'گھبراہٹ' کی وجوہات، علامات اور علاج

اپ ڈیٹ 07 جنوری 2016

ای میل

بعض اوقات بے چینی نہایت شدید یا حد سے زیادہ ہو سکتی ہے، جس سے ذہنی اور جسمانی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں۔ — ڈان ڈاٹ کام فوٹو
بعض اوقات بے چینی نہایت شدید یا حد سے زیادہ ہو سکتی ہے، جس سے ذہنی اور جسمانی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں۔ — ڈان ڈاٹ کام فوٹو

بیس سالہ *ثنا سینے کے درد اور گھبراہٹ کی شکایت کے ساتھ سرکاری ہسپتال کے ایمرجنسی روم میں بیٹھی تھی۔

تین دن کے اندر یہ ہسپتال کا اس کا تیسرا چکر تھا، اس کے پاس بیٹھے والدین یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے آخر کیوں ڈاکٹر ان کی مدد نہیں کر رہے۔

وہ اسے پڑنے والے دورے دیکھ چکے تھے۔ وہ بالکل ٹھیک ٹھاک بیٹھی ہوتی، مگر اچانک اسے سانس لینے میں تکلیف شروع ہوجاتی، اور وہ گھبراہٹ اور دم گھٹنے کے احساس کی شکایت کرتی۔

*آصف میرا ایک دوست تھا جسے میں بچپن سے جانتی تھی، مگر جب ہمارے اسکول تبدیل ہوئے اور کریئر کے حصول کے لیے ہمارے راستے الگ ہوئے تو ہمارا رابطہ میرے میڈیکل کے آخری سال تک ٹوٹا رہا۔ پھر ایک دن ہم تمام دوستوں کی ملاقات ہوئی۔ جب اسے معلوم ہوا کہ میں ایک ماہرِ نفسیات بننا چاہتی ہوں، تو اس نے اپنی جدوجہد کے بارے میں بتانا شروع کیا۔

اس نے اپنی کہانی بتانی شروع کی تو مجھے اس کی ایک پراسرار بیماری کے بارے میں معلوم ہوا؛ اسے سر میں شدید درد ہوتا تھا اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ کوئی چیز اس کے گلے میں پھنسی ہو۔ اسے سونے میں بھی دشواری ہوتی تھی۔

بیروزگاری اور بوڑھے دادا دادی کے ساتھ رہنا ذہنی سکون کے حصول میں مددگار نہیں تھا۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ واحد چیز جس سے اسے عارضی سکون ملتا تھا، وہ ریلیکسن ٹیبلٹ تھی، جو پہلی بار اس کے فیملی ڈاکٹر نے تجویز کی تھی۔ اب وہ بڑی مقدار میں یہ ٹیبلٹس بغیر کسی ہدایت نامے کے تین مختلف میڈیکل اسٹورز سے خریدتا تھا۔

اس کی جدوجہد اور اس کی جسمانی علامات اتنی ہی حقیقی تھیں جتنی کہ اس کی آخری سانس جو اس نے ایمرجنسی روم جاتے ہوئے اپنے دوست کی گود میں لی۔ اس نے ریلیکسن کھائیں تو آرام کے لیے تھیں مگر بدلے میں اس کی موت واقع ہوگئی۔

شکر ہے کہ اب لوگوں نے ذہنی بیماریوں کے بارے میں بات کرنی شروع کی ہے اور آج ایک عام آدمی کو پہلے کے مقابلے زیادہ آگاہی حاصل ہے۔

آپ اکثر اوقات ذہنی دباؤ اور خود کشی کے بارے میں بات چیت سنتے ہیں، اور چینی اور گھبراہٹ کا کبھی کبھی سرسری ذکر بھی ہوتا ہے، مگر اس پر مزید بات کی جانی چاہیے۔

پڑھیے: خودکشی کا رجحان: علامات پہچانیے

انزائٹی یا بے چینی کیا ہے؟

انزائٹی کو غیر یقینی کیفیت یا کچھ ناخوشگوار واقع ہونے کا ڈر کہا جا سکتا ہے۔ اردو میں انزائٹی کے لیے بے چینی، پریشانی یا گھبراہٹ جیسی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔

ہم سب مختلف وقتوں میں بے چینی کے تجربے سے گزرتے ہیں، جس سے ہمارا دماغ ہمیں خطرات یا مشکل حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار کرتا ہے، مثلاً امتحان سے پہلے بے چینی سے کوئی زیادہ پڑھتا ہے جس وجہ سے امتحان اچھا بھی ہوجاتا ہے۔

مگر بعض اوقات بے چینی نہایت شدید یا حد سے زیادہ ہو سکتی ہے، جس سے ذہنی اور جسمانی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں۔

بسا اوقات اس کا نتیجہ جسمانی محسوسات میں شدت، بدترین حالات کی سوچوں، پریشانی اور اجتنابی رویے کی صورت میں نکلتا ہے جس سے زندگی متاثر ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ مثلاً امتحان کے دن بے چینی کے دوروں اور گھبراہٹ کی وجہ سے اسکول نہ جانا۔

یہ جسمانی علامات میں ظاہر کیوں ہوتی ہے؟

اس سادہ سی وضاحت پر غور کیجیے: دماغ انتہائی طاقتور عضو ہے۔ ایک طرح سے یہ باقی جسم کا مرکزی کمانڈ سینٹر ہے اور اس کا اثر جسم کے تمام اعضاء پر ہوتا ہے۔

جب بے چینی اس مرکزی کمانڈ پر حاوی ہوجائے، تو یہ کسی بھی عضو پر اثرانداز ہوسکتی ہے اور واضح جسمانی علامات پیدا کر سکتی ہے، بھلے ہی اس عضو میں خود کوئی خرابی موجود نہ ہو۔

سردرد، سانس میں تکلیف، معدے کے مسائل، جلد پر دانے، اعصابی درد اور کھنچاؤ، انزائٹی یہ تمام اور بہت کچھ کروا سکتی ہے۔

تاہم چیزیں اتنی سادہ بھی نہیں ہوتیں۔

ذہنی بیماری کی جانچ کرتے وقت، حیاتیاتی، نفسیاتی، سماجی عوامل کو بھی دھیان میں رکھنا ضروری ہے کیونکہ ایک ہی وقت میں کئی عوامل کارفرما ہوتے ہیں یا ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیے: ڈپریشن سے متعلق 10 غلط فہمیاں

اوپر دی گئی وضاحت حیاتیاتی پہلو کے حوالے سے تھی جبکہ سماجی حالات میں نوکری کا کھونا، سسرال کے ساتھ مشکلات، مالی مسائل، سیاسی ہلچل، مذہبی بنیادوں پر بدسلوکی وغیرہ شامل ہیں جو انزائٹی سے ہونے والی مشکلات میں اضافہ کرتے ہیں۔

پھر یقیناً ہر شخص کی انفرادی نفسیات کا بھی تقاضا ہوتا ہے۔ دباؤ کا شکار ایک شخص سخت صورتحال کا جس طرح مقابلہ کرتا ہے یا جو رویہ اختیار کرتا ہے وہ دوسرے شخص کے مقابلے میں بالکل مختلف ہوتا ہے۔ اس وجہ سے سخت صورتحال کی مختلف نوعیت مختلف لوگوں میں انزائٹی کا سبب بنتی ہیں۔

2007 میں کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں کی گئی تحقیق کے مطابق انزائٹی مردوں کے مقابلے دو گنا زیادہ خواتین میں پائی جاتی ہے۔ انزائٹی کی شکایت ان میں پائی گئی جو درمیانی عمر، کم تعلیم یافتہ، گھریلو، طلاق یافتہ، الگ یا بیوہ خاتون تھیں۔

دیگر تحقیقات سے معلوم ہوا کہ انزائٹی ان مریضوں میں کثرت سے پائی جاتی ہے جو مختلف طبی مسائل سے دوچارہوتے ہیں۔

کیا بے چینی قابل علاج ہے؟

جی ہاں

جنرل فزیشن اور ایمرجنسی روم ڈاکٹر اس سے بچنے کا عام طور پر سب سے پہلا طریقہ ہیں۔ طبی مسائل جیسے تھائیرائڈ، امراض قلب اور دیگر ہارمونز کے مسائل کی ترتیب وار جانچ، اور ان کے علاج کے بعد ہی انزائٹی تشخیص کرنا انزائٹی کے علاج کا مؤثر طریقہ ہے۔

دوا کے بغیر بھی انزائٹی سے محفوظ رہنے کے کئی طریقے موجود ہیں، جن میں تناؤ کو کم کرنا، ورزش، سانس لینے کی مختلف مشقیں اور یوگا کرنا شامل ہیں۔ تھیراپی اور ماہرِ نفسیات سے مشورہ لینا بھی ایک اثرانگیز طریقہ ہے، خاص طور Cognitive Behavioural Therapy جس میں گفتگو کے ذریعے سوچ و خیالات کا زاویہ اور انداز تبدیل کیا جاتا ہے۔

کچھ ایسی دوائیں بھی ہیں جو مختصر اور طویل مدت کے لیے مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ مگر عدم أگاہی، انزائٹی کے بارے میں منفی خیالات اور فوری حل کی ہماری روایتی خواہش اس مسئلے کے حل میں رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہیں۔

جانیے: خودکشی کی کوشش کرنے والی اہم شخصیات

پاکستان میں یہ خیال عام ہے کہ جو ڈاکٹر زیادہ دوائیں تجویز کرتا ہو وہ کم دوائیں تجویز کرنے والے سے بہتر ہے۔ عام سردی کو اینٹی بائیوٹکس سے ٹھیک کرنا اور ڈرپس اور انجکشنز کا بے دریغ استعمال بہت سے مریضوں کو مطمئن کر دیتا ہے، جس سے کاروبار بھی خوب چمکتا ہے۔

ڈاکٹر کا نسخہ ایک گھٹنا جھٹک ردِعمل ہوتا ہے، جس وجہ سے ان دوائیوں کا زیادہ استعمال ہوتا ہے جو کہ ایک مخصوص وقت کے استعمال کے لیے ہوتی ہیں۔ اعصاب کو سکون پہنچانے والی ادویات (بینزوڈیازیپائینز) جیسے الپرازولم، لورازیپام اور ڈیازیپام جو مختلف برانڈز کے ناموں (جن میں زینکس، ایٹیون اور ویلیئم شامل ہیں) سے دستیاب ہیں، انہیں نشہ آور ہونے اور لت لگ جانے کا انتباہ دیے بغیر یونہی تجویز کردیا جاتا ہے۔

دواؤں کی بغیر نسخے کے آسانی سے دستیابی حالات اور بھی بدتر بنا دیتی ہے۔

حالیہ سالوں میں پاکستان کے حالات تھوڑے بدلے ضرور ہیں لیکن اب بھی بغیر نسخے کے دوائی لینا نہایت آسان ہے، اس کا انحصار صرف اس بات پر ہے کہ میڈیکل اسٹور پر آپ کس کو جانتے ہیں اور ایسی دواؤں کی کتنی طلب رکھتے ہیں۔

آصف کو کوئی پراسرار بیماری نہیں تھی۔ اسے انزائٹی کا مسئلہ تھا جس کے لیے وہ تجویز کردہ بینزوڈیازیپائینز کا استعمال کر رہا تھا۔ جلد وہ عادی ہوگیا اور پھر ایک وقت وہ بھی آیا جب اسے تجویز کردہ مقدار سے زیادہ کی طلب ہونے لگی اور وہ دن میں تجویز کردہ مقدار سے دس گنا زیادہ دوا لینے لگا۔

اگر اس کی انزائٹی کی نشاندہی ہوجاتی اور اس مسئلے کے حل کے لیے اس سے گفتگو کی جاتی، تو شاید اس کی کہانی الگ ہوتی ۔ جب دوائیں احتیاط سے استعمال کی جائیں تو مشہور (اور غلط ناموں) والی ڈپریشن کی دوائیں ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق لینا ایک اچھا دیرپا حل ہے جن کی لت نہیں پڑتی۔

تو اگر آپ گھبراہٹ، بے چینی یا پریشانی جیسے حالات سے گزر رہے ہوں یا بغیر کسی واضح وجہ کے مختلف جسمانی علامات ظاہر ہوں، تو سمجھ جائیے کہ آپ کو انزائٹی کا مسئلہ ہے، اور جب آپ یہ لفظ سنیں تو مایوس نہ ہوں اور یہ بھی نہیں سوچیے گا کہ کوئی آپ کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا۔

بے فکر ہوجائیے، ظاہر ہونے والی علامات زندگی کو لاحق کسی خطرے کی وجہ سے نہیں ہیں، اور ڈاکٹر سے پوچھیے کہ انزائٹی پر قابو پانے کا بہترین طریقہ کیا ہے۔

انگلش میں پڑھیں.


٭نام شناخت پوشیدہ رکھنے کے لیے تبدیل کر دیے گئے ہیں۔