• KHI: Partly Cloudy 29.3°C
  • LHR: Partly Cloudy 27°C
  • ISB: Partly Cloudy 25°C
  • KHI: Partly Cloudy 29.3°C
  • LHR: Partly Cloudy 27°C
  • ISB: Partly Cloudy 25°C

منشیات چھوڑنے کیلئے تیار

شائع February 27, 2013 اپ ڈیٹ February 27, 2013 11:58am

نوری آباد میں قائم ایدھی مرکز کا ایک منظر۔ فائل فوٹو۔
نوری آباد میں قائم ایدھی مرکز کا ایک منظر۔ فائل فوٹو۔

رضوانہ نقوی نے امیروں اور غریبوں کے لیے منشیات کی لت سے چھٹکارے کے لیے مہیا سہولیات کا جائزہ لیا۔

نوید یونس کی جانب سے قائم کردہ نیو ہوریزن کیئر سینٹر 2001ء سے سالانہ دو ہزار مریضوں کو علاج فراہم کررہا ہے۔ سینٹر تقریباً پوری طرح زکٰوۃ اور عطیوں پر چلتا ہے جس کے تین سینٹروں میں 300-350 مریضوں کو ایک وقت میں میں رکھا جاسکتا ہے۔ اس کا ایک سینٹر کراچی سینٹرل جیل میں بھی ہے۔ بدقسمتی سے نوید کو ڈرگ مافیہ کی جانب سے ہلاک کردیا گیا تاہم انکے مشن کو اب انکے بھائی سہیل یونس آگے بڑھا رہے ہیں۔

 علاج کے بعد بھی اس بات کا ڈر ہمیشہ بنا رہتا ہے کہ مریض جب واپس معاشرے جائے گا تو پھر لت کا شکار ہوجائے گا کیوں کہ اسے وہاں وہی لوگ نظر آتے ہیں جن کے ساتھ اسنے دنیا کی پریشانیوں سے دور ہونے کے لیے منشیات کا استعمال کیا تھا۔

 یونس کا کہنا ہے کہ'ڈسچارج ہونے کے بعد بھی مریضوں کو روزانہ کی بنیادوں پر ہماری جانب سے قائم کردہ 15 بوتھس یا سینٹروں میں رپورٹ کرنا ہوتا ہے اور اپنی حالت کے بارے میں آگاہ کرنا ہوتا ہے۔ اگر اس میں نشے کی عادت کی علامات ابھی بھی موجود ہوتی ہیں تو اسے واپس ریہیب پروگرام میں شامل کرلیا جاتا ہے۔ اس سرگرمی سے مریض کو اپنی مدد خود کرنے کا موقع ملتا ہے اور اسکے ساتھ کاؤنسلنگ بھی کی جاتی ہے۔

 جب ایک انسان منشیات کی لت میں پڑ جاتا ہے تو اسے مدد حاصل کرنا چاہیئے کیوں اس سے کامیاب چھٹکارے کے لیے تھیراپی، دواؤں اور مختلف قسم کی مشقوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

 منشیات کی عادت سے چھٹکارا آسان اور تیز عمل نہیں ہے۔ اس سے چھٹکارے وقت درکار ہوتا ہے جبکہ اس طویل عمل کے لیے عزم، حوصلہ افزائی اور مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اصل میں، علاج منشیات کے استعمال کی مدت اور شدت پر منحصر ہے. ہر مریض کا علاج اس کے حالات اور مرض کی شدت کو مد نظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔

 ولنگ ویز کی کلینکل ماہر نفسیات ڈاکٹر ثانیہ کے مطابق، جہاں کچھ مریضوں کا گھر پر ہی علاج کیا جاسکتا ہے وہیں کچھ کو ایک سے تین ماہ تک اسپتال میں داخل کروانا پڑتا ہے جبکہ مریض کی حالت اور گھر کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مدت میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے باوجود بھی اسے فولو اپ پروگرام میں رکھا جاتا ہے کیوں کہ مرض سے مکمل بحالی کے لیے ایسا کرنا بہت ضروری ہے۔ فولو اپ سے اس بات کو نقینی بنایا جاتا ہے کہ مریض پھر سے منشیات کی لت کی جانب گامزن نہ ہوجائے۔

 ڈاکٹر ثانیہ کہتی ہیں کہ کاؤنسلنگ نہ صرف مریض کے لیے بلکہ اس کے گھر والوں کے لیے بھی ضروری ہے اور علاج کا اہم حصہ ہے۔ اپنے دوستوں اور رشتہ دواروں کی حمایت ایک مریض کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 'وہ گھر والے ہی ہوتے ہیں جو مریض کے گھر واپس جانے کے بعد انکا خیال رکھتے ہیں اس لیے انکی کاؤنسلنگ بھی ضروری ہوتی ہے۔'

 ولنگ ویز میں مریض کو دو سال تک فولو اپ پروگرام میں رکھا جاتا ہے اور اس مدت میں اگر منشیات کی لت کے واپس لگنے کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں تو مزید علاج فراہم کیا جاتا ہے۔ ادارہ گزشتہ 30 سالوں سے شراب اور منشیات کے عادی مریضوں کو علاج فراہم کررہا ہے۔ ادارے کے چار مراکز قائم ہیں جو کہ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور مری میں واقع ہیں۔ ہر مرکز میں 12 سے 14 مریضوں کو ایک وقت میں علاج فراہم کیا جاسکتا ہے۔ تاہم یہ سہولت ان افراد کو میسر ہے جو اسکی استطاعت رکھتے ہیں۔

 بڑی تعداد میں مریض جو معاشرے کے نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اس مہنگے علاج کی استطاعت نہیں رکھتے اور مخیر حضرات اور ایدھی سینٹرز جیسی این جی اوز کی جانب سے قائم کردہ اداروں سے مدد لیتے ہیں جہاں مطلوبہ مدد سڑک پر رہنے والے ایک انسان کو بھی مل سکتی ہے۔

ایدھی مراکز میں سڑک پر رہنے والے انسان کو بھی وہی سہولیات دی جاتی ہیں جو ایک اچھے گھرانے سے تعلق رکھنے والے شخص کو دی جاتی ہیں۔ تاہم سہیل یونس کے مطابق، این ایچ سی سی میں صرف اب ان مریضوں کو داخل کیا جاتا ہے جنہیں انکے گھر والے داخل کرواتے ہیں کیوں کہ ایک شخص کو مدد فراہم کرنے سے پورے خاندان کو سکون فراہم ہوتا ہے۔

 کچھ مراکز میں خود کا خیال رکھنے پر تھیراپی کے حصے کے طور پر عمل کروایا جاتا ہے جبکہ دیگر ایدھی جیسے دیگر مراکز میں مریضوں سے کام کروایا جاتا ہے۔ اس سے دو مقاصد پورے ہوتے ہیں۔ ایک تو کام کرنے سے مریض مصروف رہتا ہے اور اپنے مرض سے اسکا دیہان ہٹ جاتا ہے۔ دوسرا یہ کہ اس عمل سے مریض کچھ ہنر سیکھ جاتا ہے جس سے گھر واپس جانے کے بعد مدد مل سکتی ہے۔ یہ ایسے معاملات میں جہاں مریض بے روز گار ہو اور غیر ہنر مند ہو مفید ثابت ہوتا ہے کیوں کہ ان دونوں وجوہات کے باعث مریض واپس منشیات کی لت کی جانب گامزن ہوسکتا ہے۔

 یونس کہتے ہیں کہ این ایچ سی سی مریضوں کے لیے روزگار کا بھی انتظام کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ .ہم ایسا کرنے میں اس لیے کامیاب ہوجاتے ہیں کیوں کہ ہماری جان پہچان کاروباری شخصیات سے بھی ہے۔ ہم مریضوں کو رکشہ یا ٹھیلوں کا بھی انتظام کرکے دیتے ہیں تاکہ وہ اس کے ذریعے سے روزگار حاصل کرسکیں۔.

کارٹون

کارٹون : 24 اپریل 2026
کارٹون : 23 اپریل 2026