کراچی: عائشہ منزل پر عمارت میں خوفناک آتشزدگی، 3 افراد جاں بحق

اپ ڈیٹ 06 دسمبر 2023
دکان میں لگنے والی آگ نے بقیہ دکانوں اور رہائشی فلیٹس کو بھی لپیٹ لے لیا — فوٹو: ڈان نیوز
دکان میں لگنے والی آگ نے بقیہ دکانوں اور رہائشی فلیٹس کو بھی لپیٹ لے لیا — فوٹو: ڈان نیوز

کراچی کے علاقے عائشہ منزل میں فرنیچر مارکیٹ کی دکان میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں کم از کم 3 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ آگ لگنے کے نتیجے میں پوری عمارت کی حالت خستہ ہو گئی ہے۔

عائشہ منزل پر واقع عرشی شاپنگ مال میں بدھ کی شام فرنیچر مارکیٹ کی ایک دکان میں آگ لگ گئی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے بقیہ دکانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

آگ ابتدائی طور پر صرف دکانوں میں لگی تھی لیکن بعد میں آگ کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی اس نے عمارت میں اوپر بنے رہائشی فلیٹس کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ریسکیو آپریشن جاری ہے اور آگ لگنے کے نتیجے میں 3 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں جائے حادثہ پر موجود ہوں اور لوگوں کو باحفاظت عمارت سے نکال لیا گیا ہے۔

اس سے قبل جوہر آباد پولیس کے افسر یاسر نے بتایا تھا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ گراؤنڈ فلور پر موجود ایک دکان میں لگی اور تیزی سے پھیل گئی۔

انہوں نے کہا کہ یہ تقریباً 4 سے 5 منزلہ عمارت ہے جس کی بالائی منزلوں پر بڑی تعداد میں لوگ رہائش پذیر ہیں جن میں سے اکثر کو بچا لیا گیا ہے، البتہ کچھ لوگ اب بھی وہاں پھنسے ہوئے ہیں جن کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

کے الیکٹرک کے ترجمان نے کہا کہ عرشی مال پر آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی علاقے کی بجلی حفاظت کے پیش نظر منقطع کر دی گئی ہے، کے الیکٹرک کا عملہ ریسکیو انتظامیہ کو مکمل تعاون فراہم کرنے کے لیے جائے وقوع پر موجود ہے۔

تیسرے درجے کی آگ قرار دے دیا گیا ہے، ڈائریکٹر ریسکیو

ریسکیو 1122 کے ڈائریکٹر عابد شیخ نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر لوگوں کو متاثرہ عمارت سے نکال لیا گیا ہے اور اس وقت ریسکیو آپریشن جاری ہے اور کوشش ہے کہ جلد از جلد آگ پر قابو پا لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تیسرے درجے کی آگ ہے اور پوری عمارت آگ کی لپیٹ میں ہیں، اس کے نیچے دو فلور کمرشل تھے جن میں گراؤنڈ اور میزانائن فلور شامل ہیں جبکہ اوپر چار منزلوں پر رہائشی عمارت تھی لیکن پوری عمارت اس وقت آگ کی لپیٹ میں ہے۔

کے ایم سی کے فائر بریگیڈ کے عہدیدار نے بتایا کہ ہمیں شام پانچ بجکر 42 منٹ پر آگ لگنے کی اطلاع ملی اور ابتدائی طور پر کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے دو فائر ٹینڈرز بھیجے گئے تھے لیکن بعد میں صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے شہر بھر سے مزید فائر ٹینڈرز طلب کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ 12 فائر ٹینڈر، دو اسنارکل اور دو باؤزر آگ بجھانے میں مصروف ہیں لیکن ابھی تک ہمیں اس پر قابو پانے کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

دکان میں گیس سیلنڈر لیک ہونے سے آگ لگی، عینی شاہد

ایک عینی شاہد نے دعویٰ کیا کہ کپڑے والا دکان میں گیس سیلنڈر رکھ کر سلائی کر رہا تھا کہ سیلنڈر لیک ہوا جس سے پوری مارکیٹ میں آگ لگ گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ کپڑے والے کے بال اور سر جلا لیکن اتنی دیر میں فوم اور کپڑے کی دکانوں میں اوپر سے نیچے تک آگ لگ گئی۔

سول ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر خالد احمد نے بتایا کہ آگ لگنے کے نتیجے میں زخمی ہونے شخص کو ہسپتال لایا گیا ہے جس کی عمر 23 سال ہے اور اس کی حالت نازک ہے کیونکہ اس کا پورا 100 فیصد جسم جھلسا ہوا ہے۔

گورنر اور وزیر اعلیٰ نے واقعے کا نوٹس لے لیا

گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے عرشی سینٹر میں آگ لگنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سینٹر کے اندر موجود افراد کا باحفاظت انخلا یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

انہوں نے کمشنر کراچی کو ہدایت کی کہ آگ پر قابو پانے کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

ادھر نگران وزیر اعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر نے عائشہ منزل کے قریب عمارت میں آگ لگنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آگ پر فوری طور پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آگ پر جلد سے جلد قابو پایا جائے تاکہ کوئی بڑا نقصان نہ ہو اور لوگوں کو بحفاظت محفوظ مقام تک پہنچایا جائے۔

انہوں نے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو جائے وقوع پر پہنچ کر معاملے کی مانیٹرنگ کرنے کے ساتھ ساتھ فائربریگیڈ کی مزید گاڑیوں کو جائے وقوع پر پہنچ کر آگ بجھانے کا حکم دیا۔

یاد رہے کہ اس واقعے سے 10 دن قبل ہی 25 نومبر کو کراچی میں راشد منہاس روڈ پر شاپنگ مال میں آگ لگنے کے سبب دھوئیں کے باعث دم گھٹنے سے 11 افراد جاں بحق اور 22 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں