خیرپور: 10 سالہ گھریلو ملازمہ کی پراسرار موت، ایک شخص گرفتار

ڈی آئی جی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حویلی پیر اسد شاہ کی ہے، جسے پولیس نے حراست میں لے لیا — فائل فوٹو: ڈان
ڈی آئی جی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حویلی پیر اسد شاہ کی ہے، جسے پولیس نے حراست میں لے لیا — فائل فوٹو: ڈان

خیرپور کی تحصیل رانی پورمیں ایک کم سن لڑکی کی پراسرار موت کے سلسلے میں خیرپور پولیس نے اہم ملزم کو گرفتار کر لیا جبکہ ڈی آئی جی سکھر نے مقامی پولیس تھانے کے اسٹیشن ہاؤس افسر کو معطل اور معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ رپورٹس کے مطابق 10 سالہ فاطمہ مقامی بااثر شخصیت کی حویلی میں گھریلو ملازمہ تھی، جو پراسرار طور پر مردہ حالت میں برآمد ہوئی۔

اس کی موت کے بعد مبینہ طور پر مالک نے لڑکی کی والدہ کو اطلاع دی کہ اس کی موت ہو گئی ہے وہ آکر لڑکی کی لاش لے جائے۔

فاطمہ کی والدہ نے بتایا کہ وہ لڑکی کی لاش حویلی سے لائی، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی مزید 2 لڑکیاں بھی حویلی میں کام کرتی ہیں۔

رشتہ داروں نے لڑکی کی تدفین نوشہرو فیروز کے گاؤں خانوا کے قریب قبرستان میں کر دی۔

فاطمہ کی والدہ شمیم خاتون کی شکایت پر رانی پور پولیس اسٹیشن میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

ڈی آئی جی سکھر جاوید جسکانی نے خیرپور ضلع کے ایس ایس پی روحیل کھوسو کی سربراہی میں ایک ٹیم تشکیل دینے کی تصدیق کی ہے تاکہ معاملے کی تحقیقات کی جائے اور تشدد کے الزمات کی تصدیق کے لیے قبرکشائی کی جائے، کمیٹی کے دیگر اراکین میں محکمہ انسداد دہشت گردی سکھر کے ڈی ایس پی عبدالقدوس اور گمبٹ کے اے ایس پی نعمان صدیقی شامل ہیں۔

ڈی آئی جی سکھر جاوید جسکانی نے سکھر سے بذریعہ فون ڈان کو بتایا کہ ہم نے پوسٹ مارٹم کے لیے لاش کو نکالنے کی درخواست دی ہے کیونکہ لڑکی کی اس کے والدین نے بظاہر خوف کی وجہ سے تدفین کر دی ہے۔

لڑکی کے والد ندیم علی نے ابتدائی طور پر دعویٰ کیا تھا کہ جب اسے 15-14 اگست کی رات ایک نجی ہسپتال لے جایا گیا تھا، تو ڈاکٹروں کی جانب سے اشارہ دیا گیا تھا کہ لڑکی کو پیٹ سے متعلق کچھ بیماری تھی۔

بعد ازاں، ہسپتال سے ڈسچارج کے بعد لڑکی کی اپنے گھر میں موت واقع ہو گئی تھی۔

لڑکی کی تشدد کے نتیجے میں موت کے دعوے اس وقت سامنے آئے، جب لڑکی کی ویڈیوز وائرل ہوئیں، جس میں اس پر تشدد کے نشانات تھے، یہ بات معلوم نہیں ہوسکی کہ ویڈیوز کس نے لیک کی ہیں، پولیس ٹیم نے ویڈیو حاصل کرلی ہے، جس نے علاقے کے متعدد سماجی کارکنان سے بھی ملاقات کی۔

حویلی کا تعلق اس فیملی سے ہے جسے عام طور پر ضلع خیرپور میں رانی پور کے پیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ڈی آئی جی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حویلی پیر اسد شاہ کی ہے، جسے پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔

ڈی آئی جی نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ والدین نے ابتدائی طور پر پولیس کو حقائق سے آگاہ نہیں کیا اور 15 اگست کو اپنی بیٹی کی تدفین کر دی۔

انہوں نے بتایا کہ پیر اسد شاہ یا ان کا عملہ لڑکی کو مقامی ہسپتال لے کر گیا، جہاں ڈاکٹرز نے بتایا کہ وہ گیسٹرو میں مبتلا تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب لڑکی کی موت کا بتایا گیا تو ایس ایچ او ہسپتال میں موجود تھے۔

ضلع میں ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد پولیس نے واقعے کا نوٹس لیا اور ڈی ایس پی عبدالقدوس کلواڑ نے لڑکی کے والدین سے ملاقات کی، سماجی کارکنان اور وائرل ویڈیوز دیکھنے کے بعد ڈی ایس پی نے ڈی آئی جی کو رپورٹ دی کہ معاملہ سنگین ہے اور لاش نکالنے کے لیے قبرکشائی کا مطالبہ کیا۔

ڈی آئی جی نے بتایا کہ والدین کو بتایا گیا کہ اگر وہ حقائق نہیں بتائیں گے تو پولیس اپنے طور پر کارروائی کرے گی، قبر کشائی کرے گی اور مقدمہ درج کرے گی۔

ایس ایس پی نے لڑکی کی والدہ سے بھی بات کی جنہوں نے پولیس کی طرف سے ترغیب دینے کے بعد اپنی کہانی سنانے پر رضامندی ظاہر کی، انہوں نے بتایا کہ ’میری لڑکی کا ہاتھ ٹوٹا ہوا تھا، اس کے جسم خاص طور پر گردن اور پیٹ کے قریب زخموں کے نشانات (بظاہر تشدد) تھے۔

ایس ایس پی نے بتایا کہ ضرورت پڑنے پر پولیس ڈی این اے ٹیسٹ بھی کرائے گی، ڈی آئی جی نے کہا کہ اگر ریپ کا خدشہ ہوا، تو پولیس یقینی طور پر ڈی این اے ٹیسٹ بھی کرائے گی۔

سندھ کے ڈائریکٹر جنرل صحت ڈاکٹر ارشاد میمن نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ایسا نظر آتا ہے کہ ڈاکٹرز کی لڑکی کے معائنے سے متعلق رپورٹ کی تصدیق کرنے کی ضرورت ہے۔

ویمن ایکشن فورم نے ایک بیان میں واقعے کی مذمت کرتے ہوئے سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے چیئرپرسن اقبال ڈیٹھو، سندھ کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن کے چیئرپرسن اور چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی کے ذمہ داران سے ایسے واقعات اور متعلقہ حکام کی نااہلی کا نوٹس لینے کی اپیل کی۔

اس میں سندھ کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) پر زور دیا گیا کہ لڑکی کے والدین کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے اور بلاتاخیر قتل کی ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔

تبصرے (0) بند ہیں