طالبان وزیر کی نگران وزیر خارجہ سے ملاقات، مہاجرین کی جائیداد کے مسائل پر تبادلہ خیال

اپ ڈیٹ 14 نومبر 2023
افغان وزیر نے اسلام آباد میں نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی سے ملاقات کی — فوٹو: دفتر خارجہ
افغان وزیر نے اسلام آباد میں نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی سے ملاقات کی — فوٹو: دفتر خارجہ

افغانستان کے عبوری وزیر تجارت نے اسلام آباد میں نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی سے ملاقات میں تجارت اور پاکستان سے بے دخل ہونے والے لاکھوں افغان باشندوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا کہ وہ کیسے اپنے ساتھ نقدی اور دیگر جائیدادیں واپس لے جاسکتے ہیں۔

اسلام آباد میں افغانستان کے سفارت خانے سے جاری بیان میں کہا گیا کہ طالبان کے عبوری وزیر تجارت حاجی نورالدین عزیزی کی سربراہی میں افغان وفد نے نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی سے ملاقات کی۔

بیان میں کہا گیا کہ ملاقات کے دوران ’دو طرفہ تجارت بالخصوص کراچی پورٹ میں افغان تاجروں کی پھنسی ہوئی مصنوعات، مہاجرین کی جائیدادوں کی افغانستان واپسی اور اس سے جڑے مسائل پر گفتگو کی گئی‘۔

افغانستان کے وزیر تجارت کے دورہ پاکستان سے قبل نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا تھا کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور مہاجرین کی بے دخلی کو بھی اسی سے جوڑا تھا۔

انوارالحق کاکڑ نے کہا تھا کہ افغان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کی یقین دہانی کے باوجود پاکستان مخالف گروپس کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔

دوسری جانب طالبان عہدیداروں نے کہا تھا کہ دہشت گردی پاکستان کا اندرونی معاملہ اور مطالبہ کیا تھا کہ افغان شہریوں کی بے دخلی روک دی جائے۔

پاکستان سے بے دخل ہونے والے افغان مہاجرین کا کہنا ہے کہ انہیں نقدی اور جائیدادوں کی پاکستان سے افغانستان منتقلی پر پابندیاں ہیں اور کئی افغان شہریوں کے پاکستان میں کاروبار ہیں اور دہائیوں سے ان کے گھر موجود ہیں۔

افغان وزیر سے ملاقات کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے انہیں بتایا کہ علاقائی تجارت اور رابطہ کاری کے بھرپور مواقع دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائیوں سے میسر ہوسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ حکومت پاکستان نے گزشتہ ماہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین سمیت غیر ملکیوں کی رضاکارانہ بے دخلی کے لیے یکم نومبر کی تاریخ مقرر کی تھی، جس کی وجہ سیکیورٹی معاملات قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مغربی سفارت کاروں کے مطالبات بھی مسترد کردیے تھے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے افغان مہاجرین کی واپسی پر ان کو درپیش سنگین حالات پر تشویش کا اظہار کیا تھا کیونکہ اس وقت سردیوں کا موسم ہے اور سرحد کے قریب کئی مہاجرین این جی اوز اور افغان حکام کی جانب سے فراہم کردہ پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔

دفتر خارجہ نے بیان میں کہا کہ افغان وزیر تجارت ازبکستان اور پاکستان کے نمائندوں کے ساتھ سہ فریقی ملاقات میں بھی شریک ہوں گے۔

بیان میں سہ فریقی اجلاس کے حوالے سے تفصیلات نہیں بتائی گئیں لیکن تینوں ممالک ٹرانزٹ ٹریڈ اور جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان ریلوے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں جو افغانستان سے گزرے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں