وزیر اعظم کا پی سی بی میں متنازع تقرری کا نوٹس، سلمان بٹ سلیکشن کمیٹی سے برطرف

02 دسمبر 2023
سلمان بٹ 2010 کے بدنام زمانہ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کا مرکزی کردار تھے— فائل فوٹو: اے ایف پی
سلمان بٹ 2010 کے بدنام زمانہ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کا مرکزی کردار تھے— فائل فوٹو: اے ایف پی

نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی میں اسپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ سابق کپتان سلمان بٹ کی متنازع تقرری کا نوٹس لےلیا جس کے بعد انہیں سلیکشن کمیٹی میں شامل کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ روز متنازع کھلاڑی سلمان بٹ کی پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی میں تعیناتی پر نگران وزیرِ اعظم نے سخت نوٹس لیا۔

بیان میں کہا گیا کہ وزیر اعظم، پاکستان کرکٹ بورڈ کے سرپرست اعلیٰ ہیں اور وزیرِ اعظم کی ہدایت پر فوری طور پراس متنازع تعیناتی کو منسوخ کردیا گیا۔

وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں اور کرکٹ جیسے مقبول اور پاکستانیوں کے پسندیدہ کھیل کے لیے کھلاڑیوں کی سلیکشن کمیٹی کو ہمیشہ غیر متنازع ہونا چاہیے۔

انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی میں غیر متنازع اور اچھی شہرت کے حامل سلیکٹرز کو شامل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ غیر متنازع اور میرٹ پر تقرر شدہ سلیکٹرز ہی پاکستان کی بین الاقوامی کرکٹ میں نمائندگی کے لیے بہترین ٹیم کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کو اس کے شاندار ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر کامیابی سے ہمکنار کرانے کے لیے ہم تمام تقرریاں خالصتاً میرٹ پر کریں گے۔

اس سے قبل چیف سلیکٹر وہاب ریاض نے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سلمان بٹ کو سلیکشن کمیٹی سے ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ میں یہ فیصلہ واپس لے رہا ہوں، میں پہلے ہی سلمان بٹ سے بات کر لی ہے اور انہیں بتا دیا ہے کہ وہ میری ٹیم کا حصہ نہیں بن سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب نے سلیکشن کمیٹی کو بطور چیف سلیکٹر جوائن کیا تو وسیم حیدر، توصیف احمد اور وجاہت اللہ واسطی سلیکشن کمیٹی کا حصے تھے اور وہ اب بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں آیا تو مجھے میرے اطراف ایسے لوگوں کی ضرورت تھی جو جدید دور کی کرکٹ اور اس کے تقاضوں کو سمجھتے ہوں، جنہوں نے کرکٹ کو کور کیا ہو یا ابھی کھیل رہے ہوں اور اسی کی بنیاد پر میں کنسلٹنٹ کی ٹیم منتخب کی جن کا کام میری مدد کرنا ہو تاکہ میں ان سے کسی لڑکے کے بارے میں فیڈ بیک لے سکوں جس کو کل سے میری سلیکشن کمیٹی کہا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سلمان بٹ کے نام پر بہت زیادہ بحث ہوئی اور وہ نام سلمان بٹ کا تھا جس پر کئی لوگوں نے کافی مسائل کھڑے کیے لیکن میں پہلے بتا دینا چاہتا ہوں کہ وہ پی سی بی کے کسی بھی قسم کے پینل پر نہیں ہیں۔

وہاب نے کہا کہ سلمان بٹ میرے خیال میں کرکٹ کا اچھا ذہن رکھتے ہیں اور کرکٹ کو سمجھتے ہیں، وہ پچھلے دو تین سال سے ڈومیسٹک کرکٹ کو کور کررہے ہیں اور ان سے صرف رائے لینی کی حد تک میرا کنسلٹنٹ بنایا گیا تھا جس پر کچھ میڈیا ہاؤسز اور کچھ لوگ پراپیگنڈا کررہے ہیں اور وہ چیزوں کو خراب کر کے مجھے بھی اس سے منسلک کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ مجھے اور سلمان لے کر کافی پسند ناپسند کی باتیں کررہے ہیں، کچھ دوستی کی باتیں کررہے ہیں تو میں اسی وجہ سے یہ فیصلہ واپس لے رہا ہوں اور میں پہلے ہی سلمان بٹ سے بات کر کے انہیں بتا چکا ہوں کہ وہ میری ٹیم کا حصہ نہیں بن سکتے کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ لوگ ہمیں کسی بھی طریقے سے منسلک کریں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کرکٹ بورڈ نے چیف سلیکٹر وہاب ریاض کی زیر سربراہی سلیکشن کمیٹی میں اسپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ سابق کپتان سلمان بٹ کے ساتھ ساتھ کامران اکمل اور راؤ افتخار انجم کو بھی شامل کر لیا تھا۔

سلمان بٹ کی سلیکشن کمیٹی میں شمولیت کو عوام اور سابق کرکٹرز سمیت مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں