کشمور میں پولیس کی کارروائی، مخبر اور ڈاکوؤں سمیت 8افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 29 جولائ 2023
یہ کارروائی بالائی سندھ کے علاقے کشمور تھانے کے تھانہ گہال پور میں کی گئی — فائل فوٹو: اے پی
یہ کارروائی بالائی سندھ کے علاقے کشمور تھانے کے تھانہ گہال پور میں کی گئی — فائل فوٹو: اے پی

صوبہ سندھ کے ضلع کشمور میں کچے کے دریائی علاقے میں ایک کارروائی کے دوران پولیس کےمخبر اور ڈاکوؤں سمیت 8 افراد مارے گئے جہاں پنجاب اور سندھ پولیس نے ڈاکوؤں کے سر کی قیمت وصول کرنے کے لیے انہیں قتل کرنے کے دعویٰ کیا ہے۔

یہ کارروائی بالائی سندھ کے علاقے کشمور کے تھانہ گہال پور کی حدود میں کی گئی جہاں مرنے والوں میں سفاک ڈاکو جانو اندھیر، اس کے بھتیجے مشیر اندھیر، سومر شر، بھوری شر، شہزادو دستی، نظرو، موالی اور پولیس کا مخبر عثمان چانڈیو شامل ہیں البتہ ڈاکوؤں اور پولیس مخبر کی شناخت کے حوالے سے کچھ ابہام بھی پایا جاتا ہے۔

رحیم یار خان پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ عثمان چانڈیو کو انہوں نے ڈاکوؤں کے درمیان مخبر کے طور پر بھیجا تھا، عثمان دراصل رحیم یار خان کے علاقے ظاہر پیر تھانے کا رہائشی تھا اور وہ جانو کے بھائی جمیل اندھیر کے ساتھ جیل کی سزا کاٹ چکا تھا۔

ایس ایس پی رحیم یار خان رضوان عمر گوندل نے کہا کہ وہ ڈاکوؤں کی پارٹی کے ساتھ موجود تھا جب اس کی مدد سے ہم نے ان پر حملہ کیا۔

پولیس افسر نے شکوہ کیا کہ کشمور پولیس نے ہمیں آرمرڈ پرسنل کیریئر فراہم نہیں کی اور اس کے نتیجے میں جب ہمارے مخبر نے بھاگنے کی کوشش کی تو ڈاکوؤں نے اسے بے دردی سے مار ڈالا اور اس کے قتل کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔

دوسری جانب ایس ایس پی شکارپور امجد احمد شیخ نے بتایا کہ سندھ پولیس کی کارروائی میں تمام ڈاکو مارے گئے، ان میں سے ہر ایک کے سر کی رقم مقرر گئی تھی۔

یاد رہے کہ امجد احمد شیخ کو 23 جولائی کو کشمور ضلع کا چارج دیا گیا تھا اور ندی کے علاقے میں اغوا اور لوگوں کو پھنسانے کے لیے استعمال کیے جانے والے طریقوں کے سدباب میں ناکامی پر سابق ایس ایس پی عرفان سمو کو ہٹا دیا گیا تھا۔

ڈاکوؤں نے ایس ایچ او تھانہ کشمور گل محمد مہر، ایک پولیس کانسٹیبل نبی داد منگی اور ایک شخص سرور چاچڑ کو بھی قید میں رکھا، ایس ایچ او کو تاوان کی ادائیگی کے بعد چھوڑا گیا تھا لیکن عرفان سموں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں پولیس مقابلے کے بعد ڈاکوؤں کے چنگل سے چھڑایا گیا تھا۔

سندھ میں جانثار چانڈیو کا نام زیر گردش ہے اور یہ قیاس ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جانو اندھیر کو پھنسانے کے لیے اس کارروائی کے پیچھے وہی تھا۔

سندھ پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ہم نے خادم شر کے ذریعے ایک پارٹی کا اہتمام کیا، خادم شر نے جانو اور اس کے گینگ کی میزبانی کی، دونوں بھائیوں سلٹو اور سومر نے مہر شر کے والد اور بھائی کو قتل کیا تھا۔

ایس ایس پی امجد شیخ نے کہا کہ شر برداری کے لوگوں نے مہر کی زمین پر قبضہ کر رکھا تھا اور اس پر کاشت کاری کر رہے تھے، گھوٹکی پولیس کے ہاتھوں سلٹو شر کے مارے جانے کے بعد اس کا بھائی سومر شر جانو کے ساتھ جڑ گیا تھا اور گہالپور میں حالیہ پولیس مقابلے تک اس سے منسلک رہا۔

لاشوں کو ڈاکوؤں نے ندی کے علاقے میں دفن کر دیا تھا، رحیم یار خان پولیس اپنے مخبر کی لاش بھی نہ نکال سکی، معلوم ہوا ہے کہ خادم شر نے جانو اور اس کے گینگ کی میزبانی کی اور وہ اس سلسلے میں کشمور پولیس کے ساتھ تھا۔

ایس ایس پی امجد کے مطابق جانو اندھیر نے اپنے ممکنہ یرغمالیوں کو عورت کے ذریعے پھنسانے کا حربہ اپنایا اور اس میں کامیاب رہا، تقریباً تین درجن یرغمالی صرف مئی کے پہلے ہفتے تک ضلع کندھ کوٹ کے کچے کے علاقے کشمور میں قید تھے اور پولیس انہیں بازیاب کرنے میں ناکام رہی۔

کچے کے ڈاکو انتقام کی غرض سے حملہ کرتے ہیں اور پولیس کی طاقت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، نومبر 2022 میں انہوں نے گھوٹکی پولیس کے ہاتھوں سالٹو شر کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے ایک ڈی ایس پی اور دو ایس ایچ اوز سمیت پانچ پولیس اہلکاروں کو قتل کردیا تھا۔

بالائی سندھ کے ایک پولیس اہلکار نے ڈان کو بتایا کہ سلٹو شر کے قتل کا منصوبہ گھوٹکی پولیس نے بنایا تھا، اسے ڈوگر نامی پولیس اہلکار نے پھنسایا تھا جس نے اسے چائے پر بلایا اور اسے جعلی مقابلے میں مار ڈالا۔

ضلع کشمور کو جون میں اغوا کی لہر نے لپیٹ میں لے لیا تھا اور اس واقعے کے بعد سے اربوں روپے مالیت کے کندھ کوٹ-گھوٹکی پل پر کام رکا ہوا ہے، اس سے قبل 25 مئی کو کنسٹرکشن کمپنی کے تین چھوٹے گریڈ کے ملازمین کو اغوا کیا گیا تھا اور پروجیکٹ کے ذرائع کے مطابق ان کے نام محمد مظہر سراج ویر، محمد شفیق سراج ویر اور جمشیر ملک تھے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں