پہلے لوگوں کو اٹھانے کے لیے لاہور کے گلی محلوں میں خالی پیپے بجائے جاتے تھے۔

مسجدوں کے لاؤڈ اسپیکروں سے سائرن گونجتے تھے۔

اہلِ محلہ کو نیند سے بیدار کرنے کے لیے مساجد سے اعلان کیے جاتے تھے۔

مسافروں کی افطاری کے لیے سموسے، پکوڑے، کیلے اور کھجوریں، لفافوں میں پیک کی جاتیں۔ تخم لنگا اور گوند کتیرا ملے لال شربت کی سبیلیں لگائی جاتیں۔

سحر میں تازہ دہی کے کونڈوں کے کونڈے کم پڑ جاتے تھے۔

گلی محلوں کے بازاروں میں لوگوں کی آنیاں جانیاں ختم نہیں ہوتی تھیں۔

لیکن ۔ ۔ ۔ اب۔ ۔ ۔

نہ تو پیپے بجائے جاتے ہیں اور نہ ویسے سائرن محلوں کی فضاؤں میں گونجتے ہیں۔

مساجد سے روزہ داروں کو اٹھانے کے لیے اعلان تو کیے جاتے ہیں، مگر ایسا لگتا ہے کہ امام صاحب خود ابھی پوری طرح اٹھے نہیں ہوتے اور مسلمان بھائیوں بہنوں کو اٹھنے کی تلقین کر رہے ہوتے ہیں۔

افطاری میں ہر گھر سے پکوڑوں کی خوشبو تو آ رہی ہوتی ہے مگر مسافروں کی افطاری کے بارے میں کسی بھی روزہ دار کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔

پڑھیے: کیا آپ اس رمضان فِٹ رہنا چاہتے ہیں؟

مساجد سے افطاری کے لیے ہونے والوں اعلانات میں لگ رہا ہوتا ہے جیسے امام صاحب ڈھکے چھپے الفاظ میں استدعا کر رہے ہوں کہ اگر افطاری میں کچھ بچ جائے تو اسے ضائع کرنے کے بجائے مسجد میں بھیج کر ثوابِ افطاری حاصل کریں۔

سحر میں اٹھنے کے لیے پیپے والوں اور سائرن کے بجنے کا نہیں بلکہ موبائل پر لگے الارم پر تکیہ کیا جاتا ہے جو کہ وقت پر بجنے کے باوجود سحر سے چند منٹ پہلے بیدار کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔

سحر کے لیے اٹھنے کے ساتھ ہی نماز کی تیاری کرنے کے بجائے ٹی وی پر اپنی پسندیدہ رمضان نشریات دیکھی جاتی ہیں۔ پیکٹ والے پراٹھے، ڈبے والا دہی اور بنا پیاز ٹماٹر کے آملیٹ ٹی وی کے سامنے بیٹھے ہی پیش کردیے جاتے ہیں، جن کا ایک نوالہ منہ میں اور دوسرا ناک میں جاتے جاتے منہ میں جاتا ہے۔

سحری کا وقت ختم ہونے سے پہلے جن دودھ دہی کی دکانوں پر گاہکوں کا تانتا بندھا ہوتا تھا اب کوئی کوئی تازہ دہی کاشوقین ہی ہاتھ میں اسٹیل کا برتن اٹھائے تازہ دہی لینے جاتا ہے۔ جبکہ روزہ داروں کی اکثریت پچھلی رات ہی تھیلیوں میں پیک فریج میں پڑی دہی کو فریج میں جا کر رکھ دیتی ہے، جس میں نہ تو ملائی ہوتی ہے اور نہ ہی وہ تازہ پن، جو کونڈے کے تازہ دہی میں ہوتا ہے۔

صاحب استطاعت خاندان پوری پوری رات جاگراتا کر کے تازہ دہی اور بلوں والے پراٹھوں کے بجائے کیفے اور ریسٹورینٹس میں میدے کے پراٹھے، چکن نہاری، باسی مٹن کڑاہی اور ڈبے کے دہی کی بنی لسی سے سحری کرتے ہیں۔ جس پر اتنا خرچہ آ جاتا ہے کہ جس سے باآسانی پورے گھر کا راشن پڑ جائے۔

جن گھروں میں افطاریاں کروانے اور مستحق لوگوں کو افطار کا سامان پہنچانے کا رواج تھا، اب وہ افطاریاں تو کرواتے ہیں مگر گھروں پر نہیں بلکہ لاہور کے ایم ایم عالم روڈ پر واقع ریسٹورینٹس میں۔ جہاں فی کس افطاری 1500 سے 2500 روپے تک کروائی جاتی ہے۔

پڑھیے: موسم گرما میں رمضان: ان 8 طریقوں سے جسم تیار کریں

ان ریسٹورینٹس میں افطاری کے وقت حالات یہ ہوتے ہیں کہ جن لوگوں کی ایڈوانس بکنگ نہیں ہوتی، انہیں ویٹنگ ایریا میں انتظار کرنے بھی نہیں دیا جاتا اور افطاری کے اعلان ہونے کے باوجود بھی افطاری کے لیے ایک کھجور بھی آفر نہیں کی جاتی۔

جن لوگوں کی ایڈوانس بکنگ ہوتی ہے وہ بھی گھنٹوں پہلے پارکنگ کی تلاش اور پھر ریسٹورینٹس میں مناسب جگہ کے حصول کی خاطر پہنچ جاتے ہیں جو کہ تاوقت افطاری انتہائی مہزبانہ انداز میں اپنی سیٹوں پر براجمان رہتے ہیں۔ مگر افطاری کا وقت ہوتے ہی آسمان پر قید شیطان ان روزہ داروں پر غالب آجاتا ہے اور پھر مہنگے ترین میک اپس اور برینڈڈ کپڑوں میں ملبوس خواتین اور برینڈڈ کرتوں اور پاجامے پہنے مرد حضرات پکوڑوں اور فروٹ چاٹ کے حصول میں کود پڑتے ہیں۔ جو انہیں قدرے کم پیسوں میں اپنے گھروں میں میسر ہونے کے باوجود ان ریسٹورینٹس میں ذلیل ہوتے ہیں۔

بعد از افطاری ان روزہ داروں کی اکثریت ریسٹورینٹس کی انتظامیہ سے افطاری کی مصنوعات بتائی گئی تعداد سے کم ہونے کی شکایت کرتے پائے جاتے ہیں اور پھر جب واپسی پر پارکنگ والا، بیس کی بجائے تیس روپے مانگ لے تو پارکنگ فیس کو ناجائز قرار دیتے ہوئے حکومت کی غنڈہ گردی قرار دے دیتے ہیں۔

ایک زمانہ تھا جب گھر پر آنے والے ہر سائل کے ڈول میں افطاری کے لیے کچھ نہ کچھ ڈال دیا جاتا تھا۔ ہر روز بعد افطاری روز آنے والے سائل کے لیے افطاری کا سامان رکھا جاتا تھا۔ گھر گھر جانے والے سائلوں کے پاس اتنا سامانِ افطاری جمع ہو جاتا تھا، جسے وہ افطاری اور پھر سحر میں استعمال کر لیا کرتے تھے۔ اب تو گھروں میں افطاری کے کچھ دیر پہلے سے ہی رمضان نشریات دیکھنے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور اگر کوئی سائل اس دوران گھنٹی بجا دے تو اسے افطاری دینے کے بجائے جھاڑیں دی جاتی ہیں، جس کے بعد وہ سائل دوبارہ اس گھر کا رُخ نہیں کرتا۔

ماضی کی تاریخی روایات کی طرح اس بار بھی ہر چینل اپنی بساط کے مطابق سب سے بڑی رمضان نشریات کر رہا ہے، جس میں پہلی بار کرکٹ کے ان کھلاڑیوں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے جو مختلف چینلز پر پاکستانی ٹیم پر تنقیدی تیر برساتے نظر آتے ہیں۔ اب وہ رمضان گیم شوز میں آسان سوالات کے بدلے انعامات بانٹیں گے۔

دیکھیے: رمضان اپنی خوشیاں دوسروں کے ساتھ بانٹنے کا مہینہ

دوسری طرف روزہ داروں میں سال کے 11 مہینوں کی نسبت ماہِ رمضان میں خیرات، صدقات اور عطیات دینے کا جذبہ قدرے زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ لیکن وقت کی عجلت اور روزمرہ کاموں کی مارا ماری میں گھروں پر افطاریوں کا انتظام کرنے والے اور مساجدوں اور مستحقین کے گھروں میں افطاری کا سامان پہنچانے والے کیش کی صورت میں نیکیاں خریدتے ہیں، یوں انہیں نہ تو رش والے بازاروں میں جا کر گرمی میں زحمت اٹھانی پڑتی ہے اور لینے والے بھی ملنے والے صدقات، عطیات اور خیرات سے پہلے موبائیل کا بیلنس اور پھر بچ جانے والے پیسوں سے رمضان کا راشن ڈالتے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ اس نفسا نفسی کے دور میں کسی کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ اپنے مصروف ترین فارغ اوقات میں سے وقت نکال کر اپنے عزیزوں اور مستحقین کے لیے افطاری کا انتظام کرے۔

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جس دین کی پیروی کرتے ہوئے ہم صدقات، خیرات اور عطیات دیتے ہیں، وہی دین ہم سے مستحقین کے لیے وقت اور توجہ بھی طلب کرتا ہے۔ وگرنہ رمضان میں ثواب کمانے کے لیے پیسے ہی دینے ہیں تو ہر شہر کے ہر چوراہے پر افراد دستیاب ہیں، جو اس بابرکت مہینے کا انتظار سال کے 11 مہینے ہاتھ پھیلا کر کرتے ہیں۔