اشرافیہ اور ریاست

11 دسمبر 2013

Email


السٹریشن -- خدا بخش ابڑو
السٹریشن -- خدا بخش ابڑو

حمزہ علوی دس سال پہلے اسی ہفتے انتقال کر گئے تھے- خوش قسمتی سے مجھے چند دن پہلے اسی یونیورسٹی میں جہاں میں پڑھاتا ہوں ایک اجتماع کے انعقاد میں حصہ لینے کا موقع ملا جو ان کی یاد میں منعقد کیا گیا تھا، اگر چہ یہ بات پریشان کن تھی کہ سامعین میں شامل نوجوانوں کی بڑی تعداد اس عظیم انسان کی تصنیفات سے کم ہی واقف تھی-

مجھے علم نہیں ہے کہ ان کی دسویں برسی کے موقع پر علوی کی تصنیفات پر غور و فکر کرنے کے لئے کسی اور اجتماع کا اہتمام کیا گیا ہے یا نہیں، جو میرے خیال میں لمحہ فکر ہے، خاص طور پر اگر ہم یہ سوچیں کہ پاکستان کی سیاست اور ثقافت کو سمجھنے میں ان کی خدمات کس قدر گرانقدر ہیں، ان کے انقلابی نظریہ کا تو ذکر ہی کیا-

اس مضمون کا عنوان بھی وہی ہے جو علوی صاحب کے ایک مضمون کا عنوان تھا جو 1983 میں شائع ہونے والے ایک مجموعے میں شامل تھا جس میں پاکستان کے ترقی پسند دانشوروں کو (جن کا تعلق مختلف ملکوں سے تھا) بڑی تعداد میں ایک جگہ اکٹھا کر دیا گیا تھا جو ملک کے ڈھانچے کی حرکیات کو بیان کرنا چاہتے تھے- ان کے مضمون کا عنوان 'کلاس اینڈ اسٹیٹ' تھا اور نو آبادیاتی ریاست کے بعد لکھے گئے ان کے سارے سابقہ مضامین کی بنیاد پر لکھا گیا تھا-

علوی صاحب کی نظریاتی تصنیفات کئی برسوں تک لوگوں کو متاثر کرتی رہیں- اب وقت بدل چکا ہے اور بہت سے ایسے نیو-مارکسسٹ دانشوروں کے دائرہ سے خارج ہو چکے ہیں- اسکے باوجود علوی صاحب کی تصنیفات کو پہلے کی طرح پڑھنا آج بھی ہمیشہ کی طرح ضروری ہے تاکہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ 'کلاس اینڈ اسٹیٹ' کے لکھے جانے کے بعد کی تین دہائیوں میں پاکستانی معاشرے اور ریاست میں کس قسم کی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں-

مختصراً، علوی صاحب کی دلیل یہ تھی کہ نو آبادیادتی نظام کے ختم ہونے کے بعد اقتدار کا ڈھانچہ سماج کے کسی ایک با اثر طبقہ کی بنیاد پر قائم نہیں تھا بلکہ یہ 'ملٹری-بیوروکریسی کی امراء شاہی حکومت' پر یا با الفاظ دیگر حکومت کے مستقل عناصر کی بنیادوں پر قائم تھا-

طبقاتی قوتیں جیسے گاؤں کے زمیندار، شہروں کے کاروباری افراد اور سامراجی سرمایہ دار بااثرعناصر تھے لیکن ان میں سے کسی کو بھی 'حکمراں طبقہ' نہیں قرار دیا جا سکتا تھا- در حقیقت سول بیوروکریسی اور فوج ملک کی سب سے طاقتور قوت تھی کیونکہ وہ مذکورہ تمام طبقات کے درمیان معاملات طے کر سکتی تھیں-

علوی نے اس حقیقت کو بھی بیان کیا ہے کہ کس طرح 'ملٹری-بیوروکریسی کی امراء شاہی حکومت' کے اندر طاقت کا توازن 1960 کے وسط سے فوج کی جانب جھک گیا-

انھوں نے --دوسرے انقلابی دانشوروں مثلاً اعجاز احمد اور اقبال احمد-- کے ساتھ مل کر یہ بتایا کہ کس طرح سول اور فوجی سروسز کی مغرب زدہ اشرافیہ کو تبدیل کیا جارہا تھا اور ان کی جگہ متواتر نچلے درمیانہ طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ بھرتی کیئے جا رہے تھے جو کہیں زیادہ قدامت پسند تھے-

وقت گزرنے کے ساتھ اب یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ علوی کی خدمات اہمیت رکھتی ہیں لیکن نو آبادیاتی نظام کے خاتمہ کے بعد اقتدار کے نظام کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیئے کافی نہیں ہیں-

مثلاً، انھوں نے اس بات کو وضاحت سے نہیں بتایا کہ اقتدار کے اس نظام کو جائز کس طرح قرار دیا گیا- انھوں نے بعد ازاں اس کمی کا ازالہ اس طرح کیا کہ تحریک پاکستان کا مادیاتی اور دائیں بازو کے مذہبی نظریات کا تجزیہ پیش کیا لیکن اس فکر کو انھوں نے اپنے اصلی نظریہ کا حصہ نہیں بنایا-

علوی نے نام نہاد 'متوسط طبقات' کے رول پر بھی کم روشنی ڈالی ہے جو پاکستان کے سماجی اور سیاسی منظر نامہ میں دن بدن اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے- انھوں نے اپنے نظریہ میں ایک اہم عنصر کو نظرانداز کیا ہے جس کے لئے میں نے اپنے ایک حالیہ کالم میں 'بازار بورژوازی' کی اصطلاح استعمال کی ہے-

