انتخابات میں سیکیورٹی کیلئے فوج کی تعیناتی کا مطالبہ آیا تو غور کریں گے، نگران وزیر اعظم

06 دسمبر 2023
نگران وزیراعظم نے کہا کہ غائب رہنے یا چلہ کاٹنے والے سیاستدان خود بتائیں کہ وہ کیوں چلے پر گئے — فوٹو: ڈان نیوز
نگران وزیراعظم نے کہا کہ غائب رہنے یا چلہ کاٹنے والے سیاستدان خود بتائیں کہ وہ کیوں چلے پر گئے — فوٹو: ڈان نیوز

نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ عام انتخابات کے لیے جن سیاستدانوں نے سیکیورٹی مسائل پر بات کی ہے انہوں نے پہلے کہا کہ ہم الیکشن کے لیے تیار ہیں، جبکہ انتخابات میں سیکیورٹی کیلئے فوج کی تعیناتی کا مطالبہ آیا تو غور کریں گے۔

ڈان نیوز کے پروگرام ’نیوز آئی‘ میں اینکر پرسن ابصا کومل سے گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیر اعظم نے کہا کہ الیکشن میں سیکورٹی کے لیے فوج کی طلبی کا اب تک کوئی مطالبہ میرے سامنے نہیں آیا، جب یہ بات سامنے آئی تو سیکیورٹی مسائل کی شدت کو دیکھتے ہوئے متعلقہ محکموں اور اداروں سے بات کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے پولیس کی صلاحیت اور نفری کو دیکھا جائے گا کہ کیا وہ یہ معاملہ سنبھال سکتی ہے یا نہیں اور پھر دوسرے اداروں کی بات ہوگی، اگر بم چل رہے ہیں ہوں یا روزانہ شدید نوعیت کی کارروائیاں ہو رہی ہوں تو الگ طرح کی سیکیورٹی کی ضرورت ہوگی اوروہاں فوج سے بات کی جائے گی۔

نگران سیٹ اپ پر اعتزاز احسن کے تبصرے پر انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ اعتزاز احسن حاضر جواب قسم کی شخصیت ہیں وہ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں، ان کی کسی بات کو زیادہ سنجیدہ نہیں لینا چاہیے۔

’غائب رہنے یا چلہ کاٹنے والے سیاستدان خود بتائیں وہ کیوں چلے پر گئے‘

اگر نگران وزیراعظم نہ ہوتے تو کس جماعت میں شامل ہوتے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ سرگرم سیاسی کارکن اور رکن پارلیمینٹ ہونے کی وجہ سے اس عہدے پر آنے سے پہلے تمام بڑے سیاسی قائدین سے ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں، عمران خان، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمٰن اور مریم نواز سے بھی ملاقاتیں ہوئیں، اس عہدے کی مدت ختم ہونے پر اگر کسی جماعت نے شمولیت کی دعوت دی تو ضرور اس پر غور کروں گا۔

مریم نواز کی سیاسی بصیرت کے بارے میں سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وہ تمام معاملات میں گہری دلچسپی لیتی ہیں لیکن ایک ملاقات میں کسی کے بارے میں حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔

پی ٹی آئی رہنماؤں کی روپوشی، وفاداریاں تبدیل کرنے اور بعض اداروں کی طرف سے ناروا سلوک کی شکایات کے سوال پر نگران وزیراعظم نے کہا کہ غائب رہنے یا چلہ کاٹنے والے سیاستدان خود بتائیں کہ وہ کیوں چلے پر گئے اور کس ادارے سے انگیج رہے ہیں اور کس بنیاد پر انہیں اس کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ کسی خاص شخص کا معاملہ پوچھنا مقصود ہے تو اس کا متعلقہ اداروں سے پتا کر کے بتا سکتا ہوں، پی ٹی آئی کی طرف سے الیکشن مہم روکنے کی کوئی شکایت آئی تو اس پر غور کریں گے کیونکہ جو لوگ 9 مئی کے واقعات میں ملوث نہیں ان پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے، وہ الیکشن لڑیں اور مہم چلائیں۔

’سیاستدانوں کو سول ۔ ملٹری تعلقات کی بہتری کے گر بتا نہیں سکتا‘

ایک اور سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سارے کام مستقل حکومت کر سکتی تھی، ویسے تو اس نگران حکومت کی کوئی ضرورت ہی نہیں لیکن نگران حکومت، منتخب حکومت والے تمام ضروری کام کر سکتی ہے، آنے والی منتخب حکومت نے اگر فوجی عدالتوں والی اپیل واپس لینا چاہی تو لے سکتی ہے۔

سول ۔ ملٹری تعلقات میں اتار چڑھاؤ کے متعلق انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ میں سیاستدانوں کو سول ۔ ملٹری تعلقات کی بہتری کے گر بتا نہیں سکتا بلکہ میں تو سیاستدانوں سے خود سیکھ رہا ہوں، انسان کچھ اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے کچھ دوسروں سے سیکھتا ہے۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ملک کو گورننس اور ٹیکس کلیکشن کے مسائل کا سامنا ہے، ریاست کا کام عوام کو تعلیم، صحت، روزگار، داخلی اور خارجی خطرات اگر کوئی ہیں تو ان تحفظ دینا ہوتا ہے۔

’آنے والی حکومت 18ویں ترمیم پر غور کر سکتی ہے‘

18ویں ترمیم سے متعلق سوال پر نگران وزیراعظم نے کہا کہ اس کو دیانتداری سے دیکھنا چاہیے، اس کا کریڈٹ پیپلز پارٹی کو جاتا ہے، اس سے صوبوں کو حقوق ملے، 18ویں ترمیم کے تحت صوبائی سطح پر بھی فنانس کمیشن بننا تھا تاکہ اضلاع کی یکساں ترقی ہو، میرپورخاص اور کلفٹن کراچی کی ترقی یکساں ہو، کوئٹہ اور کسی پسماندہ شہر کی ترقی کے لیے برابر فنڈز ملیں لیکن ایسا نہیں ہوا، تاہم آنے والی حکومت اس پر غور کر سکتی ہے اور ساری سیاسی جماعتیں اگر 18ویں ترمیم میں مزید ترمیم پر تیار ہوں تو کر لیں۔

بلاول بھٹو کے 70 سالہ سیاستدانوں کو گھر بیٹھنے کے مشورے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے بطور وزیر خارجہ کافی محنت کی، وزارت خارجہ سے ان کے بارے میں مثبت ردعمل ملا ہے، لیکن امریکا سے لے کر ملائیشیا تک ساری دنیا میں عمر رسیدہ سیاستدان حکمران ہیں، اس لیے عمر کی بنیاد پر کارکردگی کا کوئی معیار قائم نہیں کیا جا سکتا، بعض نوجوان بھی اچھا کام کر سکتے ہیں۔

عافیہ صدیقی کے ساتھ جیلوں میں روا رکھے گئے سلوک اور جنسی زیادتی کے حوالے سے انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ عافیہ صدیقی کے ساتھ ظلم کی خبریں مجھ تک پہنچی ہیں، میں نے متعلقہ حکام کو معاملہ بنیادی انسانی حقوق کے طور پر اٹھانے کے لیے کہا ہے، عافیہ صدیقی اگرچہ امریکی قانون کے تحت قید ہیں لیکن ایسا سلوک بنیادی انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

’غیر رجسٹرڈ افغان شہریوں کی واپسی ہمارا اندرونی معاملہ ہے‘

افغان مہاجرین کی رجسٹریشن اور واپسی پر امریکا یا کسی اور ملک کے ردعمل اور امریکی وفود کی پاکستان میں موجودگی پر ان کا کہنا تھا ہرملک یہ تسلیم کرتا ہے کہ بغیر رجسٹریشن کے کوئی غیر ملکی شہری کسی دوسرے ملک میں نہیں رہ سکتا، غیر رجسٹرڈ افغان شہریوں کی واپسی ہمارا اندرونی معاملہ ہے، اب ملک میں بغیر رجسٹریشن کوئی نہیں رہے گا، جو رجسٹرڈ نہیں ہیں وہ متعلقہ مراکز میں جائیں اور رجسٹریشن کروائیں۔

آئی ایم ایف سے دوسری قسط کے معاملے پر نگران وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ وہ بھی جلد حل ہو جائے گا۔

ایس آئی ایف سی کی کمیٹی میں فوجی افسر کی تعیناتی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ تعیناتیی تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کی گئی، جہاں جہاں جس کی ضرورت ہوگی وہاں اسے لگایا جائے گا۔

انہوں نے اپنے غیر ملکی دوروں کی کامیابیوں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ بیرونی سرمایہ کاری کے لیے چین سے 10، متحدہ عرب امارات سے 7 اور کویت میں 10 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ہیں اور مزید کئی ممالک کے ساتھ سرمایہ کاری کے لیے ایم او یوز پر دستخط ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری کرنے والے ممالک نے سیکیورٹی کا کوئی معاملہ نہیں اٹھایا، وہ پاکستان کو خطے میں اہم ملک کے طور پر دیکھتے ہیں جو چین، بھارت اور دیگر اہم ممالک میں پُل کا کام کرتا ہے۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں