لاہور کی انسداد دہشتگری عدالت نے 9 مئی جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات میں سنی اتحاد کونسل کے رکن صوبائی اسمبلی حافظ فرحت عباس کو 9 مارچ تک گرفتار کرنے سے روک دیا۔

’ڈان نیوز‘ کے مطابق سابق رکن پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حافظ فرحت عباس نے لاہور کی انسداد دہشتگری عدالت میں عبوری ضمانت کی درخواست دائر کی۔

انسداد دہشتگری کی خصوصی عدالت کے جج ارشد جاوید نے حافظ فرحت عباس کی درخواستِ ضمانت پر سماعت کی۔

عدالت نے حافظ فرحت عباس کو 9 مارچ تک گرفتار کرنے سے روکنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں شامل تفتیش ہونے کا حکم دے دیا۔

پسِ منظر

یاد رہے کہ گزشتہ برس 9 مئی کو القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا جس کے دوران لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں 9 مئی کو مسلم لیگ (ن) کے دفتر کو جلانے کے علاوہ فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا، سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا جب کہ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے۔

مظاہرین نے لاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر بھی دھاوا بول دیا تھا جسے جناح ہاؤس بھی کہا جاتا ہے اور راولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو)کا ایک گیٹ بھی توڑ دیا تھا۔

اس کے بعد ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑائی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 1900 افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا جب کہ عمران خان اور ان کی پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں