سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ، غیرسرکاری نتائج کا سلسلہ جاری

<p>کراچی اور حیدر آباد میں پولنگ کا عمل 5 ختم ہوتے ہی ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی—فوٹو: عمیر علی</p>

کراچی اور حیدر آباد میں پولنگ کا عمل 5 ختم ہوتے ہی ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی—فوٹو: عمیر علی

<p>ووٹوں کی گنتی شروع کردی گئی ہے—فوٹو: ڈان نیوز</p>

ووٹوں کی گنتی شروع کردی گئی ہے—فوٹو: ڈان نیوز

<p>کراچی میں بلدیاتی انتخابات میں ووٹنگ کے لیے لوگ پولنگ اسٹیشن کے باہر قطار میں کھڑے ہیں — فوٹو: ڈان نیوز</p>

کراچی میں بلدیاتی انتخابات میں ووٹنگ کے لیے لوگ پولنگ اسٹیشن کے باہر قطار میں کھڑے ہیں — فوٹو: ڈان نیوز

<p>ایک ووٹو اپنا ووٹ ڈال رہا ہے — فوٹو: ڈان نیوز</p>

ایک ووٹو اپنا ووٹ ڈال رہا ہے — فوٹو: ڈان نیوز

<p>کراچی اور حیدرآباد کے 16 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے دوران 80 لاکھ سے زائد ووٹرز اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے — فوٹو: اے پی پی</p>

کراچی اور حیدرآباد کے 16 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے دوران 80 لاکھ سے زائد ووٹرز اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے — فوٹو: اے پی پی

سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی پولنگ کے بعد غیرسرکاری اور غیرحتمی نتائج کا سلسلہ جاری ہے جہاں پاکستان پی پیپلزپارٹی (پی پی پی) کو ضلع ملیر کی 29 نشستوں پر کامیابی ملی ہےا ہے۔

کراچی میں بلدیاتی نتائج آنے میں غیرمعمولی تاخیر ہو رہی ہے، جس پر جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے مداخلت کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

کراچی کے ضلع ملیر سے موصول غیرحتمی اور غیرسرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کو کامیابی ملی جہاں گڈاپ، ملیر اور ابراہیم حیدری میں یونین کمیٹی چیئرمین اور وائس چیئرمین کی 29 نشستیں حاصل کرلیں۔

غیرحتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق ضلع ملیر میں گلشن حدید کی یوسی-4 میں پی پی پی کو جماعت اسلامی سے شکست کا سامنا کرنا پڑا جہاں چیئرمین اور وائس چیئرمین کی نشست جماعت اسلامی نے جیت لی۔

چیئرمین پی پی پی اور وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئٹر پر کہا کہ پی پی پی نے بلدیاتی انتخابات میں سوئپ کر لیا ہے۔

دوسری جانب جماعت اسلامی کراچی کے امیر اور میئر کے امیدوار حافظ نعیم الرحمٰن اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے نتائج میں گڑ بڑ کے الزامات عائد کیے۔

حافظ نعیم نے کہا کہ نتائج مکمل ہونے کے باوجود پولنگ ایجنٹس کو فارم 11 اور فارم 12 فراہم نہیں کیے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کے چند ڈی سیز جو ڈی آر او ہیں، مداخلت کر رہے ہیں اور فارم فراہم کرنے سے روکا جا رہا ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی نے ٹوئٹر پر ویڈیوز جاری کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے مداخلت کا مطالبہ کیا۔

پی ٹی آئی نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ ’صرف 21 ووٹ کاسٹ ہوئے لیکن بیلٹ بکس میں 250 سے 300 ووٹ موجود ہیں کیا الیکشن کمیشن سو رہا ہے‘۔

ووٹنگ کا عمل پرامن انداز میں مکمل

قبل ازیں سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل مجموعی طور پر شفاف اور پرامن طریقے سے مکمل ہوا البتہ چند مقامات سے بدامنی اور انتخابی بے ضابطگیوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

صبح 8 بجے شروع ہونے والی پولنگ کا عمل شام 5 بجے تک جاری رہا جبکہ الیکشن کمیشن نے واضح کیا تھا کہ پولنگ کے وقت میں اضافہ نہیں کیا جائے گا اور 5 بجے کے بعد صرف پولنگ اسٹیشنز کے اندر موجود شہریوں کو حق رائے دہی استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں بلدیاتی انتخابات کے کامیاب انعقاد پر حکومت سندھ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مبارک باد دی اور انتخابی عملے کے ساتھ مکمل تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

ترجمان الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چیف الیکشن کمشنر نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو جمہوریت کے لیے نیک شگون قرار دیا۔

کراچی میں بڑے پیمانے پر پرامن پولنگ

کراچی میں سیکیورٹی کے سخت اقدامات کے باعث شہر میں بلدیاتی انتخابات کے دوران معمولی واقعات کے علاوہ بڑے پیمانے پر پرامن انداز میں ووٹنگ کا عمل مکمل ہوا۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو نے اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ معمولی واقعات کے علاوہ مجموعی طور پر شہر بھر سے کسی بڑے ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔

انہوں نے کہا کہ امن یقینی بنانے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مبارک باد دی اور کہا کہ کسی پولنگ اسٹیشن میں ووٹنگ کے عمل میں تعطل نہیں آیا۔

گلشن معمات کی یو سی-8 اور یو سی-6 میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ اور نعرے بازی کی اطلاعات ملیں۔

ایس ایچ او سائٹ سپر ہائی وے انڈسٹریل ایریا پولیس فیصل جعفری کا کہنا تھا کہ دو مخالف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے نعرے بازی کی، جس کے نتیجے میں ماحول میں کشیدگی پیدا ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ان کے ساتھ بات کی اور صورت حال بہتر کی۔

پولیس کے مطابق منگھوپیر کے علاقے سلطان آباد میں ایک پولنگ اسٹیشن پر دو سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تاہم پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور صورت حال پر قابو پالیا۔

نارتھ کراچی یو سی-3 میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے انتخابی عملے سے ’بدتمیزی‘ کی، جس سے تھوڑی دیر کے لیے پولنگ کا عمل متاثر ہوا، جس کے بعد پولیس نے وہاں پہنچ کر ووٹنگ دوبارہ شروع کرادی۔

یو سی-2 نیو کراچی میں بھی دو سیاسی جماعتوں کے درمیان تصادم ہوا اور پولنگ کا عمل متاثر ہو لیکن پولیس کی مداخلت سے ووٹنگ کا عمل شروع ہوا۔

پولیس نے مزید بتایا کہ الفلاح پولیس کی حدود میں واقع ناصرہ اسکول پر دو سیاسی جماعتوں کے درمیان جھگڑا ہوا جہاں ایک شہری زخمی ہوا تاہم صورت حال قابو میں رہی۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کا کہنا تھا کہ دو افراد کو زخمی حالت میں شہر کے مختلف ہسپتالوں میں لایا گیا، جو پولنگ کے دوران جھگڑوں میں زخمی ہوئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک زخمی کو عباسی شہید ہسپتال لایا گیا تھا اور دعویٰ کیا کہ وہ یو سی-8 اورنگی ٹاؤن کی قصبہ کالونی میں زخمی ہوا تھا۔

پیرآباد تھانے کے ایس ایچ او احمد پنہور نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ جھگڑے کا آج کی پولنگ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

پولیس سرجن نے بتایا کہ دوسرے زخمی کو سول ہسپتال لایا گیا تھا اور یہ بھی تصادم میں زخمی ہوا اور انہیں طبی امداد کے لیے ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

اس سے قبل کراچی کے ضلع ملیر میں قائم بن قاسم پولنگ اسٹیشن سے بھی تصادم کی اطلاع ملی تھی۔

ملیر کے سینئر سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) عرفان بہادر کے مطابق ووٹرز نے شکایت کی بیلٹ پیپر پر تحریک لبیک کا انتخابی نشان موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے پولنگ کا عمل روک دیا گیا۔

عرفان بہادر نے کہا کہ نئے بیلٹ پیپرز آنے کے بعد پولنگ کے عمل کو دوبارہ شروع کردیا گیا۔

پی ٹی آئی رہنما کی بیلٹ بکس کے حوالے سے شکایت

اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی فردوس شمیم نقوی نے کراچی میں پولنگ اسٹیشن کا دورہ کیا اور ایک ویڈیو شیئر کی جس میں وہ بیلٹ بکس کی سیل کھلی ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صبح سے پولنگ اسٹیشن میں کوئی بھی عملہ موجود نہیں، ایک کمرے میں 5 بکس رکھے ہوئے ہیں، الیکشن کمیشن کی طرف سے کوئی خاتون عملہ موجود نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پریذائیڈنگ افسر کی کوئی ٹریننگ نہیں کی گئی، تمام بکس کی سیل کھلی ہے جو الیکشن کمیشن والوں کے لیے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے، یہ کام امیدوار کا نہیں ہے۔

کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں جاری بلدیاتی انتخابات کے لیے ووٹرز کی مجموعی تعداد 80 لاکھ سے زائدتھی۔

صوبے کے 16 اضلاع میں ووٹرز کو چیئرمین اور وائس چیئرمین کے عہدے کے لیے 17 ہزار 863 امیدواروں میں سے اپنے بلدیاتی نمائندوں کے انتخاب کا موقع ملے گا۔

کراچی میں 4 ہزار997 اور حیدرآباد ڈویژن میں 8 ہزار876 پولنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں جہاں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

کراچی میں قائم پولنگ اسٹیشنز میں سے ضلع جنوبی میں ایک ہزار 48، ضلع شرقی میں 2 ہزار 46، ضلع غربی میں ایک ہزار 903 پولنگ اسٹیشنز شامل ہیں۔

ان میں سے تقریباً 8 ہزار153 پولنگ اسٹیشنز کو حساس یا انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اس وقت اہم پیش رفت ہوئی تھی جب حال ہی میں تمام دھڑوں کے انضمام کا اعلان کرنے والی متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم) پاکستان نے بلدیاتی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔

یاد رہے کہ کراچی کے سابقہ میئر وسیم اختر کا تعلق متحدہ قومی مومنٹ سے تھا۔

بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے ساتھ ہی چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے کراچی اور حیدرآباد ڈویژن کے عوام سے گزارش کی کہ وہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے کر جمہوریت پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کریں۔

انہوں نے کہا کہ اسپیشل سیکریٹری اور سیکریٹری الیکشن کمیشن صوبائی الیکشن کمیشن کے دفتر سے انتخابات کی نگرانی کر رہے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ میں مرکزی کنٹرول روم قائم ہے اور انتخابی نتائج تک فعال رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی شکایت کی صورت میں عوام سینٹرل اور صوبائی الیکشن کمیشن کے دفتر میں اپنی شکایات درج کرا سکتے ہیں۔

انہوں نے الیکشن کمیشن کو ہدایات دیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی قسم کی مداخلت اور شرپسندی سے سختی سے نمٹا جائے اور الیکشن کمیشن، انتخابی عملہ اور امن و امان قائم کرنے والے تمام ادارے کراچی اور حیدرآباد کے عوام کے اعتماد پر پورا اتریں۔

پولیس کا سیکیورٹی پلان

کراچی پولیس کے ترجمان نے شہر میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کیے گئے سیکیورٹی منصوبے کے بارے میں بتایا کہ 43 ہزار 605 سے زائد اہلکار سیکیورٹی کے فرائض انجام دیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ زون شرقی میں مجموعی طور پر 17 ہزار 588 افسران اور اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، ان میں ضلع شرقی میں 6 ہزار 533، ضلع ملیر میں 4 ہزار 837 اور ضلع کورنگی میں 6 ہزار 218 اہلکار شامل ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ زون جنوبی میں 11 ہزار 627 افسران اور اہلکار اپنے فرائض انجام دیں گے، جن میں ضلع جنوبی میں 2 ہزار 155، ضلع سٹی میں 4 ہزار 558 اور ضلع کیماڑی میں 4 ہزار 914 اہلکار شامل ہیں۔

شہر میں بلدیاتی انتخابات کے دوران سیکیورٹی کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زون غربی میں مجموعی طور پر 14 ہزار 390 افسران اور اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جن میں ضلع وسطی میں 9 ہزار 672 اور ضلع غربی میں 4 ہزار 718 اہلکار شامل ہیں۔

ترجمان پولیس نے کہا کہ شہر میں قائم کیے گئے 4 ہزار 997 پولنگ اسٹیشنز پر 26 ہزار 50 پولیس افسران اور اہلکار الیکشن ڈیوٹی سر انجام دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ضلع جنوبی میں ایک ہزار 48 پولنگ اسٹیشنز میں 5 ہزار 844، ضلع شرقی میں 2 ہزار 46 پولنگ اسٹیشنز میں 11 ہزار 206 اور ضلع غربی میں ایک ہزار 903 پولنگ اسٹیشنز پر 9 ہزار افسران اور اہلکار اپنی ڈیوٹی سر انجام دیں گے۔

انہوں نے سیکیورٹی اہلکاروں کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان میں 3 ہزار 968 کوئیک رسپانس فورس، 6 ہزار 600 اہلکار بطور ریزرو، 7 ہزار 642 معاون اہلکار اور 3 ہزار 180 متفرق اہلکار بھی تعینات کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھاکہ پولیس کی معاونت کے لیے ایف سی کے 200 اور رینجرز کے 500 اہلکار بھی الیکشن کی ڈیوٹی پر مامور ہوں گے۔

ترجمان کراچی پولیس نے بتایا کہ کراچی پولیس دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہمراہ عوام کی جان و مال محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

تحریک انصاف کا پولنگ کے وقت میں 7 بجے تک اضافے کا مطالبہ

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی زیدی نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلدیاتی انتخابات میں پولنگ کے وقت میں کم از کم 2 گھنٹے کی توسیع کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پولنگ کا آغاز دیر سے ہوا لہٰذا پولنگ کے وقت میں دو گھنٹے اضافے کے ساتھ اسے شام 7 بجے تک توسیع دی جائے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ لیاقت آباد میں پولنگ اسٹیشن میں 70 سے 80 لوگ ماسک لگا کر پہنچ گئے ہیں اور سب لوگ قطار بنا کر کھڑے ہو گئے، یہ ان کے دھاندلی کے پرانے ہتھکنڈے ہیں۔

علی زیدی نے کراچی اور حیدرآباد کے عوام سے اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے ہیں کیونکہ وہ جتنی بڑی تعداد میں ووٹ ڈالیں گے اتنا ہی ان کا فائدہ ہے، اپنے بلدیاتی نمائندوں کو منتخب کریں کیونکہ وہی مسئلے حل کریں گے۔

پولنگ اسٹیشنز پر پولیس کی نفری بھی تعینات ہے، صوبائی الیکشن کمشنر

صوبائی الیکشن کمشنر اعجاز انور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہر میں پولنگ کے دوران سیکیورٹی کے حوالے سے کہا تھا کہ حساس پولنگ اسٹیشنز پر ایف سی اہلکار تعینات کیے جارہے ہیں، 500 کے قریب حساس پولنگ اسٹیشنز پر رینجرز کی اسٹیٹک تعیناتی بھی کی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولنگ اسٹیشنز پر پولیس کی نفری بھی تعینات ہے اور اس حوالے سے بھی پورا پلان موجود ہے۔

پی پی پی کی بے ضابطگیوں کی شکایت

ادھر پیپلز پارٹی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ کر کراچی میں انتخابی عمل کے دوران بے ضابطگیوں کی شکایت کا بتایا گیا۔

خط میں کہا گیا تھا کہ کراچی کے کورنگی ٹاؤن میں نیو ایج گرامر اسکول میں پولنگ کا سامان موجود نہیں ہے اور کورنگی ٹاؤن میں پی پی پی کے انتخابی کیمپوں پر حملے کے بعد پولنگ اسٹیشن 103 اور 104 میں ناقص سیکیورٹی صورتحال کے باعث ووٹرز خوف زدہ ہیں۔

دوسری جانب مٹیاری میں خواتین کی بڑی تعداد نے ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ اسٹیشنز پر کا رخ کیا ہے۔

حیدرآباد میں کم ٹرن آؤٹ

دوسری جانب حیدر آباد میں پولنگ اسٹیشنز پر کم ٹرن آؤٹ دیکھا جارہا ہے۔

حیدرآباد میں ڈپٹی کمشنر فواد سومرو نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولنگ پرامن انداز میں چل رہی ہے اور ابھی تک کہیں سے بھی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔

ادھر وحدت کالونی میں خواتین کے پولنگ اسٹیشن پر امن و امان کی خراب صورتحال اور پیپلز پارٹی اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے حامیوں کے درمیان ہاتھا پائی کی اطلاعات موصول ہوئیں، تاہم اس کے باوجود پولنگ کا عمل بدستور جاری ہے۔

ادھر چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کراچی، حیدر آباد اور دادو کے عوام سے بلدیاتی نمائندوں کو ووٹ دینے کی اپیل کی ہے۔

انہوں نے عوام سے کہا کہ اگر وہ زندگیاں بدلنا چاہتے ہیں تو آج ان کا ووٹ اہمیت کا حامل ہے۔

انتخابی عمل کے آغاز کے تین گھنٹے بعد جماعت اسلامی کراچی کے امیر اور میئر کے عہدے کے لیے نامزد حافظ نعیم الرحمٰن نے انتخابات کے دوران سیکیورٹی کی صورت حال اور پرامن ماحول پر اطمینان کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ میں سیکیورٹی فورسز کو سراہنا چاہتا ہوں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ریپڈ ریسپانس فورس بھی کچھ نقل و حرکت دکھائے، انہیں مصروف اور مشہور مقامات پر متحرک نظر آنا چاہے تاکہ لوگوں کو اعتماد ہو کہ سیکیورٹی صورتحال بہتر ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ کچھ پولنگ اسٹیشنز کو سازش کے تحت جلا دیا گیا جہاں لوگوں کو ووٹنگ سے روکنے کی کوشش بھی کی گئی لیکن میں خصوصی پر لانڈھی اور لیبر اسکوائر کے عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے ان دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف عوام ان کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور اگر لوگ باہر آئیں تو کسی میں بھی انتخابی عمل میں خلل ڈالنے کی ہمت نہیں ہوگی۔

سعید غنی بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ڈال رہے ہیں— فوٹو: ڈان نیوز
سعید غنی بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ڈال رہے ہیں— فوٹو: ڈان نیوز

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے یو سی 8 چنیسر ٹاؤن میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا اور میڈیا سے گفتگو کی۔

سعید غنی نے کہا کہ کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے نتائج کے بعد پیپلز پارٹی شہر کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھرے گی، میں ایک سال سے زیادہ عرصے سے کہہ رہا ہوں کہ کراچی شہر بھٹو کا ہے اور ان شا اللہ آج کے انتخابات کے نتائج یہ بات ثابت کریں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی کا میئر ’پیپلز پارٹی کا جیالا‘ ہوگا اور لوگوں سے اپیل کی کہ وہ باہر نکلیں اور اپنا ووٹ دیں۔

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے کراچی کے ضلع شرقی کے علاقے سہراب گوٹھ ٹاؤن میں یو سی 2 میں آنے والے پی ٹی آئی کے کیمپ کا دورہ کیا۔

پی ٹی آئی کراچی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ پی ٹی آئی کے کیمپ میں عوام کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے۔

ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ کیمپ میں درجنوں لوگ جمع ہیں جبکہ حلیم عادل شیخ کیمپ میں سرگرمیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

اس سے قبل وفاقی وزارت داخلہ نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر سندھ میں 15 جنوری کو بلدیاتی انتخابات کے دوران فوج اور رینجرز کی تعیناتی سے معذرت کر لی تھی۔

خط میں کہا گیا تھا کہ وزارت داخلہ نے فوج اور رینجرز کی تعیناتی کا معاملہ جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کے ساتھ اٹھایا تھا تاہم جواب دیا گیا کہ الیکشن کے دوران اتنی بڑی تعداد میں تعیناتی ممکن نہیں ہے۔

خط میں کہا گیا تھا کہ پہلے درجے پر اسٹیٹک تعیناتی صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، انتخابی عملے اور مواد کو سیکیورٹی دینا ممکن نہیں اس لیے الیکشن کمیشن صرف 500 حساس پولنگ اسٹیشنز کی نشاندہی کرے۔

وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ 500 حساس پولنگ اسٹیشنز کے باہر رینجرز کی اسٹیٹک تعیناتی کی جاسکتی ہے۔

بلدیاتی انتخابات ملتوی ہونے کا معاملہ

یاد رہے کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کی مدت 30 اگست 2020 کو ختم ہوگئی تھی، جس کے بعد الیکشن کمیشن 120 دن کے اندر نئے بلدیاتی انتخابات کرانے کا پابند تھا لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا۔

سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ دراصل 24 جولائی 2022 کو شیڈول تھا لیکن ملک بھر بالخصوص سندھ میں سیلاب کی وجہ سے انتخابی عمل ملتوی کرنا پڑا تھا۔

بعد ازاں الیکشن کمیشن نے 28 اگست 2022 کو بلدیاتی انتخابات کا شیڈول دوبارہ ترتیب دیا لیکن کراچی میں سیلاب کی صورت حال اور پولیس اہلکاروں کی کمی کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات ایک مرتبہ پھر مؤخر کر دیے گئے تھے۔

الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے 23 اکتوبر 2022 کی تاریخ مقرر کی تھی تاہم صوبائی حکومت کی درخواست پر ملتوی کردیے گئے تھے۔

بعد ازاں الیکشن کمیشن نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے 15 جنوری کو صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا تھا۔

اسی طرح سندھ ہائی کورٹ نے بھی ایم کیو ایم پاکستان کی درخواست مسترد کردی تھی۔

ایم کیوایم کی جانب سےحلقہ بندیوں پر تحفظات کے پیش نظر 13 جنوری کو حکومت سندھ نے رات گئے کراچی، حیدر آباد اور دادو میں 15 جنوری کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ حیدرآباد، دادو اور کراچی میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہوں گے لیکن 15 جنوری کو ضلع ٹنڈو الہ یار، بدین، سجاول، ٹھٹہ، ٹنڈو محمد خان اور مٹیاری میں حکومت سندھ بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے تیار ہے اور وہاں کے لوگ الیکشن کی مکمل طور پر تیاری کریں اور وہاں الیکشن ملتوی نہیں ہوں گے۔

صوبائی حکومت نے اس کے علاوہ کراچی اور حیدرآباد میں حلقہ بندیاں ختم کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا تھا اور الیکشن کمیشن کو سیکیورٹی خدشات کے حوالے سے اداروں کی رپورٹ سے بھی آگاہ کیا،

دوسری جانب الیکشن کمیشن نے حکومت سندھ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ بلدیاتی انتخابات 15 جنوری کو ہی منعقد ہوں گے۔

سندھ میں 26 جون 2022 کو پہلے مرحلے میں سکھر، لاڑکانہ، شہید بینظیر آباد اور میرپورخاص ڈویژن کے 14 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہوا تھا۔

ان 4 ڈویژن سکھر، لاڑکانہ، شہید بینظیر آباد اور میرپورخاص شامل کے 14 اضلاع میں گھوٹکی، سکھر، خیرپور، لاڑکانہ، قمبر شہداد کوٹ، کشمور ۔ کندھ کوٹ، شکارپور، جیکب آباد، نوشہرو فیروز، شہید بینظیر آباد، سانگھڑ، میرپورخاص، عمر کوٹ اور تھرپارکر شامل تھا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں