ندا ڈار ویمن کرکٹ ٹیم کی کپتان، مارک کولز ہیڈ کوچ مقرر

06 اپريل 2023
36 سالہ ندا ڈار کو بسمہ معروف کی جگہ کپتان بنایا گیا ہے—فوٹو:آئی سی سی
36 سالہ ندا ڈار کو بسمہ معروف کی جگہ کپتان بنایا گیا ہے—فوٹو:آئی سی سی

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سال بھر کے دوران جاری رہنے والے میچز سے قبل آل راؤنڈر ندا ڈار کو خواتین کی قومی کرکٹ ٹیم کا کپتان مقرر کر دیا جب کہ نیوزی لینڈ کے مارک کولز کو ایک بار پھر ہیڈ کوچ تعینات کردیا گیا۔

36 سالہ ندا ڈار کو بسمہ معروف کی جگہ کپتان بنایا گیا ہے جنہوں نے فروری میں جنوبی افریقہ میں ہونے والے ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی مایوس کن کارکردگی کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا جہاں ٹیم اپنے چار میں سے تین میچ ہار گئی تھی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ مارک کولز کو خواتین کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کے طور پر دوسری مدت کے لیے واپس لایا۔

کرکٹ بورڈ نے اپنی جاری پریس ریلیز میں کہا کہ یہ ندا ڈار اور مارک کولز کی تقرریاں پی سی بی کے ویژن اور خواتین کرکٹ کی بہتری کے لیے مزید سرمایہ کاری کرنے کی حکمت عملی کی روشنی میں کی گئی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پی سی بی امید کرتا ہے کہ ان تقرریوں سے ٹیم کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا جب کہ پاکستان ستمبر اور اکتوبر میں جنوبی افریقی ٹیم کی میزبانی کرے گا اور اس کے بعد اکتوبر اور دسمبر کے درمیان بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کا دورہ کرےگا۔

پاکستان 2024 میں بنگلہ دیش میں ہونے والے آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ اور 2025 میں بھارت میں 8 ٹیموں پر مشتمل آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ میں بھی شرکت کرے گا۔

ندا ڈار 2010 میں گوانگزو اور 2014 میں انچیون میں ہونے والے ایشین گیمز میں سونے کا تمغہ جیتنے والی پاکستانی ٹیموں کا بھی حصہ تھیں۔

ندا ڈار نے پی سی بی کے فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان مقرر ہونے پر مجھے فخر ہے، یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے اور ٹیم کی قیادت کرنے کے لیے پرجوش ہوں۔

دوبارہ تعینات ہونے والے ہیڈ کوچ مارک کولز 2017 سے 2019 تک پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ساتھ اس عہدے پر منسلک رہ چکے ہیں۔

پی سی بی کی جاری ریلیز میں مارک کولز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ہماری ٹیم میں بہت زیادہ صلاحیت ہے، میں عالمی سطح پر بہترین کارکردگی دکھانے اور کامیابی حاصل کرنے کے لیے کھلاڑیوں کی مدد کرنے کا منتظر ہوں۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں