بلوچستان کے ضلع پنجگور میں موسلا دھار بارشوں، سیلاب کے نتیجے میں مزید 5 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ پنجگور میں سیلاب کے باعث مکمل بھرنے کے بعد ڈیمز خطرے میں ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق حب ڈیم میں 339 فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے وہ مکمل بھر چکا ہے، اس میں مزید پانی کی گنجائش نہیں ہے۔

واپڈا کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دریا حب میں سیلاب کے سبب قریب رہنے والے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کو کہا گیا ہے۔

حکام نے بتایا کہ پنجگور، قلات، خضدار، نصیر آباد، کچھی، آواران، حب، لسبیلہ، سبی، جھل مگسی اور دیگر کئی علاقوں میں بڑی تعداد میں کچے مکانات گرگئے جس سے ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے، پنجگور میں تین روز سے جاری بارش کے باعث کئی دیہات زیر آب آگئے اور سیکڑوں مکانات تباہ ہو گئے۔

پنجگور کے ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ پنجگور کے مختلف علاقوں کے تمام ڈیم بھر گئے اور سپل ویز کھول دیے گئے ہیں، مزید کہا کہ نیوان ڈیم کا سپل وے پانی کے زیادہ دباؤ کی وجہ سے تباہ ہو گیا۔

حب اور لسبیلہ میں بھی موسلادھار بارش کے باعث صورتحال سنگین ہوتی جارہی ہے جبکہ کوئٹہ اور سبی کے درمیان ٹریفک رابطہ بحال نہیں ہوسکا۔

خیبرپختونخوا میں 5 افراد جاں بحق

واضح رہے کہ گزشتہ روز خیبر پختونخواہ میں شدید بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں پیش آنے والے حادثات میں تین بچوں سمیت 5 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

مانسہرہ کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ مانسہرہ کی تحصیل پوٹھہ میں بدھ کی رات مکان پر مٹی کا تودہ گرنے سے تین بچوں سمیت چار افراد جاں بحق ہو گئے۔

صدر کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) محمد عامر نے بتایا کہ جب مٹی کا تودہ گرا تو خاندان سو رہا تھا اور چاروں افراد ملبے کے نیچے دب گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بدھ کی رات علاقے میں بارش اور تیز ہواؤں کے باعث سڑکوں اور پُلوں کو بھی نقصان پہنچا۔

دوسری جانب صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ایبٹ آباد میں 25 جولائی کی رات لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں گھر کی دیوار گرنے سے ایک شخص جاں بحق اور دو خواتین زخمی ہو گئیں۔

دریں اثنا، دریائے سیران میں طغیانی سے پوٹھہ اور پکوا کو ٹاؤن شپ سے ملانے والا پُل بہہ گیا جبکہ پیدل چلنے کے راستوں اور رابطہ سڑکوں کو بھی نقصان پہنچا۔

بدترین سیلاب کا خدشہ

ستلج اور راوی میں ممکنہ سیلاب کے پیش نظر وفاق، پنجاب حکومت اور دیگر حکام سے کہا گیا کہ وہ لوگوں اور انفراسٹرکچر کو بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کو یقینی بنائیں۔

محکمہ آبپاشی کے ایک اہلکار نے جمعرات کو ڈان کو بتایا کہ حالیہ بارشوں اور 3 بھارتی ڈیموں کے غیر متوقع طور پر بھرنے کی وجہ سے ہم انتہائی سنگین دور سے گزر رہے ہیں، ہم نے تمام معلومات حکومت، سیکیورٹی اداروں اور دیگر متعلقہ (محکموں) کے ساتھ شیئر کی ہیں، اور انہیں بتایا ہے کہ کیچمنٹ ایریاز میں مسلسل بارشوں کی وجہ سے بھارت کے ڈیمز مزید بھرنے کی صورت میں پنجاب کے لیے صورتحال خطرناک ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے بتایا ہے کہ راوی پر تھین ڈیم، بھاکڑا اور پونگ ڈیم بالترتیب 86.99 فیصد، 73.74 فیصد اور 78.15 فیصد بھرے ہوئے ہیں، ان کے مطابق تھین ڈیم عام طور پر جنوری، اگست اور اکتوبر میں بالترتیب 32 فیصد، 56 فیصد اور 62 فیصد بھر جاتا ہے، اس طرح بھاکڑا ڈیم مذکورہ مہینوں میں 50 فیصد، 66 فیصد اور 71 فیصد بھرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مون سون اگست میں اپنے عروج کو پہنچتا ہے، اس لیے ہمارا خیال ہے کہ ان ڈیموں میں مستقبل قریب میں مزید پانی آئے گا، جس سے بھارتی حکام کے پاس اسپل ویز کھولنے اور راوی اور ستلج کے نیچے پانی کا اخراج شروع کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچے گا، حکام نے خبردار کیا کہ ایسی صورت حال 1988 کے سیلاب سے بھی زیادہ خطرناک ہونے کا خدشہ ہے۔

حکام نے بتایا کہ گزشتہ 18 دنوں میں ان ڈیموں کے کیچمنٹ علاقوں میں 600 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ 1988 کے سیلاب کے دوران بھاکڑا اور پونگ ڈیم ستمبر میں مکمل طور پر بھر چکے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 18 دنوں کی بارشوں کا سلسلہ ستمبر 1988 جیسا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر شاہدرہ بریکنگ سیکشن 699 فٹ کے نازک گیج پر چلایا جائے تو راوی کا پانی بھیڈ نالہ کے قدرتی راستوں پر چل کر دوبارہ راوی میں گرے گا۔

انہوں نے بتایا کہ سیلاب کا پانی ایم-2 موٹر وے سے گزر سکتا ہے جہاں نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے نکاسی کے لیے انفرا اسٹرکچر بنایا ہے لیکن نکاسی آب کے اس سسٹم نے کبھی سیلابی صورتحال کا تجربہ نہیں کیا۔

تبصرے (0) بند ہیں