سفید پوشوں کا جوتا بازار

اپ ڈیٹ 03 فروری 2016

ای میل

جوتے کی قدر تپتے صحرا میں ننگے پاؤں چلنے والوں سے زیادہ کون جان سکتا ہے۔

عرب شاعری میں بھی پاپوش کا تذکرہ بالخصوص ملتا ہے، اہل عرب کی تہذیب و ثقافت پر محمود شکری آلوسی کی کتاب بلوغ الارب میں باقاعدہ جوتوں پر اشعار کا ایک باب موجود ہے۔ اس میں ایک شعر یوں بھی ہے کہ "تپتی ریت پر چلنے والے جن کے پاؤں کانٹوں سے زخم زخم ہوجائیں، وہ پیروں میں کچھ بھی پہن سکتے ہیں‘‘۔

شہر کی پکی سڑکوں پر چلنے والوں کا معاملہ اس سے کچھ مختلف نہیں۔ بمشکل پندرہ بیس ہزار روپے کا ہندسہ چھونے والے ملازمت پیشہ افراد کو روزگار کی اس تنی رسی پر چلنے کے لیے ’فارمل‘ شوز پہننا ہوتے ہیں۔ جسمانی صحت کے لیے واک یا ورزش کرنے والے ایسے بھی ہیں جن کے نزدیک پہلی شرط پہلا قدم رکھنا نہیں بلکہ پاؤں میں ’جاگر‘ ہونا ہے۔

لباس اور نشست و برخاست میں نک سک کا خیال رکھنے والے تہی جیب کیژوئل، سنیکرز اور لوفرز کی جانب للچائی ہوئی نگاہوں سے تکتے ہیں اور ایسے بھی ہیں کہ جس طرح تن ڈھانپنے کو دو کپڑوں کی جستجو میں ہوتے ہیں وہیں بس اپنی برہنہ پائی کا بھرم رکھنے کے لیے ایک جوڑی جوتے بھی ان کے لیے عیاشی ہے۔

یہاں پرانے جوتوں کی مرمت اس صفائی سے کی جاتی ہے کہ نیا جوتا بھی شرما جائے۔
یہاں پرانے جوتوں کی مرمت اس صفائی سے کی جاتی ہے کہ نیا جوتا بھی شرما جائے۔
یہاں کبھی کوئی اپنے پرانے جوتے بیچ جاتا ہے، تو کبھی مساجد سے اٹھائے گئے دوسروں کے جوتے۔
یہاں کبھی کوئی اپنے پرانے جوتے بیچ جاتا ہے، تو کبھی مساجد سے اٹھائے گئے دوسروں کے جوتے۔
پرانے جوتوں کی مرمت کے بعد انہیں ایسا چمکایا جاتا ہے کہ نیا سا گمان ہوتا ہے۔
پرانے جوتوں کی مرمت کے بعد انہیں ایسا چمکایا جاتا ہے کہ نیا سا گمان ہوتا ہے۔

سو ضروت ایجاد کی ماں اور مجبوری کا نام شکریہ کہ شہر کے مختلف علاقوں میں ایسے سارے ضرورت مندوں اور ذوق و شوق کے ستائے لوگوں کے لیے چارہ گری کا خوب اہتمام ہے۔

برانڈڈ جوتوں کی ’پیاس‘ بجھانے کے لیے تو کراچی میں لائٹ ہاؤس مشہور ہے، ڈیفنس کا اتوار بازار تو اب بند ہوچکا جو لیلائے فیش کے مجنوؤں کی پابرہنگی کا بھرم رکھتا تھا۔

یہاں آنے والوں اور ہمارے مقتدروں اور اہل دانش میں بڑا فرق ہے، وہ اہل مغرب کی کشف برداری کرنے کو عار نہیں سمجھتے لیکن یہاں آںے والے ان کے جوتے پاؤں ہی میں پہنتے ہیں۔ بات یہ ہو رہی تھی کہ فارمل شوز کی اس کھپت کو پورا کرنے کے لیے صدر، لالو کھیت، پٹیل پاڑہ سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں فٹ پاتھ کنارے چادروں پر چمچاتے جوتوں کی قطاریں لگی نظر آتی ہیں۔

یہ استعمال شدہ جوتے عام طور پر لوکل برانڈ ہی کے ہوتے ہیں۔ ناقص یا ڈیفیکٹڈ مال کی صورت میں ہاتھ آںے والے جوتوں کو مرمت کر کے ’اصل سے بھی اچھا‘ بنا دیا جاتا ہے۔ ان میں ایک بڑی تعداد ایسے استعمال شدہ جوتوں کی بھی ہے جنہیں اپنے ہی ہم وطنوں ںے استعمال کیا ہوتا ہے اور پھر یہ پرانے جوتے نئے کرنے کی ’صنعت‘ کے لیے کام کرنے والوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں۔

وہ انہیں نیا کرتے ہیں اور اکثر اوقات نئے سے بھی زیادہ کے دام وصول کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جوتوں کی مرمت اور ’تجدید‘ کے لیے ایمپریس مارکیٹ کے نواح میں ایک پوری مارکیٹ قائم ہوچکی ہے جہاں گھسی ہوئی ایڑیاں اس مہارت سے تبدیلی کی جاتی ہیں کہ کوئی کہنہ مشق ایڈیٹر بھی اتنی مہارت سے کسی تحریر میں شامل گھسے پٹے جملے نہیں نکال سکتا۔

ایڑیوں کے علاوہ تلوے، سلائی، پتاوے اور تسمے سمیت اس مارکیٹ میں بیٹھے کاریگر ان پرانے جوتوں کی ایسی بخیہ گری کرتے ہیں کہ اگر اگلے زمانوں میں ہوتے تو عاشقوں کے چاک گریبانوں کی مرمت کا سب سے بڑا ٹھیکا انھیں ہی ملتا۔

پھر ان جوتوں پر پالش کی جاتی ہے لیکن اس معاملے میں یہ کاریگر ان حاشیہ برداروں سے کم ہی ماہر ہیں، کیونکہ کہاں برش اور کہاں جبیں۔ اس مرحلے سے گزرنے کے بعد یہ ’مال‘ سڑک کنارے شو اسٹور سجانے والے ’ریٹیلرز‘ کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ وہ میلی چادروں پر چمچماتے جوتوں کی قطاریں بناتے ہیں، طبقہ ملازماں و متوسطاں و نیم غربا وہاں ہجوم فرماتا ہے، جوتے خرید فرماتا ہے اور پاؤں سیاہ پوش کر کے اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھتا ہے۔

ہر مارکیٹ کی طرح یہاں بھی جوتوں کے ساتھ ساتھ دال میں کچھ ’کالا‘ ہے۔ اس کا اندازہ کچھ اس طرح ہوا کہ بعض پتھارے داروں نے ان جوتوں اور اپنی تصویریں کھینچنے میں کچھ ’مزاحمت‘ کی۔ کچھ نے تو زبانِ حال سے کہا کہ ’کیوں جوتے لگواؤ گے صاحب!‘۔

پرانے جوتوں کی مرمت کے بعد انہیں ایسا چمکایا جاتا ہے کہ نیا سا گمان ہوتا ہے۔
پرانے جوتوں کی مرمت کے بعد انہیں ایسا چمکایا جاتا ہے کہ نیا سا گمان ہوتا ہے۔
پرانے جوتوں کی مرمت کے بعد انہیں ایسا چمکایا جاتا ہے کہ نیا سا گمان ہوتا ہے۔
پرانے جوتوں کی مرمت کے بعد انہیں ایسا چمکایا جاتا ہے کہ نیا سا گمان ہوتا ہے۔

پرانے موزوں کی طرح اس رویے سے بھی کچھ گڑ بڑ کی بو آنے لگی۔ جب مزید تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ان نئے نکور نظر آنے والے جوتوں میں وہ بھی شامل ہیں جو خریدے نہیں گئے بلکہ خانہ خدا سے حقِ مساکین سمجھ کر اٹھا لینے کے بعد یہاں تک پہنچائے گئے ہیں اور یہ اہلِ دل انہیں رفاہ عامہ کے لیے کوڑیوں کے دام خرید کر مڈل کلاس بابوؤں کے زخموں پر جوتے، یعنی مرہم رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

پاکستان میں کسی بھی اہم و غیر اہم شے کی طرح اس مارکیٹ میں بھی جوتوں کی قیمتوں کا تعین نہیں۔ دکاندار کی مہارت اور خریدار کی ناسمجھی ثم حماقت کو ضرب و تقسیم کر کے ضرورت کو جمع یا تفریق کر لیا جائے تو جو حاصل ہوتا ہے وہی جوتے کی قیمت قرار پاتی ہے۔

— تصاویر بشکریہ شاہ رخ خان