کافی پینے سے جگر کی چربی کم ہونے کا امکان

اپ ڈیٹ 20 جنوری 2023
<p>—فوٹو: شٹر اسٹاک</p>

—فوٹو: شٹر اسٹاک

ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ فربہ جسم اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کے حامل افراد اگر کافی کا استعمال بڑھادیں تو نہ صرف ان کا وزن کم ہوسکتا ہے بلکہ وہ جگر پر چربی کے حملے سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔

جگر پر چربی بڑھنے کی متعدد وجوہات ہیں، جس میں عام سبب شراب و سگریٹ نوشی بھی ہے، تاہم غذائی عادتوں کے علاوہ موٹاپا بھی جگر پر چربی کی بڑی وجہ ہے۔

جگر پر موٹاپے اور غذائی عادتوں کے باعث ہونے والی چربی کو ’نان الکوحلک فیٹی لوور ڈیزیز‘ (این اے ایف ایل ڈی) کہا جاتا ہے

جگر پر چربی بڑھنا ایک عام بیماری ہے، جس کا طبی ماہرین مختلف طریقوں سے علاج کرتے ہیں، اس کے لیے ماہرین بہت ساری غذائیں کھانے سے بھی روکتے ہیں۔

جگر پر چربی کو کم کرنے کے حوالے سے حال ہی میں پرتگالی ماہرین کی جانب سے کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا کہ زیادہ کافی پینے سے اسے کم کیا جا سکتا ہے۔

طبی جریدے میں شائع تحقیق کے مطابق پرتگالی ماہرین نے کافی کے جگر کی چربی پر پڑنے والے اثرات کے لیے 156 افراد پر تحقیق کی۔

تحقیق میں شامل تمام رضاکار ادھیڑ عمر کے تھے جو نہ صرف زائد الوزن تھے بلکہ ان میں 98 رضاکار ایسے بھی تھے جنہیں ذیابیطس ٹائپ ٹو بھی لاحق تھا۔

ماہرین نے تمام رضاکاروں کو کافی پینے کی ہدایات کیں، جس کے بعد ماہرین یومیہ بنیادوں پر ان کے پیشاب کے ٹیسٹ سمیت دیگر ٹیسٹس کرتے رہے اور ان کے جسم اور خون میں ہونے والی تبدیلیوں کو نوٹ کرتے رہے۔

دوران تحقیق ماہرین نے رضاکاروں کی جانب سے کافی کے استعمال کو بھی دیکھا اور نوٹ کیا کہ کون زیادہ اور کون کم کافی استعمال کر رہا ہے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ زیادہ کافی پینے والے وہ افراد جنہیں ذیابیطس ٹائپ ٹو بھی لاحق تھا ان کے جگر کی چربی میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔

نتائج سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کافی پینے سے وزن میں بھی کم آئی جب کہ میٹابولک بہتر ہونے سے رضاکاروں کی غذائی عادات بھی تبدیل ہوئیں۔

ماہرین نے تجویز دی کہ جگر کی چربی کی بیماری اور ذیابیطس ٹائپ ٹو میں مبتلا افراد یومیہ کافی یا ’کیفین‘ کا زیادہ استعمال کریں تو انہیں فائدہ مل سکتا ہے۔

اس سے پہلے ہونے والی متعدد تحقیقات میں کافی پینے کو کئی بیماریوں کے لیے بہتر قرار دیا جا چکا ہے، تاہم حال ہی میں سامنے آنے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ شدید بلڈ پریشر کے حامل افراد کے لیے کافی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں