پولیس انکوائری میں الزامات سامنے آنے پر اعلیٰ پولیس افسران کیلئے مشکلات

اپ ڈیٹ 30 نومبر 2023
ڈی آئی جی جنوبی اسد رضا نے ان الزامات کو  بے بنیاد قرار دے دیا — فائل فوٹو: رائٹرز
ڈی آئی جی جنوبی اسد رضا نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا — فائل فوٹو: رائٹرز

سینئر پولیس افسر کی جانب سے کی گئی انکوائری نے ڈی آئی جی جنوبی اسد رضا کے مبینہ کردار پر سنگین سوالات اٹھا دیے، اس رپورٹ میں ان پر ڈی ایس پی عمیر طارق بجاری کی مبینہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ’سہولت کاری‘ کا الزام لگایا گیا ہے، جو اورنگی ٹاؤن میں تاجر کے گھر پر پولیس چھاپے کے دوران 2 کروڑ روپے کی ڈکیتی کے معاملے میں سلاخوں کے پیچھے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈی آئی جی غربی عاصم خان نے تاجر کے گھر چھاپہ، ڈکیتی کی واردات میں جنوبی پولیس کے اہلکاروں کے کردار کی انکوائری کی، ان کی رپورٹ پر ایس ایس پی جنوبی عمران قریشی کو ہٹا دیا گیا، ڈی ایس پی عمیر طارق بجاری اور چند دیگر افراد کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

انکوائری افسر نے انسپکٹر جنرل آف پولیس رفعت مختار راجا کو کچھ ’اضافی مشاہدات‘ پیش کیے اور جنوبی زون کے سینئر افسران کے خلاف مکمل تحقیقات کی تجویز دی۔

ڈی آئی جی غربی نے صوبائی پولیس سربراہ کو پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ ان (ڈی ایس پی عمیر بجاری) کو سینئر افسران نے ان کے پیشہ ورانہ کیریئر کے آغاز سے ہی غیر قانونی کاموں میں ملوث ہونے کا موقع/سہولت اور مدد فراہم کی، جنوبی زون کے سینئر افسران کے کردار خطرناک ہیں اور ان کی مکمل تحقیقات کی ضرورت ہے۔

اس رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ اوپر بیان کیے گئے مشاہدات/حقائق کی اصلیت جاننے کے لیے سینئر افسران پر مشتمل ٹیم کے ذریعے ان حقائق/مشاہدات کے حوالے سے ایک ’تفصیلی فیکٹ فائنڈنگ انکوائری‘ کروائی جاسکتی ہے۔

بے نامی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کراچی بھر سے عمیر طارق بجاری کے خلاف مختلف شکایات درج کی گئیں اور بطور ایس ایس پی جنوبی (بطور ڈی آئی جی ترقی سے پہلے) اور بطور ڈی آئی جی جنوبی زون اسد رضا اور دیگر سینئر افسران کو ان میں سے کئی شکایات کے بارے میں سے پہلے ہی معلوم تھا۔

ڈی آئی جی غربی کی قیادت میں پولیس کی تحقیقاتی ٹیم نے ڈی آئی جی جنوبی کو کیس کی تفتیش کے دوران ایس ایچ او ڈیفنس کو انکوائری کمیٹی کے اجلاس میں جانے سے روکنے پر بھی آڑے ہاتھوں لیا۔

تحقیقات میں شامل اضافی نوٹ میں بتایا گیا کہ متاثرہ/شکایت کنندہ کو رقم اور سونا واپس کرنے والے ایس ایچ او ڈیفنس شوکت اعوان کو انکوائری کمیٹی نے ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کی تھی مگر وہ نہیں آئے اور جب ٹیم تھانے پہنچی تو وہ وہاں بھی موجود نہیں تھے۔

اضافی نوٹ میں کہا گیا کہ بعد میں شوکت اعوان نے تفتیشی افسر کو مطلع کیا کہ ان کو ڈی آئی جی جنوبی نے روکا اور ٹیم کے سامنے پیش نہ ہونے کی ہدایت کی، نوٹ کے مطابق ڈی آئی جی جنوبی اسد رضا کا یہ عمل تحقیقاتی عمل میں براہ راست مداخلت ہے۔

دوسری جانب ڈی آئی جی جنوبی اسد رضا نے ڈان کو بتایا کہ یہ الزام بے بنیاد ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے آئی جی پولیس کے سامنے ان الزامات کے حوالے سے وضاحت کردی ہے، ڈی آئی جی جنوبی اسد رضا نے اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے ایس ایچ او ڈیفنس کو انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے روکا۔

انہوں نے بتایا کہ بطور ایس ایس پی ان کے دور میں ڈی ایس پی عمیر طارق بجاری کو ایک زیر تربیت افسر ہونے کے ناطے کوئی فعال عہدہ دیا گیا اور نہ ہی کسی چھاپے کے لیے بھیجا گیا۔

یاد رہے کہ ڈی ایس پی اور ان کے 2 گن مین کانسٹیبل خرم علی اور کانسٹیبل فرحان علی اورنگی ٹاؤن میں 18 اور 19 نومبر کی درمیانی شب کو تاجر شاکر خان کے گھر پر چھاپہ مارنے کے مقدمے میں گرفتار ہیں، جس میں انہوں نے 2 کروڑ روپے اور دیگر قیمتی سامان لوٹا اور کچھ وقت کے لیے تاجر اور ان کے بھائی کو یرغمال بنایا تھا۔

22 نومبر کو کراچی کی مقامی عدالت نے اورنگی ٹاؤن میں تاجر کے گھر پر چھاپے کے دوران مبینہ ڈکیتی کے مقدمے میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) کو ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

23 نومبر کو آئی جی سندھ پولیس رفعت مختار راجا نے ایس ایس پی جنوب عمران قریشی، ڈی ایس پی عمیر طارق بجاری اور دیگر کے خلاف ایک ریٹائرڈ فوجی افسر سمیت تین شہریوں کے اغوا اور ڈکیتی کے الزام میں انکوائری کا حکم دیا۔

24 نومبر کو سندھ پولیس نے ڈی ایس پی طارق عمیر بجاری کے خلاف ایک اور فوجداری مقدمے میں تحقیقات کا حکم دیا جبکہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے اغوا اور ڈکیتی کے مقدمے میں ڈی ایس پی عمیر طارق بجاری کو 26 نومبر تک جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا۔

27 نومبر کو پولیس حکام نے بتایا کہ گرفتار مرکزی ملزم عمیر طارق بجاری کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا گیا ہے۔

28 نومبر کو گرفتار ڈی ایس پی عمیر طارق بجاری نے تحقیقاتی جے آئی ٹی کو چیلنج کر دیا۔

**30 نومبر**کو ایک مقامی عدالت نے اسی مقدمے میں گرفتارملزم محفوظ حسن، عبدالستار اور اظہر احمد، سید سہیل رضوی اور کامران شاہ رخ کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا جبکہ تفتیشی افسر کو حراستی مرکز میں ڈی ایس پی عمیر بجاری سے موبائل کا پن کوڈ حاصل کرنےکی بھی اجازت دے دی۔

تبصرے (0) بند ہیں