علوی کے سماجی نظریات کے بارے میں ہمیں یہ نہیں سمجھنا چاہیئے کہ یہ ابدی حقیقت ہیں- یہ ہمیں دنیا کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں، اور اب یہ نئی نسل کے دانشوروں پر منحصر ہے کہ وہ پچھلی نسل سے فیض یاب ہو کر دور حاضر کو سمجھنے کی کوشش کریں-

ملٹری-بیوروکریسی کی امراء شاہی حکومت کے تعلق سے علوی کی بنیادی فکر کو رد کرنا آج مشکل ہے- گو کہ اس میں دو رائے نہیں کہ یہ رول تبدیل ہو چکا ہے اور یہ کہ معاشرے کے ساتھ ریاست کے ادارے کے تعلقات اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکے ہیں جس کی پیش بینی علوی نے کی تھی، امراء شاہی حکومت --- اور خاص طور پر اس کا ملٹری کا شعبہ آج بھی اقتدار کی بانٹ میں ثالث کا رول ادا کرتا ہے-

بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ علوی کے مکتبہ فکر کے لوگوں کو عدالت عظمیٰ سے چیلنج کا سامنا ہے، جو عوام کی حمایت کی وجہ سے اقتدار کا خود مختار مرکز بن چکی ہے جس کا متواتر 'ملٹری-بیوروکریسی کی امراء شاہی حکومت' سے ٹکراؤ ہوتا رہتا ہے-

بہر حال ضروری ہے کہ ہم اس موقع پر عدالت عظمیٰ کے موجودہ رول کا جائزہ لیں، خاص طور پر اس لئے بھی کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری اس ہفتہ اپنے عہدے سے رخصت ہونے والے ہیں-

میرا خیال ہے کہ بہت سے پاکستانیوں نے ---خاص طور پر وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ 'قانون کی حکمرانی' ہر مرض کی دوا ہے--- گزشتہ لگ بھگ چھ سال سے عدالتی فعالیت کو غلط سمجھا ہے- چیف جسٹسس کی بھاری بھرکم شخصیت سے قطع نظر فوری طور پر ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹھنڈے دل سے ادارہ کی حیثیت سے عدلیہ کے رول کا تجزیہ کیا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ یہ کس حد تک اقتدار کے ایوانوں کو کمزور کر رہی ہے-

سب سے پہلے تو اس بات کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ عدالت عظمیٰ کا نظریہ ملٹری-بیوروکریسی کی امراء شاہی حکومت کے تعلق سے وہی ہے جو ریاستی آئیڈیالوجی کا- اس کے بارے میں تاثر یہ ہے کہ یہ سیکولرازم، مزدور طبقے کے مفادات اور نسلی قومیت پرستی کی پر زور مزاحمت کرتی ہے- جیسا کہ میں نے پچھلے ہفتے کہا تھا ہمیں چاہیئے کہ ہم عوامی مقبولیت سے یہ نہ سمجھیں کہ وہ حالات کو جوں کا توں برقرار رکھنا نہیں چاہتی-

دوسرے یہ کہ، جیسا کہ علوی نے کئی برس پہلے کہا تھا، ہمِیں اس حقیقت کی وجہ سے گمراہ نہیں ہونا چاہیے کہ ریاستی ادارے بڑی حد تک متوسط طبقہ پر مشتمل ہیں- ملٹری اور سیول سروسز کی طرح، عدالت عالیہ بھی بجائے خود زمینداروں اور سرمایہ داروں پر مشتمل نہیں ہے- لیکن ان چیزوں سے ہمیں اس بات کا بالکل پتہ نہیں چلتا کہ ان اداروں کی سیاسی ساخت کس نوعیت کی ہے-

تیسرے یہ کہ، سیاستدانوں کے ساتھ عدالت عظمیٰ کے ٹکراؤ کی بہت زیادہ تشہیر اور اس سے کچھ کم دیگر اداروں کے ساتھ اس کا ٹکراؤ اس حقیقت سے گمراہ کرتا ہے کہ ما تحت عدالتیں آج بھی زمینداروں، سرمایہ داروں اور مقامی بیوروکریسی کے اداروں کے ساتھ ہیں- دوسرے معنوں میں، تھانہ-کچہری کلچر آج بھی اسی شدت کے ساتھ موجود ہے-

مختصر یہ کہ علوی کا ملٹری-بیوروکریسی امراء شاہی کی حکومت کا نظریہ، ہمیشہ سے ملٹری-بیوروکریسی-عدلیہ امراء شاہی حکومت کا رہا ہے- یہ کہ اس طرز حکومت کے آخرالذکر عنصر کو حالیہ عرصے میں شہرت حاصل ہوِئی، اس جزوی جدوجہد کو ظاہر کرتا ہے جو ہمیشہ سے نوآبادیاتی نظام کے بعد اقتدار کے نظام کی خصوصیت رہی ہے-

جوں جوں ملک میں اور خطّے میں تضادات میں اضافہ ہوتا گیا یہ جدوجہد بھی گہری ہوتی گئی ہے- مزید یہ کہ، اقتدار حاصل کرنے کی خواہشمند قوتیں مجبور ہو گئی ہیں کہ وہ بار بار ایک ہی بات دہرائیں کہ 'قانون کی حکمرانی' اور 'جمہوریت' کا قیام ہی سیاسی سچائی ہے-

آخر میں میں یہی کہونگا کہ جیسا کہ حمزہ علوی نے کئی دہائیوں پہلے کہا تھا، طبقہ اور ریاست کے بنیادی حقائق سے اب بھی انکار نہیں کیا جاسکتا-

انگلش میں پڑھیں

ترجمہ: سیدہ صالحہ