بدعنوانی کیس: فواد چوہدری کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد، جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم

اپ ڈیٹ 11 دسمبر 2023
وکیل فیصل چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ یہ تمام معاملہ سیاسی انتقام ہے — فائل فوٹو: ڈان نیوز
وکیل فیصل چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ یہ تمام معاملہ سیاسی انتقام ہے — فائل فوٹو: ڈان نیوز

راولپنڈی کی اینٹی کرپشن عدالت نے 35 لاکھ روپے کے بدعنوانی کیس میں فواد چوہدری کے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کو جوڈیشل کمپلیکس میں سینئر سول جج غلام اکبر کی عدالت پیش کیا گیا۔

وکیل فیصل چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ یہ تمام معاملہ سیاسی انتقام ہے اور انہیں الیکشن سے باہر رکھنے کا ڈرامہ ہے، آرٹیکل میں 260 ایکٹ کے تحت وفاقی وزیر کا عہدہ سروس آف پاکستان بنتا ہے۔

انہوں نے دلائل دیے کہ ڈیزائن اینڈ پلاننگ کمیٹی کا کام ہے، ہاؤسنگ سوسائٹی کا این او سیز جاری کرنا ہے، 6 رکنی ڈی پی سی کے صرف ایک رکن کو شامل کیا گیا ہے، راولپنڈی میں 111 ہاؤسنگ سوسائٹیز ہیں، جن کے پاس این او سیز نہیں۔

وکیل فیصل چوہدری نے مؤقف اپنایا کہ یہ صرف سیاسی انتقام کا کیس ہے اور اس کیس کو ڈسچارچ کیا جائے۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ملک شہزاد نے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ کی رٹ کا معاملہ الگ ہے۔

سینئر سول جج غلام اکبر نے استفسار کیا کہ اس رٹ پٹیشن پر ہائی کورٹ کا کوئی آرڈر دکھا دیں۔

فواد چوہدری نے بچوں سے ٹیلی فون پر بات کرنے کی اجازت مانگی، سینئر سول جج نے انہیں بات کرنے کی اجازت دے دی۔

اینٹی کرپشن نے عدالت سے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کر دی، جبکہ فواد چوہدری کے وکیل نے عدالت سے کیس کو ڈسچارج کرنے کی درخواست کردی

عدالت نے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

بعد ازاں عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے اینٹی کرپشن کی جانب سے فواد چوہدری کے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز (10 دسمبر) راولپنڈی کی مقامی عدالت نے 35 لاکھ روپے کے بدعنوانی کیس میں فواد چوہدری کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں (آج) متعلقہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی تھی۔

پیشی کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا تھا کہ وہ سب جھوٹے کیس بھگت رہے ہیں، مقدمات پر مقدمات بنائے جارہے ہیں، دیکھتے ہیں کتنے بناتے ہیں، میں جعلی کیسز بھگت رہا ہوں، یہ کیس ختم ہوگا تو دوسرا بنادیا جائے گا۔

پسِ منظر

واضح رہے کہ 4 نومبر کو فواد چوہدری کو اسلام آباد سے گرفتار کرلیا گیا تھا، رہنما استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) فواد چوہدری کے بھائی فیصل چوہدری نے ’ڈان نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے گرفتاری کی تصدیق کی تھی۔

5 نومبر کو سابق وفاقی وزیر کو ڈیوٹی مجسٹریٹ عباس شاہ کی عدالت میں پیش کیا گیا، فواد چوہدری کو ظہیر نامی شخص کی جانب سے درج ایف آئی آر میں گرفتار کیا گیا تھا، ایف آئی آر عدالت میں پڑھ کر سنائی گئی۔

پولیس نے ایف آئی آر کا متن پڑھتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ فواد چوہدری نے بطور وفاقی وزیر نوکری کا جھانسہ دے کر 50 لاکھ روپے وصول کیے تھے تاہم فواد چوہدری نے نوکری کا وعدہ پورا نہ کیا، شہری نے جب پیسوں کی واپسی کا تقاضا کیا تو فواد چوہدری نے شہری کو جان سے مارنے کی دھمکی دی۔

پولیس نے عدالت سے 5 روزہ ریمانڈ کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے فواد چوہدری کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔

7 نومبر کو اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کے جسمانی ریمانڈ میں ایک دن کی توسیع کردی تھی۔

خیال رہے کہ فواد چوہدری کی گرفتاری ایسے وقت میں عمل میں آئی تھی جب سابق اسپیکر قومی اسمبلی و رہنما پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اسد قیصر کو گرفتار کیے جانے کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا تھا۔

قبل ازیں رواں برس 25 جنوری کو فواد چوہدری کو اسلام آباد پولیس نے لاہور سے گرفتار کیا تھا، اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ ’فواد چوہدری نے آئینی اداروں کے خلاف شر انگیزی پیدا کرنے اور لوگوں کے جذبات مشتعل کرنے کی کوشش کی ہے، مقدمے پر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے‘۔

تاہم یکم فروری کو فواد چوہدری کو ضمانت منظور ہونے کے بعد اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا تھا۔

9 مئی کو پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو قومی احتساب بیورو نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیرا ملٹری رینجرز کی مدد سے القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کرلیا تھا جس کے بعد ملک میں احتجاج کیا گیا اور اس دوران توڑ پھوڑ اور پرتشدد واقعات بھی پیش آئے۔

احتجاج کے بعد فواد چوہدری سمیت پی ٹی آئی کے کم از کم 13 سینئر رہنماؤں کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت گرفتار کر لیا گیا تھا۔

رہائی کے بعد 24 مئی کو فواد چوہدری نے پی ٹی آئی چھوڑ کر سابق وزیراعظم عمران خان سے اپنی راہیں جدا کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

تاہم جون میں فواد چوہدری نے جہانگیر خان ترین کی قائم کردہ نئی سیاسی جماعت استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔

تبصرے (0) بند ہیں