بھارتی کرکٹ ٹیم کے باؤلر محمد شامی نے پاکستان کے سابق کرکٹرز کا نام لیے بغیر انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ پاکستانی کرکٹرز کو میری ورلڈ کپ میں کارکردگی ہضم نہیں ہورہی۔

بھارت میں کھیلے گئے ورلڈ کپ 2023 میں بھارتی ٹیم ناقابل شکست رہی تھی لیکن فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف واحد شکست کے بعد وہ ٹائٹل اپنے نام نہ کر سکی۔

بھارتی ٹیم کے باؤلرز محمد شامی اور محمد سراج کی تباہ کن باؤلنگ اور ویرات کوہلی، روہت شرما اور شبمن گل کی شاندار بیٹنگ کی بدولت ٹیم کو خوب سراہا گیا تھا۔

فاسٹ باؤلر محمد شامی نے ورلڈ کپ میں 24 وکٹیں حاصل کیں جس سے وہ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے باؤلر بن گئے تھے، یہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں کسی بھارتی باؤلر کی جانب سے اب تک کی سب سے زیادہ وکٹیں بھی ہیں۔

حال ہی میں محمد شامی نے پوما انڈیا نامی یوٹیوب پوڈکاسٹ میں شرکت کی جہاں انہوں نے پاکستان کے سابق کرکٹرز کو ایک بار پھر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ ’میں جانتا ہوں کہ سچ کڑوا ہوتا ہے لیکن اگر میں اس سب کے بعد بھی کچھ نہیں بولوں گا تو یہ ٹھیک نہیں ہوگا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’مجھے کسی سے حسد نہیں ہے، اگر آپ دوسروں کی کامیابی کو انجوائے کرنا سیکھ جاؤں گے تو آپ ایک بہتر کھلاڑی بن سکتے ہیں۔‘

محمد شامی نے کہا کہ ’میں ورلڈ کپ کے آغاز میں اچھا نہیں کھیل رہا تھا اور جب کھیلنا شروع کیا تو ایک میچ میں 5 وکٹیں پھر دیگر میچز میں 4 اور 5 وکٹیں حاصل کیں، کچھ پاکستانی کرکٹرز کو یہ بات ہضم نہیں ہورہی تو میں کیا کروں؟ وہ لوگ یہی سوچ رہے ہیں کہ صرف وہی لوگ بہترین ہیں۔‘

انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’بہترین وہ ہوتا ہے جو وقت پر پرفارمنس دکھائے، ٹیم کے لیے پرفارم کرے، اب آپ اس میں تنازع پیدا کر رہے ہیں کہ ہمیں کسی اور رنگ یا کسی اور کمپنی کی گیند مل رہی ہے، ارے بھائی سدھر جاؤ۔‘

محمد شامی نے مزید کہا کہ ’لیجنڈری وسیم اکرم نے بین الاقوامی کرکٹ میں گیندوں کے انتخاب کے طریقہ کار کی وضاحت کی لیکن اس کے باوجود کچھ سابق کرکٹرز تنازع پیدا کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ بات اس وقت سمجھ آتی ہے جب آپ کرکٹر نہ ہوں، لیکن آپ سابق کرکٹر ہیں، آپ سب یہ باتیں کریں گے تو لوگ ہنسیں گے۔‘

یاد رہے کہ کچھ روز قبل ’اے بی این‘ نامی نجی نیوز چینل پر پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر حسن رضا نے دعویٰ کیا تھا کہ ’جب بھارتی ٹیم بیٹنگ کرتی ہے تو وہ واقعی اچھی بلے بازی کرتے ہیں اور جب باؤلنگ کرتی ہے تب گیند مختلف ہوجاتی ہے، اس کے علاوہ ڈی آر ایس بھی ان کے حق میں گیا‘۔

حسن رضا کا کہنا تھا کہ ’سراج اور شامی جس طرح گیند کو سوئنگ کر رہے تھے اس سے ایسا لگ رہا تھا کہ آئی سی سی یا بھارتی کرکٹ بورڈ انہیں دوسری اننگز میں مختلف اور مشکوک گیندیں دے رہے ہیں، گیند کا معائنہ کرنے کی ضرورت ہے، سوئنگ کے لیے گیند پر کوٹنگ کی ایک اضافی تہہ بھی ہو سکتی ہے‘۔

بعد ازاں حسن رضا کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم نے کہا تھا کہ ’جو ٹیم ٹاس جیتتی ہے اس کے بعد امپائر آتا ہے اور 12 گیندوں والا ڈبا ہوتا ہے جس میں سے باؤلنگ کرنے والی ٹیم 2 گیندوں کا انتخاب کرتی ہے، امپائر کے ساتھ اور بھی لوگ ہوتے ہیں جیسے کہ ریفریز وغیرہ۔‘

حسن رضا کے دعویٰ پر محمد شامی اس سے قبل بھی ردعمل دے چکے ہیں، انہوں نے انسٹاگرام اسٹوری پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’شرم کریں، کھیل پر توجہ دیں، نہ کہ فالتو بکواس پر، کبھی تو دوسروں کی کامیابی کو انجوائے کیا کرو، یہ آئی سی سی ٹورنامنٹ ہے، آپ کا لوکل ٹورنامنٹ نہیں ہے، آپ کھلاڑی ہی تھے نا؟‘

محمد شامی نے ہنستے ہوئے کہا تھا کہ ’وسیم بھائی نے تفصیل دے کر سمجھایا پھر بھی۔۔۔ اپنے وسیم اکرم پر یقین نہیں ہے آپ کو؟ آپ تو اپنی ہی تعریف کرنے میں لگے ہوئے ہیں‘۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں