قومی زبان صرف ایک کیوں؟

23 جولائ 2015

ای میل

پاکستان میں کم و بیش 70 زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے 28 ایسی ہیں جو آئندہ دس سالوں میں ختم ہو جائیں گی — فائل فوٹو
پاکستان میں کم و بیش 70 زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے 28 ایسی ہیں جو آئندہ دس سالوں میں ختم ہو جائیں گی — فائل فوٹو

گزشتہ سال مئی میں وفاقی کابینہ نے پاکستان کی قومی زبان اردو کو سرکاری زبان بنانے کے احکامات جاری کئے تھے۔ ان احکامات پر عمل درامد ایک سال کے بعد گزشتہ دنوں کابینہ ڈویژن کی طرف سے مختلف محکموں کو حکم نامے جاری کرتے ہوئے شروع کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حکم نامے میں تمام محکموں اور افسر شاہی کو کہا گیا ہے کہ وہ سرکاری احکامات و مراسلے اردو میں جاری کرے اور پہلے سے موجود دستاویزات کو بھی اردو میں ترجمہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ اس اقدام کے ذریعے صدر، وزیراعظم اور وزراء کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اندرون ملک و بیرون اپنے خطابات اردو میں ہی کرے۔

سرکاری حکام کے مطابق یہ 1973 ء کے آئین کی شق نمبر 251 پر مکمل عمل درآمد کی جانب ایک اہم قدم ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئندہ پندرہ سالوں میں انگریزی زبان کی سرکاری حیثیت کو اردو میں منتقل کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے تاکہ اردو کو مکمل طور پر پاکستان کی سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہو۔

یہ پڑھیں: صدر اور وزیراعظم بیرونی دوروں کے دوران اردو میں تقریر کے پابند

پاکستان میں اردو زبان کو رابطے کی زبان ہونے کا درجہ حاصل رہا ہے۔ اردو ذرائع ابلاغ کی اہم زبان ہے۔ پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز کے قیام نے بھی اردو کو کافی حد تک عوامی مقبولیت بخشی ہے۔ پاکستانی معاشرہ پہلے ہی سے کافی حد تک اردو اپنا چکا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ تحقیق، تنقید اور ادب میں اردو زبان کی پستی مشاہدہ میں آئی ہے۔ ہر سال جتنی کتابیں اردو میں شائع ہوتی ہیں ان میں بہت کم تعداد اعلی ادب کی ہوتی ہیں۔ ذیادہ تر کتابیں، کتابچے اور رسائل مذہبی و فرقی منافرت کے پرچار کے لئے اردو زبان کو ذریعہ بناتے ہیں۔ اب بہت کم ہی لوگ ہوں گے جو اردو میں اعلی ادب تخلیق کر رہے ہوں البتہ کالم نگاروں کی تعداد پڑھ گئی ہیں جو اردو کے ذریعے اپنے کالموں میں ایک خاص ذہنیت کو فروغ دے رہے ہیں۔ شاید ہی کوئی ہو جو اب بھی اردو میں فیض، منیر، ابن انشا، مشتاق احمد یوسفی یا پھر علی عباس جلالپوری کی طرح اردو کو اعلی اظہاریے کا ذریعہ بنا رہے ہوں۔

ایسے میں حکومت کی طرف سے اردو کو سرکاری زبان بنانے کی کوشش قابل تعریف ہے۔ البتہ پاکستانی ریاست زبانوں کے سلسلے میں اپنے وجود میں آنے سے ہی ایک تعصب برتی رہی ہے۔ مثلاً اسی حکومت کی قومی اسبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انصاف و قانون نےپچھلے سال جولائی میں ایک ایسے بل کی مخالفت کی جسے قومی اسمبلی کی رکن ماروی میمن نے پیش کیا تھا۔

اس بل میں پاکستان میں اردو کے ساتھ دیگر نو زبانوں کو بھی قومی زبانوں کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اسی طرح کا ایک بل سینیٹر حاجی عدیل کی طرف سے پیش کیا گیا تھا مگر قانون نہیں بن سکا تھا۔ اس سے پہلے 2011 ء میں بھی ماروی میمن کی طرف سے پیش کردہ ایک ایسے ہی بل کو مسترد کیا گیا تھا۔

یہ پڑھیں : علاقائی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینے کا بل مسترد

دلچسپ امر یہ ہے کہ ان بلوں کو آئین کے آرٹیکل 251 کے تحت ہی مسترد کیا گیا تھا جس کی بنیاد پر اب اردو کو سرکاری زبان بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پاکستان میں اردو اور انگریزی کے علاوہ کم و بیش 70 دیگر زبانیں بھی بولی جاتی ہیں جن میں بعض کے بولنے والوں کی تعداد سینکڑوں میں تو بعض کے بولنے والے کئی کروڑں میں ہے۔

اگرانڈس کوہستان میں بولی جانے والی زبانیں آیر اور گاؤرو کے بولنے والوں کی تعداد 150یا 200 ہے تو پنجابی کو کم از کم چھ کروڑ لوگ پاکستان میں بولتے ہیں۔ مگر تینوں زبانوں کے بارے میں ریاست اور دیگر اداروں کے رویّے ایک جیسے ہیں۔

ان ستّر زبانوں میں یونیسکو UNESCO کے مطابق 28 ایسی ہیں کہ وہ آئندہ دس سالوں میں ختم ہو جائیں گی اور یہ زبانیں اپنے ساتھ جس علم، حکمت، ثقافت، شناخت اور تاریخ کو لے ڈوبیں گی اس کا احساس شائد ہی ان عاشقوں کو ہو۔

کسی بھی زبان کے ایک ایک لفظ اور جملے کے ساتھ ایک تاریخ اور ثقافت جڑی ہوتی ہے۔ مثلاً میری زبان کا لفظ ’سیمام ‘ عام بول چال سے معدوم ہوچکا تھا جب ذندہ کیا گیا تو اس کے ساتھ آٹھ دہائی پہلے والی ایک پوری ثقافت جُڑی ہوئی تھی جس کے رسوم شادی بیاہ میں بروئے کار لائے جاتے۔ اس لفظ کے دوبارہ استعمال میں آنے سے اس وقت کی سماجی تاریخ بھی زندہ ہوگئی۔ اردو کے تاریخ دان ہمیں بتاتے ہیں کہ کس طرح لفظ اردو رواج پایا۔ فرض کریں اس لفظ کو ہی بھلادیں تو اس کے ساتھ وہ تاریخ بھی مٹ جائے گی۔

مزید پڑھیں: میڈیا میں اردو زبان کا غلط استعمال

زبان ثقافت (culture) کی بقا اور اظہار کا اہم ترین ذریعہ ہوتی ہے۔ جب زبان مٹ جائے تو اس کے ساتھ ثقافت اور تاریخ بھی مٹ جاتی ہیں۔ چترال کی تین وادیوں میں بسنے والےکلاشہ لوگوں کی ثقافت کو ریاست اور اس کے ادارے پاکستان میں ثقافتی تنوع کے نمونے کے طور پر پیش کررہی ہیں۔ لیکن شائد ہی کسی کو پتہ ہو کہ جب کوئی کلاش اپنی زبان چھوڑتا ہے تو وہ اس کے ساتھ جڑی ہوئی اپنی ثقافت اور مذہب بھی چھوڑ دیتا ہے۔

’علاقئی زبانوں ‘ کے علاوہ دیگر ساری آبائی مادری زبانیں معدومی سے دوچار ہیں۔ ان زبانوں کے بولنے والے اس دھرتی کے اصل باشندے ہیں مگر اسی دھرتی پر ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔

اردو کو سرکاری اور قومی زبان بنانے کے ساتھ ساتھ حکومت دیگر پاکستانی زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دے اور ان کے تحفظ و فروغ کے لئے انہیں تعلیم، قومی ابلاغ اور ورثے میں شامل کرے۔