تحفظ پاکستان ایکٹ: کچھ سفارشات

15 اگست 2014

ای میل

مزید اختیارات دینے کے بجائے ہونا یہ چاہیے کہ پارلیمنٹ اور عدالت سیکورٹی اور انٹیلی جنس اداروں پر نظر رکھیں
مزید اختیارات دینے کے بجائے ہونا یہ چاہیے کہ پارلیمنٹ اور عدالت سیکورٹی اور انٹیلی جنس اداروں پر نظر رکھیں

ویسے تو شمالی وزیرستان میں ملکی و غیر ملکی دہشتگردوں کے خلاف آپریشن 15 جون سے جاری ہے، لیکن وزیر اعظم نواز شریف نے کھلے الفاظ میں عسکریت پسندی کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے۔ اس طرح سیاسی و فوجی قیادت ایک مدّت تک متضاد نقطہ نظر رکھنے کے بعد اب آخر کار دہشتگردی کے حوالے سے ایک ہی صفحے پر نظر آتی ہے۔

حالت جنگ میں موجود قوم کے پاس اس کی سالمیت کو نقصان پہنچانے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے مناسب ہتھیاروں کا ہونا ضروری ہے۔ اسی تناظر میں دیکھا جائے، تو تحفظ پاکستان ایکٹ، جو قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں سے منظور ہو چکا ہے، اگلے دو سالوں کے لیے ملک بھر میں موجود دہشتگردوں کے خلاف ایک اعلان جنگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن منتخب نمائندے ملک کی سیکورٹی ایجنسیوں کو اختیارات دینے میں کافی آگے نکل گئے ہیں۔ کچھ جگہوں پر شبہات موجود ہیں، جن کو میں ذیل میں بیان کروں گا، اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کچھ سفارشات بھی دوں گا۔

پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے، کہ ملکی قوانین میں لفظ "غیر ملکی دشمن" شامل کیا گیا ہے۔ غیر ملکی دشمن کی شناخت کون کرے گا؟ شاید کچھ غیر ملکیوں کے لیے تو یہ آسان ہے، پر ان غیر ملکیوں کے بارے میں کیا خیال ہے، جو 1980 سے فاٹا اور افغانستان سے ملحق علاقوں میں جمع ہیں، پاکستان کے شناختی کارڈ حاصل کر چکے ہیں، یہیں پر شادیاں کر کے اب اپنی اگلی نسلوں کو جنم دے چکے ہیں، اور اپنے آپ کو ایک عالمی نظریاتی جنگ کا سپاہی سمجھتے ہیں۔ اسی طرح سے غیر قانونی طور پر رہ رہے غیر ملکیوں کی ڈیپورٹیشن کے لیے بھی منصفانہ قانون سازی کی ضرورت ہے۔

دوسرا مسئلہ لفظ "عسکریت پسند" کی تعریف سے متعلق ہے۔ اس لفظ کی تعریف بہت وسیع ہے، اس تعریف کہ "عسکریت پسند وہ شخص ہے، جو ملکی سلامتی، استحکام، اور دفاع کو نقصان پہنچائے، یا نقصان پہنچانے کی کوشش کرے" وجہ سے اس کا غلط استعمال بہت حد تک ممکن ہے۔

ایک زیادہ معقول طریقہ یہ ہے، کہ انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 سے مدد لی جائے، جس کے ذریعے فرقہ وارانہ دہشتگردوں اور کارکنوں کو فورتھ شیڈول کے تحت مانیٹر کیا جا سکتا ہے۔ یہ خفیہ لسٹیں نہیں ہیں، اور ان میں زیادہ تر کالعدم عسکریت پسند جماعتوں کے ممبران شامل ہوتے ہیں۔ افراد پر پابندی عائد کرنا جماعتوں پر پابندی عائد کرنے سے زیادہ فائده مند ہوتا ہے کیونکہ جماعتیں دوسری شناخت اور بینر کے تحت اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکتی ہیں، لیکن افراد پر پابندی عائد کر کے ان کی نقل و حرکت محدود کی جاسکتی ہے۔

تحفظ پاکستان ایکٹ میں گولی مار دینے کے حوالے سے کچھ متنازعہ شقیں بھی موجود ہیں۔ پولیس کے گریڈ 15 یا اس سے سینئر اہلکار آخری اقدام کے طور پر فائرنگ کے احکامات جاری کر سکتے یہں، لیکن سول آرمڈ فورسز یا ملٹری کے اہلکاروں یا افسران کے حوالے سے اسی کوئی پابندی موجود نہیں ہے۔ میرے نزدیک صرف گریڈ 17 کے گزیٹڈ پولیس افسر (ڈی ایس پی، اے ایس پی)، اور ملٹری میں کیپٹن یا اس کے مساوی کے افسر کو ان عسکریت پسندوں پر فائرنگ کے احکامات جاری کرنے کی اجازت ہونی چاہیے، جو مسلح، اور چھاپا مار ٹیم پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔ پھر اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہییں۔ایجنسیوں کی جانب سے دبا دیئے گئے کیسز کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اندرونی طور پر تحقیقات قبل قبول نہیں ہیں۔

چوتھا مسئلہ احتیاطی طور پر حراست میں لینے سے متعلق ہے۔ پاکستانی عسکریت پسندوں کے کیس میں، انکے اہل خانہ کو یہ جاننے کا حق ہے، کہ ان کے گھر والوں کو کس حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے۔ اسی طرح "غیر ملکی دشمنوں" کا حراستی دورانیہ غیر محدود اور افسران کی صوابدید پر نہیں ہونا چاہیے۔ قانونی امداد، اور گھر والوں کو اطلاع کرنے کا حق کسی غیر ملکی جنگجو سے بھی نہیں چھینا جانا چاہیے۔ جنگجوؤں، اور غیر ملکی دشمنوں کے ٹرائل کے لیے قائم کی جانے والی عدالتیں حکومت کے بجائے ہائی کورٹس کے ذریعے قائم ہونی چاہئیں۔ اور سب سے پہلے یہ، کہ تحفظ پاکستان ایکٹ کو ان لوگوں پر نافذ العمل نہیں ہونا چاہیے، جو اس قانون کی منظوری سے پہلے سے تحویل میں ہیں۔

ثبوت فراہم کرنے کی ذمہ داری ملزم پر ڈال دینے سے حکومت نے استغاثہ کے ذریعے ملزم پر جرم ثابت کرنے کے معاملے میں اپنی محدود سکت کو بھی ظاہر کر دیا ہے۔ لیکن عدالتوں نے اس کی تشریح اس طرح کی ہے، کہ شروعات میں ثبوت فراہم کرنے کی ذمہ داری استغاثہ پر ہے، جب کہ مناسب ثبوتوں کی فراہمی کے بعد یہ بوجھ ملزم پر منتقل کیا جائے گا۔ پولیس اور فوج بسا اوقات عدالتوں پر ملزموں کو بری کر دینے کا الزام عائد کرتی ہے، پر تفتیش کرنے میں قابل حراست ثبوت اکٹھے کرنے میں اپنی نا اہلی، اور تکنیکی اور سائنسی ثبوتوں کو نظر انداز کرنے پر پردہ ڈال دیتی ہے۔

آخری مسئلہ قوانین میں موجود جرائم میں ردو بدل کے حوالے سے ہے۔ تحفظ پاکستان ایکٹ پارلیمنٹ نے پاس کیا تھا، پر وفاقی حکومت نے اس میں ترمیم، اضافے، یا کچھ حذف کر دینے کی ذمہ داری اب خود سنبھال لی ہے۔ انتظامیہ کو مقننہ (قانون ساز ادارہ) کے کام میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، جیسا کہ انسداد دہشتگردی ایکٹ کے ساتھ کیا گیا تھا، جس میں ان جرائم کا بھی ذکر ہے، جو دہشتگردی کے زمرے میں نہیں آتے۔ ہمارے سیاسی نظام میں موجود مذہبی، سیاسی، لسانی، اور فرقہ وارانہ عناصر کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے، کہ اس طرح کے اختیارات کا غلط استعمال ہونا ممکن ہے۔

آرمی سے تحفظ پاکستان ایکٹ جیسی مزید قانون سازی کے وعدے کرنے کے بجائے وزیر اعظم اور ان کی ٹیم کو عوام کی آزادی اور سیکورٹی اقدامات کے درمیان ایک بیلنس قائم کرنے پر کام کرنا چاہیے۔

بجائے اس کے کہ ریاستی اداروں کو مزید اختیارات دیے جائیں، یہ ہونا چاہیے کہ پارلیمنٹ اور عدالت سیکورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کی سرگرمیوں پر نظر رکھے، کیونکہ صرف قانون کی بالادستی، اچھی گورننس، اور سماجی اور معاشیاتی انصاف ہی عسکریت پسندی کو شکست دے سکتا ہے۔

انگلش میں پڑھیں


لکھاری ایک سابق پولیس افسر ہیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 12 اگست 2014 کو شائع ہوا۔