کراچی کے علاقے کورنگی میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ایک اور نوجوان قتل کردیا گیا جبکہ شہریوں کے ہتھے چڑھنے والا ایک مبینہ ملزم بھی تشدد کے نتیجے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

پولیس اور ریسکیو سروسز کے مطابق ڈکیتی مزاحمت پر ڈاکوؤں نے 23 سالہ اظہر مسعود کی جان لے لی جبکہ فائرنگ سے مقتول کے والد اور راہ گیر زخمی ہوگئے جنہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

ایس ایس پی کورنگی ساجد امیر سدوزئی نے بتایا کہ کورنگی کے ایریا میں مسلح ڈاکوؤں نے اظہر مسعود سے ان کے گھر کے باہر موٹرسائیکل چھیننے کی کوشش کی، مزاحمت کرنے پر ڈاکوؤں نے نوجوان کو گولی مار کر قتل کر دیا۔

مقتول کے 50 سالہ والد مسعود اختر گھر سے باہر آئے اور ایک ملزم کو پکڑ لیا، تاہم ملزمان کی فائرنگ کے نتیجے میں وہ اور اسامہ نامی ایک 30 سالہ شہری بھی زخمی ہو گئے۔

واقعے کے بعد جائے وقوع پر شہریوں کا ہجوم جمع ہوگیا جنہوں نے ایک مشتبہ ملزم کو پکڑ لیا، بعدازاں ہجوم کے شدید تشددکے نتیجے میں مبینہ ملزم بھی موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔

ترجمان ایدھی فاؤنڈیشن نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے ملزم کی عمر 30 سال تھی جس کی فوری طور پر شناخت نہیں ہو سکی، لاشوں اور زخمیوں کو جناح ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

ایس ایچ او عوامی کالونی کے مطابق شہریوں کے تشدد سے ہلاک ہونے والے ڈاکو کے قبضے سے اسلحہ اور موٹر سائیکل برآمد ہوئی ہے، مزید تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

واضح رہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ڈگیتی کی وارداتوں کے ساتھ ساتھ مزاحمت کے نتیجے میں شریوں کی قتل کی وارداتوں میں بھی اضافی ہو رہا ہے۔

2 روز قبل بھی کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا طالب علم مبینہ طور پر ڈکیتی کے دوران مزاحمت کرنے پر لٹیروں کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگیا تھا۔

پولیس کے مطابق سماما شاپنگ مال کے قریب کوئٹہ ہوٹل پر ڈکیتی کے دوران مزاحمت کرنے پر نامعلوم مشتبہ لٹیروں نے فائرنگ کرکے 21 سالہ بلال ناصر کو قتل کر دیا تھا۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کا کہنا تھا کہ مقتول کو سینے، گردن اور ٹانگ پر تین گولیاں لگی تھیں۔

کراچی میں تواتر سے اس قسم کی واردتیں ہو رہی ہیں اور 27 نومبر کو کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں مبینہ طور پر ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر ایک آدمی کو ہلاک اور ان کے 2 بچوں کو زخمی کرنے پر مشتعل ہجوم نے پولیس کے پہنچنے سے قبل 2 مشتبہ لٹیروں کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا جو بعد ازاں دم توڑ گئے تھے۔

سرجانی تھانے کے اسٹیشن ہاؤس افسر یسیٰن گجر نے بتایا تھا کہ موٹرسائیکل سوار 2 مسلح افراد نے دو بھائیوں سے سیکٹر 7 اے میں ان کے گھر کے سامنے موبائل فون اور نقدی چھینی۔

انہوں نے بتایا تھا کہ ڈکیتی کی واردات جاری تھی کہ ان کے 60 سالہ والد گھر سے باہر آئے، مشتبہ افراد نے انہیں گولی مار دی۔

قبل ازیں 29 اکتوبر کو کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں مبینہ ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر دکاندار کو فائرنگ کرکے قتل کرنے پر مشتبہ ڈاکو کو مشتعل ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا تھا، بعد ازاں وہ دم توڑ گیا تھا۔

شاہراہ فیصل پولیس نے بتایا تھا کہ گلستان جوہر کے بلاک 18میں قاسم پیراڈائیز کے قریب 18 سالہ شہریار نظیر مبینہ ڈکیتی پر مزاحمت پر لٹیروں کی گولی سے جاں بحق ہوگیا تھا۔

دوسری جانب شہریوں نے نامعلوم ڈکیت کو پکڑ کر مارا اور پھر پولیس کے حوالے کر دیا، بعد ازاں وہ زخمیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا تھا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں