کراچی: سندھ پولیس کے انسداد دہشت گردی ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی سینٹرل جیل سے فرار ہونے والے کالعدم تنظیم کے دو خطرناک دہشت گرد اس وقت افغانستان میں موجود ہیں۔

خیال رہے کہ رواں سال جون میں یہ بات منظر عام پر آئی تھی کہ کراچی سینٹرل جیل سے کالعدم تنظیم کے دو 'خطرناک دہشت گرد' فرار ہوگئے۔

جس کے بعد سی ٹی ڈی نے واقعے کی تحقیقات کرتے ہوئے سینٹر جیل کے عملے کے متعدد اہلکاروں کو گرفتار کرکے تفتیش کا آغاز کیا تھا۔

واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سی ٹی ڈی سے فرار ہونے والے دہشت گردوں کے حوالے سے تحقیقات جلد مکمل کرکے رپورٹ جمع کرانے کو کہا تھا۔

محکمہ داخلہ سندھ کے حکام نے ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے مذکورہ رپورٹ کی تصدیق کی ہے، حکام کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی نے وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر اپنی تفتیش مکمل کرکے رپورٹ جمع کرادی ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی سینٹرل جیل سے کالعدم تنظیم کے دوقیدی فرار

محکمہ داخلہ سندھ کے حکام کے مطابق سی ٹی ڈی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کراچی سینٹرل جیل سے فرار ہونے والے ملزم شیخ ممتازعرف فرعون اور محمد احمدعرف منا چمن کے راستے افغانستان پہنچے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ دونوں ملزمان کے تمام سہولت کار گرفتار کیے جاچکے ہیں جبکہ سہولت کاروں سے مزید تفتیش کا عمل جاری ہے۔

واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

بعد ازاں عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سینٹرل جیل سے فرار ہونے کے واقعے میں لاپرواہی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرکے جیل بھیجا تھا تاہم عدالت نے جیل بھیجے جانے والے ذمہ داروں کی ضمانت منظور کرکے انہیں آزاد کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جیل سے فرار قیدی افغانستان کیسے پہنچے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس کے بارے میں نا برف پہلے پگھلی تھی اور ناہی آج پگھلی ہے، آئی جی کا معاملہ عدالت میں تھا، اس لیے ہم نے عدالت کا احترام کیا۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ عدالت کے فیصلے کے چند نکات پر اعتراض ہے، اور عدالتی فیصلے کو چیلنچ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: 'کراچی جیل سے فرار ہونے والے دہشتگرد ہری پور میں مقیم رہے'

واضح رہے کے دونوں مفرور قیدیوں کا تعلق کالعدم لشکر جھنگوی سے ہے جنہیں 2013 میں گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس کے سی ٹی ڈی کے سینئر افسر راجا عمر خطاب نے مذکورہ واقعے کے فوری بعد بتایا تھا کہ انھیں قیدیوں کے فرار ہونے کے وقت سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

راجاعمر خطاب کا کہنا تھا کہ شیخ ممتاز عرف فرعون اورنگی ٹاؤن کا رہائشی تھا جو مخالف مسلک کے 57 افراد کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھا اور ان کے خلاف 32 کیسز کے چالان تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ احمد عرف منا کورنگی کا رہائشی تھا اور ٹارگٹ کلنگ کے سات واقعات میں ملوث تھا جبکہ دونوں دہشت گردوں کا تعلق قاسم رشید گروپ سے تھا، یہ گروپ لشکرجھنگوری کے نعیم بخاری سے منسلک تھا۔