سابق وزیراعظم و بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو غیر شرعی نکاح کیس میں 7، 7 سال قید کی سزا سنادی گئی۔

ڈان نیوز کے مطابق سینئر سول جج قدرت اللہ نے بشری بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کی درخواست پر اڈیالہ جیل میں سماعت کے بعد گزشتہ روز محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو 5 ،5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ کا 39 روز کی عدت والا فیصلے کا اس کیس میں اطلاق نہیں ہوتا۔

کیس کا فیصلہ تقریباً 3 گھنٹے تاخیر کے بعد آیا ہے، گزشتہ روز سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرکے آج ایک بجے سنانے کا کہا گیا تھا۔

مختصر تحریری فیصلہ جاری

بعدازاں عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کےخلاف دورانِ عدت نکاح کیس کا مختصر تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

دو صفحات پر مشتمل مختصر تحریری فیصلہ سول جج قدرت اللہ نے جاری کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنا تفصیلی فیصلہ انگلش میں ریکارڈ کرا دیا ہے جو 50صفحات پر مشتمل ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا عدت کے دوران نکاح کرنا ثابت ہو گیا اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 496 کی خلاف ورزی پر ملزمان کو 7،7 سال قید اور 5،5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 496 کےتحت غیر قانونی نکاح ثابت ہوتا ہے اور جرمانہ ادا نہ کرنے پر مزید 4 ماہ سزا بھگتنا ہو گی۔

فیصلے کا مقصد مجھے اور بشریٰ بی بی کو ذلیل و رسوا کرنا ہے، بانی پی ٹی آئی

بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اس حوالے سے اپنے ردعمل میں کہا کہ تاریخ میں پہلی بار عدت میں نکاح کا کیس بنایا گیا اور اس کا مقصد مجھے اور بشریٰ بی بی کو ذلیل و رسوا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کے توشہ خانہ ریفرنس میں پہلی بار کسی کو 14 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں پہلی بار کسی ٹرسٹ کی ٹرسٹی پر کیس بنایا گیا ہے، بشریٰ بی بی القادر ٹرسٹ کی ٹرسٹی ہیں جنہوں نے ایک روپے کا مالی فائدہ حاصل نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سائفر کیس میں مجھے حکومت کے خلاف سازش کرنے والوں کو ایکسپوز کرنے کی سزا دی گئی ہے اور 9 مئی کو جس پر ظلم ہوا اسی پر مقدمات بنا دیے گئے، یہ بھی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ کسی شخص پر 200 سے زائد مقدمات بنا دیے گئے، یہ بھی پہلی مرتبہ ہوا ہے اور ایک مفرور ملزم کے ریکارڈ رفتار کے ساتھ مقدمات معاف کیے گئے، یہ بھی پہلی بار ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوا تو انہوں نے پی ٹی آئی کی ٹاپ لیڈر شپ ہی اڑا دی، اب جو امیدوار ہیں انہیں انتخابی مہم بھی نہیں چلانے دی جارہی۔

ادھر بشریٰ بی بی نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدت کا معاملہ قرآن مجید میں ہے اور سب واضح ہے، یہ غیرت اور بے غیرتی کی جنگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیصلہ عوام نے کرنا ہے، باہر سے غلام آگیا ہے اور اب وہ ان کی نوکری کرے گا۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب عام انتخابات میں محض 4 روز باقی ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے غیر شرعی نکاح کیس کا فیصلہ 14 گھنٹے طویل سماعت کے بعد محفوظ کر لیا گیا تھا۔

بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا اور عثمان ریاض گل ایڈوکیٹ عدالت پیش ہوئے تھے اور گواہان کے بیانات پر جرح کی۔

بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی نے 342 کا بیان قلمبند کروایا تھا اور بشریٰ بی بی نے اپنے بیان میں 14 نومبر 2017 کا طلاق نامہ من گھڑت قرار دے دیا تھا۔

بشری بی بی نے بیان دیا کہ خاور مانیکا نے مجھے زبانی طلاق ثلاثہ اپریل 2017 میں دی اور اپریل سے اگست 2017 تک میں نے اپنی عدت کا دورانیہ گزارا جس کے بعد اگست 2017 میں لاہور اپنی والدہ کے گھر منتقل ہو گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ یکم جنوری 2018 کو بانی پی ٹی آئی سے ایک ہی نکاح ہوا۔

عدالت نے طویل سماعت کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا، جو آج سنا دیا گیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 31 جنوری کو بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ ریفرنس میں 14،14 سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔

’ڈان نیوز‘ کے مطابق احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر نے اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان اور ان کی اہلیہ کو کسی بھی عوامی عہدے کے لیے 10 سال کے لیے نااہل بھی کر دیا تھا۔

30 جنوری کو سائفر کیس میں بھی بانی پی ٹی آئی عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو دس، دس سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔

پسِ منظر

25 نومبر 2023 کو بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے اسلام آباد کے سول جج قدرت اللہ کی عدالت سے رجوع کیا اور عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف دورانِ عدت نکاح کا کیس دائر کیا۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ دورانِ عدت نکاح کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد دونوں نے مفتی سعید کے ذریعے فروری 2018 میں دوبارہ نکاح کیا۔

خاور مانیکا نے درخواست میں استدعا کی تھی کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو طلب کیا جائے اور انہیں آئین اور قانون کے تحت سخت سزا دی جائے۔

28 نومبر کو ہونے والی سماعت میں نکاح خواں مفتی سعید اور عون چوہدری نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا۔

5 دسمبر کو ہونے والی سماعت میں خاور مانیکا کے گھریلو ملازم اور کیس کے گواہ محمد لطیف نے بیان قلمبند کرایا تھا۔

11 دسمبر کو عدالت نے غیر شرعی نکاح کیس کو قابلِ سماعت قرار دے دیا تھا۔

2 جنوری 2024 کو اسلام آباد کی مقامی عدالت نے غیر شرعی نکاح کیس میں فرد جرم عائد کرنے کے لیے 10 جنوری کی تاریخ مقرر کی۔

10 جنوری اور پھر 11 جنوری کو بھی فردِ جرم عائد نہ ہوسکی تھی جس کے بعد عدالت نے سماعت ملتوی کردی تھی۔

15 جنوری کو بشریٰ بی بی اور 18 جنوری کو عمران خان نے غیرشرعی نکاح کیس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

تاہم 16 جنوری کو غیر شرعی نکاح کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فردِ جرم عائد کردی گئی تھی۔

31 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی دوران عدت نکاح کیس خارج کرنے کی درخواستیں مسترد کر دیں۔

گزشتہ روز 2 فروری کو عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف غیرشرعی نکاح کیس کا فیصلہ 14 گھنٹے طویل سماعت کے بعد محفوظ کر لیا گیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں