دہشت گردوں نے کوئٹہ سبی شاہراہ کو 2 مقامات پر بلاک کیا، پارلیمانی سیکریٹری لیاقت علی لہری کے محافظوں سے ہتھیار چھین لیے، فورسز سے ایک گھنٹے جھڑپ کے بعد دہشتگرد فرار ہوگئے۔
اپ ڈیٹ24 فروری 202501:09pm
دہشت گرد بھاری اسلحے سے لیس تھے اور بڑے حملے کا منصوبہ بنا رہے تھے، تاہم سیکیورٹی اہلکاروں کی بروقت اور جرات مندانہ کارروائی نے بڑے سانحے کو ٹال دیا، ایس ایچ او
دہشتگردوں کا نوشکی کے پولیس اسٹیشن پر بھی حملہ، فورسز کی بھاری نفری پہنچ گئی، شدید فائرنگ کا تبادلہ، سرچ آپریشن شروع، وزیراعظم، وزیراعلیٰ بلوچستان کا اظہار مذمت
پاکستان میں امن افغانستان میں امن کے ساتھ مشروط ہے، دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے کابل کیساتھ حکومتی سطح پر مذاکرات جلد شروع کیے جائیں، اجلاس میں متفقہ فیصلہ
یکم جولائی سے 13 دسمبر 2024 تک اس گروپ نے 600 سے زائد حملے کیے، جن میں سے زیادہ تر افغان علاقے سے کیے گئے، تجزیاتی اور تعزیرات کی نگرانی کرنیوالی ٹیم کی رپورٹ
سیکیورٹی فورسز نے ڈیرہ اسمٰعیل خان، وزیرستان، لکی مروت اور خیبر کے علاقوں میں آپریشن کیے، دہشتگردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر کارروائیاں کی گئی، آئی ایس پی آر
لاہور سے فتنہ الخوارج کے 7 خطرناک دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا، شرپسندوں سے شہر کے اہم تعلیمی ادارے کے نقشے بھی برآمد کیے گئے، ترجمان محکمہ انسداد دہشت گردی
پاکستانی حکام، کابل کو پہلے ہی خبردار کر چکے تھے کہ اگر افغان سرزمین سے پاکستان پر کوئی بڑا حملہ ہوا تو وہ جوابی کارروائی کریں گے اور اموات کو درگزر نہیں کیا جائے گا۔
پشاور , مہمند بائیزئی میں آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے 8, 8، کرک آپریشن میں 3خوارج کو جہنم واصل کیا گیا, فائرنگ کے تبادلے میں سکیورٹی فورسز کے 3 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا، آئی ایس پی آر