈا کو شامل تفتیش کرتے ہوئے بیان ریکارڈ کرنے کے لیے پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔

جے آئی ٹی نے فیصل واڈا کو کل (10 دسمبر) ریکارڈ سمیت پیش ہونے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ قومی شناختی کارڈ اور تمام دستاویزات کے ساتھ پیش ہوں۔

فیصل واڈا نے پی ٹی آئی کے آزادی مارچ سے قبل پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ مارچ میں خون خرابے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے اور مجھے خون ہی خون نظر آرہا ہے۔

حکومت پنجاب کی جے آئی ٹی نے پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں یاسمین راشد، حماد اظہر، فیصل جاوید، عمران اسمٰعیل، عمر سرفراز چیمہ، فیصل جاوید سمیت 35 افراد کو طلب کیا ہے۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان پر حملے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی صوبائی حکومت کی جے آئی ٹی میں متعدد مرتبہ تبدیلی کی گئی اور سربراہ کو بھی تبدیل کردیا گیا تھا۔

11 نومبر کو ڈان اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ حکومت پنجاب نے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان پر قاتلانہ حملے اور وزیرآباد پولیس کی جانب سے مقدمے میں ایف آئی آر کے اندراج کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے۔

اس جے آئی ٹی کی سربراہی ڈی آئی جی (اسٹیبلشمنٹ)II اور سی پی او لاہور طارق رستم چوہان کر رہے تھے جبکہ اس کے 4 ارکان تھے جن میں ڈیرہ غازی خان کے ریجنل پولیس افسر سید خرم علی، اے آئی جی/مانیٹرنگ احسان اللہ چوہان، انویسٹی گیشن برانچ وہاڑی کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر محمد ظفر بزدار اور سی ٹی ڈی لاہور کے ایس پی نصیب اللہ خان شامل تھے۔

بعد ازاں حکومت پنجاب نے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان پر قاتلانہ حملے اور وزیر آباد پولیس کی جانب سے مقدمے میں ایف آئی آر کے اندراج کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی 5 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی 24 گھنٹے کے اندر ہی تشکیل نو کردی تھی۔

محکمہ داخلہ کی جانب سے بنائی گئی دوسری جے آئی ٹی کے سربراہ ڈی آر پی او ڈیرہ غازی خان سید خرم علی تھے، دیگر ارکان میں ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ طارق رستم چوہان، اے آئی جی مانیٹرنگ انویسٹی گیشن برانچ کے احسان اللہ چوہان، ایس پی پوٹھوہار ڈویژن راولپنڈی ملک طارق محبوب اور ایس پی سی ٹی ڈی لاہور نصیب اللہ خان شامل تھے۔

حکومت پنجاب نے تیسری مرتبہ جے آئی ٹی کی تشکیل نو کی اور 15 نومبر کو ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ پنجاب کی ہدایت پر جاری نوٹی فکیشن میں بتایا گیا کہ کیپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) لاہورغلام محمود ڈوگر کو جے آئی ٹی کا سربراہ مقرر کردیا گیا ہے۔

نوٹی فکیشن میں بتایا گیا کہ جے آئی ٹی کے دیگر ارکان میں ڈیرہ غازی خان کے ریجنل پولیس افسر سید خرم علی، اے آئی جی مانیٹرنگ احسان اللہ چوہان، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) پوٹھوہار ڈویژن راولپنڈی ملک طارق محبوب اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) پنجاب کے ایس پی لاہور نصیب اللہ خان شامل ہیں۔

یاد رہے کہ 3 نومبر کو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران وزیر آباد میں نامعلوم مسلح شخص کی فائرنگ سے سابق وزیراعظم عمران خان اور سینیٹر فیصل جاوید سمیت متعدد رہنما زخمی اور ایک شہری جاں بحق ہوگیا تھا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں