9 مئی پرتشدد واقعات: ڈاکٹر یاسمین راشد 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

اپ ڈیٹ 09 ستمبر 2023
تفتیشی افسر  نے استدعا کی کہ نئے الزامات کی تحقیقات کے لیے  ڈاکٹر  یاسمین راشد کا دوبارہ  جسمانی ریمانڈ  دیا جائے—فوٹو:ڈان نیوز
تفتیشی افسر نے استدعا کی کہ نئے الزامات کی تحقیقات کے لیے ڈاکٹر یاسمین راشد کا دوبارہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے—فوٹو:ڈان نیوز

لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے شادمان تھانہ حملہ کیس میں سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ، پی ٹی آئی پنجاب کی صدر ڈاکٹر یاسمین راشد اور فیشن ڈیزائنر خدیجہ شاہ کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

انسداد دہشت گردی عدالت کی جج عبہر گل خان نے پولیس کی درخواست پر سماعت کی، دوران سماعت تفتیشی افسر نے استدعا کی کہ نئے الزامات کی تحقیقات کے لیے ڈاکٹر یاسمین راشد کا دوبارہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ مقدمہ میں بغاوت، جنگ چھیڑنے اور عوام کو فسادات پر اکسانے کی دفعات شامل کر دی گئی ہیں۔

عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد کا 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں 14 ستمبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

خیال رہے کہ یاسمین راشد کو ابتدائی طور پر مینٹیننس آف پبلک آرڈر کے تحت 9 مئی کے واقعات کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ نے 13 مئی کو یاسمین راشد کی رہائی کا حکم دیا تھا لیکن محض چند گھنٹے بعد 9 مئی سے متعلق مزید تین مقدمات میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا جن میں جناح ہاؤس حملہ کیس بھی شامل ہے۔

پنجاب پولیس نے انسداد دہشت گردی کی عدالت سے ڈاکٹر یاسمین راشد کو شامل تفتیش کرنے کی استدعا کی تھی جس پر عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد سے عسکری ٹاور توڑ پھوڑ کے مقدمے میں تفتیش کرنے کی اجازت دے دی۔

اس کے علاوہ عدالت نے اسی کیس میں مزید دفعات کے اضافے کے بعد سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ اور خدیجہ شاہ کا بھی پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے 14 ستمبر کو دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

خیال رہے کہ 9 مئی کو القادر ٹرسٹ کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا جس کے دوران فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا، سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا جب کہ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے۔

مظاہرین نے لاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر بھی دھاوا بول دیا تھا جسے جناح ہاؤس بھی کہا جاتا ہے اور راولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو)کا ایک گیٹ بھی توڑ دیا تھا۔

اس کے بعد ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑائی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 1900 افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا جب کہ عمران خان اور ان کی پارٹی کے کارکنوں کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔

ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت دیگر رہنماؤں اور کارکنان کو کور کمانڈر ہاؤس پر مبینہ حملے کے الزام میں دہشت گردی اور دیگر الزامات کے تحت سرور روڈ پولیس میں درج ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا تھا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں