ہندوستان، ایران اور افغانستان میں چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر کا معاہدہ

اپ ڈیٹ 23 مئ 2016
۔—اے پی تصویر۔
۔—اے پی تصویر۔

تہران: ایرانی صدر حسن روحانی، ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی اور افغان صدر اشرف غنی نے ایران کی جنوبی بندرگاہ چاہ بہار کے حوالے سے تین طرفہ ٹرانزٹ معاہدہ کرلیا۔

ہندوستان کا کہنا ہے کہ وہ معاہدے کے تحت ایران میں بندرگاہ کی تعمیر کے لیے 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا جبکہ کئی منصوبے بھی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں جن کی مالیت کروڑوں ڈالروں کی ہے۔

ایرانی صدر نے ہندوستانی وزیراعظم اور افغان صدر کے ہمراہ ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں کہا کہ 'آج کا دن تینوں ممالک کے تعلقات کے اعتبار سے اہم اور تاریخی دن ہے۔'

انہوں نے کہا کہ تہران، نئی دہلی اور کابل کی جانب سے یہ پیٖغام ہے کہ ترقی کی جانب راستہ باہمی تعاون اور خطے میں موجود مواقعوں سے ہوکر گزرتا ہے۔

اس موقع پر نریندر مودی نے کہا کہ ہم دنیا کو آپس میں منسلک کرنا چاہتے ہیں لیکن ایک دوسرے کو جوڑنا پہلی ترجیح ہے۔

اشرف غنی نے کہا کہ ہمارے جذبے کا آغاز آج چاہ بہار سے ہوگیا ہے جس کا اختتام معاشی اور ترقیاتی تعاون پر ہوگا۔

نریندر مودی نے کہا کہ اس سلسلے میں ہندوستان کی جانب سے 50 کروڑ ڈالر دستیاب ہوں گے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں اہم ہے۔

مودی نے کہا کہ تہران اور دہلی کے درمیان آئل اینڈ گیس سیکٹر سمیت دیگر شعبہ جات میں بھی تعاون ہوگا۔

مودی اپنے دورے کے دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی سے بھی ملاقات کریں گے۔

اس کے علاوہ ہندوستان اور ایران کے درمیان پیٹروکیمیکل، ٹیکنالوجیکل اور بینکنگ کے شعبے میں بھی معاہدے ہوئے ہیں جبکہ انڈیا نے تیل کی صورت میں حاصل کیا 6 ارب ڈالر کے قرضے کی پہلی قسط 75 کروڑ ڈالر گزشتہ ہفتے واپس کردی۔

ایران کے نیوکلیئر پروگرام کی وجہ سے لگنے والی پابندیوں سے قبل ایران ہندوستان کو تیل فراہم کرنے والے دوسرا سب سے بڑا ملک تھا۔

عالمی طاقتوں کے ساتھ تاریخی معاہدے کے بعد ایران سے پابندی ہٹادی گئیں جس کے بعد ایران عالمی معاشی نظام میں دوبارہ ضم ہونے کی کوششیں کررہا ہے۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔

تبصرے (0) بند ہیں