پاک-ہند قومی سلامتی مشیروں کی’خفیہ ملاقات'کا امکان

12 جنوری 2016

ای میل

نئی دہلی: ہندوستان کے پٹھان کوٹ ایئربیس پر حملے کے بعد پاک-ہند کشیدہ سفارتی صورت حال کے حوالے سے اب تک یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ ’کیا پاکستان اور ہندوستان کے خارجہ سیکریٹریز جمعے کے روز ملاقات کریں گے؟‘

تاہم اس حوالے سے ہندوستانی چینل این ڈی ٹی وی کی ایک مبہم رپورٹ میں یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیر، خارجہ سیکریٹریز کی ملاقات سے قبل کسی تیسرے ملک میں ایک 'خفیہ ملاقات' کرسکتے ہیں۔

این ڈی ٹی وی نے پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہندوستان کی جانب سے پٹھان کوٹ حملے کے حوالے سے فراہم کیے جانے والے ثبوتوں کی جانچ پڑتال ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے اور پٹھان کوٹ حملے کے مبینہ 6 حملہ آوروں کی پاکستان میں شناخت ممکن نہیں ہوسکی۔

مزید پڑھیں: 'ہمیں تکلیف دینے والوں کو بھی درد ہونا چاہیئے'

ہندوستانی چینل کا کہنا تھا کہ ’دونوں ممالک کے درمیان تضادات کے خاتمے اور دہشت گردی کی تحقیقات کے لیے ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دووال، اپنے پاکستانی ہم منصب ناصر خان جنجوعہ سے کسی بھی تیسرے ملک میں آئندہ چند روز میں ملاقات کر سکتے ہیں۔'

ٹی وی چینل کا دعویٰ تھا کہ ’ہندوستان کی مدد کے حوالے سے کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان کے جنوبی پنجاب میں 5 گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں، تاہم حکومت کی جانب سے ان افراد کی شناخت کے حوالے سے سرکاری تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں‘۔

دوسری جانب پٹھان کوٹ دہشت گردی حملے کے کیس میں ایک علیحدہ پیش رفت میں ہندوستان کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے ایئربیس حملے میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی لاشوں کی شناخت کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے انٹر پول سے بلیک کارنر نوٹس حاصل کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔

رپورٹس میں مزید کہا گیا کہ این آئی اے نے پٹھان کوٹ حملے کے مقام سے مزید ایک فون اور ایک اے کے-47 رائفل کا میگزین برآمد کرلیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پٹھان کوٹ حملے پر ہندوستان سے بھرپور تعاون کی یقین دہانی

بعد ازاں ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دووال نے مبینہ طور پر کہا کہ 15 جنوری کو پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہونے جارہے اور ہندوستان ’مذاکرات اسی صورت میں کرے گا جب پاکستان پٹھان کوٹ ائیر بیس حملے میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائی' عمل میں لائے گا۔

اے این آئی نیوز سروس کو دیئے گئے اپنے بیان میں ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر نے مبینہ طور پر واضح کیا کہ چونکہ مذاکرات کے لیے کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی گئی تھی، لہذا اس کی منسوخی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تاہم انھوں نے این ڈی ٹی وی سے کی جانے والی بات چیت میں اس بات کا مزید اضافہ کیا کہ مذاکرات اُسی صورت میں ممکن ہیں جب پاکستان کارروائی کرے۔

واضح رہے کہ قومی سلامتی مشیر اور وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے یہ بیانات ہندوستانی اخبار دینک بھاشکر میں اجیت دووال کے شائع ہونے والے انٹرویوں کے بعد سامنے آئے ہیں، جس میں انھوں ںے مبینہ طور پر کہا تھا کہ ’مذاکرات منسوخ ہوگئے ہیں‘.

یہ خبر 12 جنوری 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