افغان مہاجرین اور سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے تگ و دو کرنے والے افراد کی بے دخلی کے خلاف کئی سیاست دانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے نگران حکومت کے فیصلے کو چیلنج کردیا ہے۔

سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے والوں میں پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے رہنما فرحت اللہ بابر، جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد، انسانی حقوق کے کارکن امینہ مسعود جنجوعہ، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (این ڈی ایم) کے چیئرمین محسن داوڑ، وکیل جبران ناصر، روحیل کاسی، سید معاذ شاہ، غزالہ پروین، وکیل ایمان زینب مزاری، احمد شبر، وکیل عمران شفیق، لیوک وکٹر اور سجل شفیق شامل ہیں۔

عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست تاحال سماعت کے لیے منطور نہیں کی گئی ہے۔

ڈان ڈاٹ کام کو موصول درخواست کی کاپی کے مطابق غیرملکیوں کی بے دخلی آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت چیلنج کردی گئی ہے۔

درخواست میں نگران وزیراعظم کے ذریعے وفاق، سیکریٹری داخلہ کے توسط سے حکومت کی اپیکس کمیٹی، تمام چاروں صوبے اور اسلام آباد، چیف کمشنر برائے افغان مہاجرین اور نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی کے چیئرمین سمیت 15 افراد کو فریق بنایا گیا ہے۔

سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ غیرملکیوں کو بے دخل کرنے کے فیصلے سے تقریباً 44 لاکھ افغان باشندوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہو رہی ہے جو وقتی طور پر پاکستان میں مقیم ہیں۔

کہا گیا ہے کہ اس فیصلے سے پاکستان کی 45 سالہ پالیسی تبدیل ہو رہی ہے جس میں مہاجرین، سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں اور یہاں تک کہ غیررجسٹرڈ غیرملکیوں کی میزبانی میں توسیع کا عزم کیا گیا تھا، اسٹریٹجک اعتبار سے کیا گیا فیصلہ نگران حکومت کو حاصل آئینی اختیارات سے ماورا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ بے دخلی رضاکارانہ طور پر نہیں ہو رہی ہے اور نہ ہی افغان حکومت اس حوالے سے سہولت کاری کر رہی ہے اور یہ بھی خطرہ ہے کہ ان افراد میں سے کئی سردی اور بھوک کی وجہ سے موت کا شکار ہوسکتے ہیں، ان میں سے کئی پاکستانی شہری اور حقیقی مہاجرین بھی ہوسکتے ہیں جنہوں نے اپنی قانونی حیثیت ثابت کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا ہوگا۔

مزید کہا گیا کہ بغیردستاویزات کے مقیم افغان شہریوں کو بے دخل کرنے کا فیصلہ غیرمنتخب کابینہ کے ذریعہ کیا گیا ہے، جس نے غیرانسانی فیصلہ کیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے کیے گئے فیصلے میں غیرجانب دار زبان استعمال کی گئی ہے لیکن یہ واضح ہے کہ لاکھوں افغان مہاجرین نشانہ بنیں گے جو حالات کے جبر کی وجہ سے پاکستان میں رہنے پر مجبور ہیں۔

سپریم کورٹ سے کہا گیا ہے کہ یہ انتہائی پریشان کن بات ہے کہ نگران حکومت انتخابات کرانے کا اپنا کام سرانجام دینے کے بجائے اسٹریٹجک فیصلے کر رہی ہے، جس کے نتائج اس ملک کے عوام کو بھگتنا ہوں گے۔

انہوں نے عدالت عظمیٰ پر زور دیا کہ حکومت کی جانب سے غیرقانونی مہاجرین کو بے دخل کرنے کے لیے کیا گیا فیصلہ غیرقانونی اور غیرآئینی قرار دے کر ختم کردے۔

درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ پر زور دیا کہ وفاق کو غیرملکیوں کو گرفتار کرنے، واپس بھیجنے یا دوسرے طریقوں سے ہراساں کرنے سے روکا جائے جو یا تو مہاجرین یا سیاسی پناہ کے متلاشی ہیں اور ان کے پاس رجسٹریشن کا ثبوت ہیں، افغان شہریت کا کارڈ (اے سی سی)، یواین ایچ سی آر کی جانب سے جاری کی گئی سیاسی پناہ کی درخواست یا اس کے شراکت داروں کی جانب سے جاری پری اسکریننگ سلپ موجود ہے۔

مزید کہا گیا کہ عدالت وفاق کو ہدایت کرے کہ وہ یو این ایچ سی آر اور اس کی شراکت تنظیموں کو رجسٹر کرنے، عمل میں تیزی لانے اور پاکستان میں مقیم غیرملکی شخصیات کی سیاسی پناہ کی درخواست کے فیصلے کی اجازت دے۔

درخواست گزاروں نے کہا کہ وفاق کو ہدایت کی جائے کہ وہ وفاقی اور صوبائی قانون نافذ کرنے والے ادارے وقتی طور پر پاکستان میں رہنے والے تمام افراد کے بنیادی حقوق کا تحفظ کریں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں وکیل جبران ناصر نے کہا کہ درخواست گزاروں نے استدعا کی ہے کہ رجسٹرڈ تارکین وطن کو تحفظ فراہم کیا جائے، جبکہ جن کی جلاوطنی کی درخواستیں زیر التوا ہیں، انہیں ملک بدر نہ کیا جائے اور ان کی درخواستوں کو نمٹایا جائے۔

جبران ناصر نے کہا کہ ہم نے ان تمام لوگوں کے لیے مزید تحفظ کا مطالبہ کیا ہے جنہیں ہم اس ملک میں پیدا ہونے والے پاکستانی شہری تصور کیے جانے کا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایڈوکیٹ عمیر اعجاز گیلانی درخواست گزاروں کے کیس کی قیادت کریں گے۔

جبران ناصر نے درخواست گزاروں کی طرف سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز بھی شیئر کی جس میں کہا گیا ہے کہ وہ پچھلی کئی دہائیوں سے پاکستان میں مقیم پناہ گزینوں اور خطرے کا شکار تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کی نگراں حکومت کی غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر انسانی پالیسی کو چیلنج کر رہے ہیں۔

جبران ناصر نے مزید کہا کہ یہ پالیسی نہ صرف نگران حکومت کے مینڈیٹ سے ماورا ہے بلکہ یہ قومی اور بین الاقوامی قانون کے بھی منافی ہے۔

درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کے پاس پی او آر کارڈز اور دیگر متعلقہ دستاویزات ہیں ان کو بے دخل کرنے کی آڑ میں ہراساں کیا گیا، حراست میں لیا گیا اور واپس بھیج دیا گیا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ عورتوں اور بچوں کو زبردستی جلاوطن کیا جانا اور صرف نسلی بنیادوں پر افغان کے طور پر شناخت کیا جانا غلط مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسانوں کو آنے والے مصائب اور ظلم و ستم کی طرف دھکیلنے پر خاموش رہنا کسی جرم سے کم نہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ کے شروع میں نگران وفاقی حکومت نے پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم 11 لاکھ غیرملکیوں کے انخلا کا فیصلہ کیا تھا جو دہشت گردوں کو فنڈز اور سہولیات سمیت دیگر غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

اس حوالے سے کہا گیا تھا کہ پہلے مرحلے میں غیرقانونی طور پر مقیم افراد، دوسرے مرحلے میں افغانستان کی شہریت رکھنے والے اور تیسرے مرحلے میں جن کے پاس رہائشی کارڈ ہیں، انہیں بے دخل کردیا جائے گا۔

فیصلے سے متعلق بتایا گیا تھا کہ ملک میں غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکیوں نے پاکستان کی سلامتی کے لیے سنجیدہ خطرہ پیدا کردیا ہے۔

مزید کہا گیا تھا کہ غیرقانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی بے دخلی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، جن میں سے ایک بڑی تعداد دہشت گردوں کو فنڈز دینے، سہولت فراہم کرنے اور اسمگلنگ میں ملوث ہے اور 7 لاکھ افغان شہریوں کے پاکستان میں رہائش کے اجازت ناموں کی تجدید نہیں کی گئی ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں