بلوچ طلبہ بازیابی کیس میں عدالت کی جانب سے طلب کیے جانے پر نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے دوران بیان دیا کہ کوئی احمق ہی جبری گمشدگیوں کی وکالت کرے گا۔

’ڈان نیوز‘ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگیوں سے متعلق کیس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کی۔

اٹارنی جنرل منصور اعوان بھی نگران وزیراعظم کے ہمراہ اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے، نگران وزیرداخلہ گوہر اعجاز بھی کمرہ عدالت میں پیش ہوئے، اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ پرانی لسٹ کے علاوہ بھی نئے لوگ غائب ہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ پرانے 12 میں سے 8 لوگ غائب تھے جن میں ابھی تین رہتے ہیں، 9 افراد محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کی حراست میں تھے، 4 افراد کی بازیابی سے متعلق ہمیں مزید وقت درکار ہے، 26 افراد لاپتا تھے، جن میں 2 افراد افغانستان ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کی وکیل ایمان مزاری کو ہدایت دی کہ آپ کی لسٹ کے مطابق انہوں نے جو کہا وہ آپ کاؤنٹر چیک کریں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ نئی لسٹ جو دی گئی وہ اس وقت ’ان ٹریس‘ ہیں، جلد ان کو ٹریس کریں گے۔

عدالت نے نگران وزیراعظم سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ نگران وزیراعظم! آپ نے ریکارڈ دیکھا ہوگا کتنے لوگ غائب ہیں؟ کیا آپ نے ریکارڈ دیکھا ہے کہ آج 26 ویں سماعت ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ہم صرف بلوچ طلبہ کی حد تک کیس دیکھ رہے ہیں، بتایا گیا ہے کچھ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا حصہ بن چکے ہیں، ان کے مطابق کچھ طلبہ گھر آگئے ہیں، کچھ کو ٹریس کررہے ہیں، کیس چلا ہے تو کچھ لوگ گھر آگئے۔

عدالت نے نگران وزیراعظم سے مکالمہ کرتے ہوئے مزید ریمارکس دیے کہ ادارے قانون سے بالاتر تر نہیں ہیں، آپ نے عدالت میں پیش ہوکر ثابت کیا کہ آپ بھی قانون کو جواب دہ ہیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ پورے پاکستان میں سٹوڈنٹس کو اٹھایا جارہا ہے، رپورٹس کے مطابق کچھ لوگ افغانستان جارہے ہیں، کچھ ٹی ٹی پی کو جوائن کررہے، 9 افراد کو سی ٹی ڈی نے اٹھایا، عدالتی حکم پر کچھ لوگ باہر آگئے، ایجنسیوں نے لاپتا افراد کو کلئیر کرکے باہر کردیا، ملک کے ادارے ان تمام معاملات کے جوابدہ ہیں۔

عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ لوگوں کا مؤقف یہ کہ ایجنسی یا ادارے جس کو بھی گرفتار کریں تو عدالت کے سامنے پیش کریں لیکن جب جبری گمشدگیوں کی بات ہورہی ہے تو ان کے اثرات مختلف ہوتے ہیں، ریاست کے اداروں نے ملک کو کیسے چلانا ہے ان کو پتا ہے، ہم نے ڈی جی آئی اور ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) اور ڈی جی انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) پر اسی لیے کمیٹی بنائی تھی۔

بلوچستان کے نان اسٹیٹ ایکٹرز میری زندگی کے پیچھے پڑے ہیں، نگران وزیراعظم

نگران وزیر اعظم نے عدالت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ہم تمام لوگ آئین کے اندر رہ جواب دہ بھی ہیں اور کام بھی کررہے ہیں، عدالت نے ہمیں بلایا اور ہم حاضر ہوئے۔

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان سے تعلق ہے تو وہاں کے حالات کا مجھے بخوبی اندازہ ہے، بلوچستان میں ’آرمڈ اسٹرگل‘ کا ہمیں سامنا ہے، ’نان اسٹیٹ ایکٹرز‘ بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہے ہیں، ’نان سٹیٹ ایکٹرز‘ کالعدم ٹی ٹی پی ہو یا کوئی بھی وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’آرمڈ اسٹرگلر‘ کو نہ میں، نہ اٹارنی جنرل، نہ عدالت اور نہ ایمان صاحبہ اجازت دے سکتی ہیں، بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ’نان اسٹیٹ ایکٹرز‘ پر رپورٹ تیار کرلی تھی، سابق چیف جسٹس جب ریٹائرڈ ہوگئے تو ان کو قتل کیا گیا کہ ہمارا چہرہ کیوں دکھایا گیا۔

نگران وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے ان کی منت سماجت کی کہ لاپتا افراد سے متعلق ہمیں نام فراہم کریں، کون احمق اور بےوقوف ہوگا جو جبری گمشدگیوں کی ’ایڈووکیسی‘ (وکالت) کرے گا، آج سے 3 ماہ قبل کوسٹل ہائی وے پر لوگوں کو زندہ جلایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کی تنظیموں سے گزارش ہے کہ ریاست پر بھی تنقید کریں مگر نان اسٹیٹ ایکٹرز پر بھی ضرور تنقید کریں، لسانی اور زبانی تفریق پر لوگوں کو قتل کرتے ہیں مگر مجال ہے، سب خاموش۔

انوار الحق کاکڑ نے مزید کہا کہ جبری گمشدگیوں کا نگران سیٹ اپ میں بڑا مسئلہ تھا، ہم نے اپنی بھرپور کوشش کی، ہمارے سامنے شواہد نہیں آتے تو کس چیز پر ’کنکلوڈ‘ کریں؟ بلوچستان کے نان اسٹیٹ ایکٹرز میری زندگی کے پیچھے پڑے ہیں، اپنی زندگی کے لیے میں اقوام متحدہ سے مطالبہ کروں؟ یا ریاست پاکستان اور عدالتوں سے؟ ہم نے 600 نان اسٹیٹ ایکٹرز کو قومی دھارے میں شامل کیا۔

چور، ڈاکو اور دہشت گرد سب کیلئے قانون برابر ہے، عدالت

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ آپ ہی کے اٹارنی جنرل نے خود کہا کہ 9 افراد سی ٹی ڈی کی حراست سے نکل آئے، آج سے پہلے کبھی ایسا بیان سامنے نہیں آیا، کتنے لوگوں کو پکڑ کر انکو سزا دلائی؟

عدالت نے ریمارکس دیے کہ چور، ڈاکو اور دہشت گرد سب کیلئے قانون برابر ہے، ریاست اور اداروں کی ناکامی ہے کہ لوگوں کو عدالتوں میں پیش نہیں کرتے۔

نگران وزیراعظم نے کہا کہ یہ بسوں سے اتار کر نام پوچھتے ہیں اور چوہدری یا گجر کو قتل کر دیتے ہیں، یہ کہتے ہیں کہ طلبہ کی لسانی بنیادوں پر پروفائلنگ نہ کریں، سسٹم میں کمی اور خامیاں ہیں، ثبوت نہیں آتا تو کس کو کیسے سزا دیں، دہشتگردی سے 90 ہزار شہادتیں ہوئیں، 90 لوگوں کو سزا نہیں ہوئی، مجھ سے صحافی نے پوچھا کہ آپ بلوچستان واپس کیسے جائیں گے؟

انہوں نے کہا کہ پیرا ملٹری فورسز، انسداد دہشتگردی کے اداروں پر الزامات لگائے جاتے ہیں، میں صرف لاپتا افراد کے حوالے سے وضاحت کر رہا ہوں، یہ لاپتا افراد کا پوچھیں تو 5 ہزار نام دے دیتے ہیں، یہ خود بھی اس ایشو کو حل نہیں کرنا چاہتے، ان کی وجہ سے پوری ریاست کو مجرم تصور کرنا درست نہیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی سے مکالمہ کرتے ہوئے وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ اقوام متحدہ کا بھی ایک طریقہ ہے، وہ پوچھتے ہیں کون لاپتا ہوا، اقوام متحدہ والے پوچھتے ہیں آپ جسٹس محسن اختر کیانی ہیں؟ آپ لاپتا ہو گئے ہیں؟

اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ آپ مجھے بتا رہے ہیں کہ میں نے جبری لاپتا ہو جانا ہے؟ جواب میں نگران وزیراعظم نے کہا کہ میں مثال دے رہا ہوں، میں انوار کا نام لے لیتا ہوں۔

آئے روز ریاست پر الزامات کا سلسلہ رُکنا چاہیے، نگران وزیراعظم

نگران وزیراعظم نے کہا کہ یہ معاملہ ختم ہونا چاہیے، آئے روز ریاست پر الزامات کا سلسلہ رُکنا چاہیے، قانون کو دیکھنا ہوگا کہ نان سٹیٹ ایکٹرز اور اسٹیٹ ایکٹرز کو کیسے دیکھنا ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ بات عدالت، ایمان مزاری اور آپ کی ایک ہی ہے، ریاست مخالف لوگوں کو کوئی عدالت تحفظ نہیں دے سکتی۔

عدالت نے نگران وزیراعظم سے استفسار کیا کہ کیا اس معاملے پر آپ قانون سازی کرسکتے ہیں؟

نگران وزیراعظم نے کہا کہ میں نہیں کرسکتا، نئے پارلمان کے پاس اختیارات ہوں گے، وہ کرسکتے ہیں۔

جن لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے انہیں عدالتوں میں پیش کرنا لازم ہے، عدالت

عدالت نے ریمارکس دیے کہ پرچے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، کسی اور کے پاس نہیں، اسی ملک میں بڑے بڑے دہشت گردوں کو عدالتوں سے سزائیں ہوئیں، جن لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے ان کو عدالتوں میں پیش کرنا لازم ہے۔

نگران وزیراعظم نے کہا کہ یہ معاملہ بڑی سیاسی جماعتوں کو حل کرنا چاہیے، ہمارے اداروں نے بڑی قربانیاں دی ہیں، روزانہ اداروں کے جوان شہید ہورہے ہیں، روزانہ اداروں کے جوانوں کے بچے یتیم ہورہے ہیں، مگر ہم خاموش ہیں، آئین پاکستان کا آرٹیکل 5 مجھ سے غیر مشروط وفاداری مانگتا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ بلوچستان جانے کی ضرورت نہیں، ہمارے سامنے اسلام آباد میں مثالیں موجود ہیں، یہ مطیع اللہ جان آپ کے سامنے کھڑے ہیں، ان کو دن دیہاڑے اٹھایا گیا، ویڈیو موجود تھی، بات ایک ہی ہے کہ سب کو قانون کی پاسداری کرنی چاہیے اور قانون کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے۔

نگران وزیراعظم نے کہا کہ مطیع اللہ جان کے ساتھ جو ہوا اس کا بھی مقدمہ ہونا چاہیے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ لاپتا افراد کی بازیابی کے حوالے سے کامیاب اقدامات کا کریڈت حکومت کو جاتا ہے، قانون کی پاسداری ہر شہری کا حق ہے، اس بات کا کریڈٹ حکومت کو جاتا ہے 59 لوگوں میں سے صرف 8 لوگ رہ گئے ہیں۔

اس دوران کمرہ عدالت میں موجود ایمان مزاری نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ یہاں نگران وزیراعظم جبری گمشدگیوں پر نہیں ’انٹرایجنسی‘ پر بات کررہے ہیں۔

ایمان مزاری نے مزید کہا کہ ریاست خود ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے، ہیومن رائٹس کمیشن و دیگر اداروں کے رپورٹ موجود ہیں کہ جبری گمشدگیوں میں پاکستان کا نمبر کیا ہے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ آپ اور حکومت کو کریڈٹ جاتا ہے کہ اتنے لوگ بازیاب ہوگئے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ میری استدعا ہے کہ وزیراعظم کو عدالت نے طلب کر رکھا ہے تو وکیل صاحبہ ان سے براہِ راست بات نہ کریں۔

3 رکنی بڑی کمیٹی بنائی ہے، آئندہ اُن سے پوچھیں گے، عدالت

نگران وزیراعظم نے کہا کہ ایمان مزاری میری چھوٹی بہن ہیں، مگر ان کی رپورٹ سے میں متفق نہیں، بین الاقوامی رپورٹس میں پاکستان سے آگے اور بھی ممالک ہیں، میں نے ریاست کی بات کی ہے، گمشدہ افراد کے لواحقین کے حوالے سے بات نہیں کی، جس کو دیکھو ہمیں لواحقین کے نام پر لیکچر دے رہے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ کی بات اپنی جگہ پر مگر کمیشن کی رپورٹ بھی واضح ہے، ہم نے 3 رکنی بڑی کمیٹی بنائی ہے، آئندہ ان سے پوچھیں گے۔

اِس پر نگران وزیراعظم نے کہا کہ میری درخواست ہے کہ یہ ایگزیکٹیو کا دائرہ اختیار ہے، ان کو کرنے دیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کس کو کمیٹی میں شامل کریں؟ نگران وزیراعظم نے کہا کہ ٹھیک ہے جو بھی ہوگا ہم قانون کے مطابق دیکھیں گے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کو ہدایت دی کہ آپ نے مزید جو بھی دینا ہے دستاویزات کی شکل میں دیں، جو لوگ بازیاب ہوئے ان کے گھر والوں کی خوشی کا کسی کو اندازہ نہیں ہوگا۔

ایمان مزاری سے مکالمہ کرتے ہوئے عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ درخواست لائیں، اٹارنی جنرل اور نگران حکومت کی کاوش سے لوگ واپس آئے، ہمیشہ سے ہمیں گلہ رہا کہ جو لوگ واپس آتے ہیں وہ کبھی عدالت نہیں آتے، ہم نے کمیٹی کے ساتھ اٹارنی جنرل کو رکھا ہے تاکہ یہ خود معاملات کو دیکھیں۔

عدالت سے ایمان مزاری نے استدعا کی کہ جن لوگوں کے خلاف ایف آئی آرز درج ہیں ان کی تفصیلات مہیا کی جائیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ جن جن لوگوں کے خلاف مقدمات درج ہیں وہ تفصیلات دی جائیں گی۔

عدالت نے اسلام آباد سے لاپتا محمد ریاض نامی شخص کی بازیابی پر ان کی درخواست نمٹا دی۔

دریں اثنا نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ ہائی کورٹ سے روانہ ہوگئے، عدالت نے جبری گمشدگیوں کے حوالے سے دیگر درخواستوں پر سماعت ملتوی کردی، عدالتی عملے کے مطابق آئندہ سماعت کی تاریخ بعد میں دی جائے گی۔

جبری گمشدگی کے نام پر ریاست پر لگے الزامات کا دفاع کیا، نگران وزیراعظم

اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے بعد واپس روانگی کے وقت نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے میڈیا سے گفتگو کی۔

صحافی نے سوال کیا کہ آپ نے جبری گمشدگی کا دفاع کیا؟ جواب میں نگران وزیراعظم نے کہا کہ میں نے جبری گمشدگی کے نام پر ریاست پر لگے الزمات کا دفاع کیا۔

صحافی نے سوال کیا کہ یہ بندے کدھر تھے؟ نگران وزیر اعظم نے جواب دیا کہ یہ الزام ہے اور اس کو الہامی حیثیت نہ دیں، اس پر کام ہو رہا ہے، جب مکمل ہوگا تو سب کو بتا دیں گے۔

صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ نگران حکومت نے کس آئین کے تحت 90 روز کے بجائے 6 ماہ گزارے؟ نگراں وزیر اعظم نے جواب دیا کہ 73 کے آئین کے تحت حکومت کی۔

واضح رہے کہ 13 فروری کو لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق کیس کی گزشتہ سماعت میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا تھا۔

تاہم 19 فروری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگیوں کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ غیرحاضر رہے، عدالت نے 28 فروری (آج) ہونے والی آئندہ سماعت پر نگران وزیراعظم، نگران وزیر دفاع اور نگران وزیر داخلہ کو ایک بار پھر طلب کرلیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں