پی آئی اے کا طیارہ گر کر تباہ، 48 افراد جاں بحق

اپ ڈیٹ 08 دسمبر 2016

ای میل

اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کا چترال سے اسلام آباد آنے والا مسافر طیارہ حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں جہاز کے عملے سمیت 48 افراد جاں بحق ہوگئے۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی نے جہاز کے تباہ ہونے اور اس میں سوار تمام مسافروں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی، تاہم حادثے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہ آسکیں۔

ترجمان پی آئی اے دانیال گیلانی کے مطابق طیارے میں 42 مسافر، عملے کے پانچ ارکان اور ایک گراؤنڈ انجینئر موجود تھے۔

حادثے کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کردی گئی۔

پی آئی اے کی جانب سے جاری کی جانے والی مسافروں کی فہرست کے مطابق متاثرہ طیارے میں 31 مرد، 9 خواتین اور 2 بچے سوار تھے۔

ترجمان پی آئی اے دانیال گیلانی نے بتایا کہ حادثے کے حوالے سے ہنگامی رسپانس سینٹر پی آئی اے ہیڈکوارٹرز کراچی میں قائم کردیا گیا جبکہ واقعے کی تحقیقات کا بھی حکم دے دیا گیا ہے۔

ترجمان پی آئی اے نے بتایا کہ معلومات حاصل کرنے کے لیے ان نمبرز پر رابطہ کیا جاسکتا ہے:


021-99044376 ، 021-99044890 ، 021-99044394


یہ بھی پڑھیں: طیارے میں کون کون سوار تھا؟

ترجمان سول ایوی ایشن نے طیارہ لاپتہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ طیارہ 3 بج کر30 منٹ پر چترال سے روانہ ہوا جبکہ 4 بج کر 40 منٹ پر اسے اسلام آباد میں لینڈ کرنا تھا مگر پرواز کے دوران ہی اس کا ریڈار سے رابطہ منقطع ہوگیا۔

مقامی صحافی محمد زبیر نے ڈان نیوز کو بتایا کہ طیارہ پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے قریب پتولہ گاؤں میں گر کر تباہ ہوا۔

جنید جمشید بھی طیارے میں سوار

چترال ایئر پورٹ ذرائع نے تصدیق کی کہ پاکستان کی نامور شخصیت جنید جمشید جو تبلیغی دورے پر چترال میں موجود تھے وہ بھی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ اسی طیارے سے اسلام آباد آرہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: مسافر طیارے میں جنید جمشید بھی موجود

اطلاعات کہ مطابق جنید جمشید نے پارلیمنٹ کی مسجد میں جمعے کا خطبہ دینا تھا۔

ایک امدادی کارکن کاشف نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ سرچ آپریشن کے دوران انہیں معروف نعت خواں جنید جمشید کے وزیٹنگ اور شناختی کارڈز ملے۔

علاوہ ازیں طیارے میں ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) چترال اسامہ احمد وڑائچ بھی اہلخانہ کے ہمراہ سوار تھے۔

امدادی سرگرمیاں

حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئیں تاہم اندھیرے کی وجہ سے رسیکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق امدادی سرگرمیوں میں پاک فوج کے جوانوں اور ہیلی کاپٹرز نے بھی حصہ لیا۔

ریسکیو آپریشن میں مقامی افراد نے بھی حصہ لیا۔

حویلیاں ریجن سے تعلق رکھنے والے سرکاری عہدے دار تاج محمد خان نے بتایا کہ ’تمام لاشیں بری طرح جھلس چکی ہیں اور ان کی شناخت ممکن نہیں جبکہ طیارے کا ملبہ بھی بڑے رقبے پر پھیلا ہوا ہے‘۔

موقع پر موجود ایک ریسکیو اہلکار کاشف نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ’طیارے کا ملبہ 100 کے رقبے تک پھیلا ہوسکتا ہے، ہم نے آگ کو مٹی اور کیچڑ کی مدد سے بجھایا‘۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی قومی ایئرلائن سفر کے لیے کتنی محفوظ؟

ریسکیو اہلکار نے بتایا کہ ’مجھے عینی شاہدین نے بتایا کہ طیارہ گرنے سے قبل دو تین بار ہچکولے کھایا اور طیارہ پہاڑ کے پیچھے نہر نما علاقے میں گرا‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’اس علاقے میں ہیلی کاپٹر یا طیارہ لینڈنگ نہیں کرسکتا اور جس جگہ طیارہ گرا وہاں دونوں اطراف آبادی بھی ہے‘۔

ایک عینی شاہد جمع خان نے بتایا کہ ’ملبے سے نکلنے والی لاشیں نامکمل ہیں اور اتنی مسخ ہوچکی ہیں کہ ان کی شناخت ممکن نہیں‘۔

ڈی پی او ایبٹ آباد خرم رشید کا کہنا تھا کہ طیارے میں سوار کسی مسافر کے بچنے کی امید نہیں۔

’طیارہ 10 سال پرانا تھا‘

.نقشے میں طیارے کا روٹ اور حادثے کا مقام دیکھا جاسکتا ہے
.نقشے میں طیارے کا روٹ اور حادثے کا مقام دیکھا جاسکتا ہے

میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ طیارے کے بائیں انجن میں خرابی تھی اور وہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے گر کر تباہ ہوا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حویلیاں کے ایک سرکاری عہدے دار تاج محمد خان نے بتایا کہ عینی شاہدین نے انہیں یہ بتایا کہ طیارہ پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ ہوا اور گرنے سے قبل ہی طیارے میں آگ لگی ہوئی تھی۔

تاہم طیارہ گرنے کی کوئی حتمی وجہ سامنے نہیں آسکی اور نہ ہی پی آئی اے کی جانب سے کوئی تصدیق کی گئی، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

طیارے کا بلیک باکس ملنے کے بعد معلوم ہوسکے گا کہ پائلٹ نے طیارہ تباہ ہونے سے قبل کنٹرول ٹاور سے کوئی رابطہ یا پیغام دیا تھا یا نہیں۔

پی آئی اے کے ترجمان دانیال گیلانی نے بتایا کہ ’کنٹرول ٹاور کو خطرے کا سگنل بھیجا گیا تھا جس کے فوری بعد طیارے کے تباہ ہونے کی اطلاع آگئی‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’تباہ ہونے والا طیارہ اے ٹی آر 42 ایئرکرافٹ تھا، جو تقریباً 10 برس پرانا اور اچھی حالت میں تھا‘۔

طیارے کی تباہ ہونے کی ممکنہ وجوہات

ایوی ایشن کے عالمی نگراں ادارے ایوی ایشن ہیرالڈ کے مطابق پی کے 661 ایبٹ آباد کے قریب انجن میں خرابی کی وجہ سے گر کر تباہ ہوا۔

ایئر مارشل (ر) شاہد لطیف نے نجی چینل ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ ’ابھی یہ تصدیق ہونا باقی ہے کہ حادثہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے پیش آیا‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’پاکستان میں طیاروں کے حوالے سے بین الاقوامی حفاظتی معیارات پر عمل درآمد بڑا سوالیہ نشان ہے‘۔

شاہد لطیف نے کہا کہ ’کیا پائلٹ نے صورتحال بتانے کے لیے تفصیلی کال کی؟ ہمارے پاس فی الحال اس حوالے سے معلومات نہیں ہیں‘۔

تباہ ہونے والے پی آئی اے طیارے کا فلائٹ ڈیٹا —۔فوٹو/ ڈان نیوز
تباہ ہونے والے پی آئی اے طیارے کا فلائٹ ڈیٹا —۔فوٹو/ ڈان نیوز

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہنگامی لینڈنگ کے لیے طیارے کو قریب ترین علاقے میں اترنا ہوتا ہے ممکن ہے کہ ان کے پاس یہ آپشن موجود نہ ہو، ہوسکتا ہے طیارے کی حالت بہتر نہ ہو، اگر پائلٹ طیارے کو سنبھالنے میں ناکام ہوتا ہے تو اس طرح کے حادثات ناگزیر ہوجاتے ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’ٹیکنیکل عملہ دور سے ہی طیارے میں خرابی کا پتا چلاسکتا ہے لیکن اسے درست کرنے کے لیے طیارے کا لینڈ کرنا ضروری ہوتا ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر دوران پرواز طیارے کے انجن میں خرابی پیدا ہوجائے تو اس طرح کے سانحات ہوجاتے ہیں‘۔

شاہد لطیف نے بتایا کہ پاکستان نے کچھ عرصہ قبل ہی اے ٹی آر طیارے خریدے ہیں، اس سے قبل چھوٹے طیارے استعمال کیے جاتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ اے ٹی آر طیاروں کو چھوٹے روٹس پر چلایا جارہا تھا اور بظاہر ان میں کوئی خرابی نظر نہیں آرہی تھی۔

اہم شخصیات کا اظہارِ افسوس

صدر پاکستان ممنون حسین نے طیارہ حادثے میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو متاثرین کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل تعاون کی ہدایت کردی۔

وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر داخلہ چوہدری نثار نے متعلقہ وفاقی اداروں کو ہدایات جاری کیں کہ وہ فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کریں اور خیبر پختونخوا حکومت کی ہر ممکن معاونت کریں۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے بھی حادثے پر اظہارِ افسوس کیا۔

انہوں نے حادثے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے خیبرپختونخوا حکومت کو امدادی کاموں میں کسی بھی قسم کی کوتاہی نہ برتنے کی ہدایت بھی کی۔