شرجیل میمن کے خلاف نیب ریفرنس: میڈیکل بورڈ کی تشکیل کا حکم

اپ ڈیٹ 13 دسمبر 2017

ای میل

کراچی: احتساب عدالت نے رکن سندھ اسمبلی اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما شرجیل انعام میمن کو فراہم کردہ طبی سہولیات کی تشخیص کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔

کراچی کی احتساب عدالت میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے شرجیل انعام میمن کے خلاف اربوں روپے کی بد عنوانی کا ریفرنس دائر کیا گیا تھا، جس میں عدالت نے ملزم کو طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے میڈیکل بورڈ قائم کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے آغاز میں شرجیل میمن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کی طبیعت ناساز ہے اور ان کا علاج جیل میں ممکن نہیں لہٰذا اس کے لیے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔

سابق وزیر اطلاعات کے وکیل کا کہنا تھا کہ انہیں نئے میڈیکل بورڈ میں کسی بھی ڈاکٹر کی شمولیت پر اعتراض نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: شرجیل میمن کی ضمانت کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

عدالت نے شرجیل انعام میمن کی طبی سہولیات کی تشخیص کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیتے ہوئے اس میں نیورولوجسٹ، نیورو فیزیشنز اور دیگر ڈاکٹروں کو شامل کرنے کی ہدایت جاری کی۔

احتساب عدالت کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ میڈیکل بورڈ عدالت کو بتائے کہ شرجیل انعام میمن کو بیماری کی وجہ سے جان کا خطرہ تو نہیں اور یہ بھی بتایا جائے کہ سابق صوبائی وزیر کا علاج جیل ہسپتال میں ممکن ہے یا نہیں۔

قومی احتساب بیورو (نیب) کے وکیل نے میڈیکل بورڈ کی تشکیل پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو کوئی دائمی یا خطرناک مرض لاحق نہیں لہٰذا اس میڈیکل بورڈ کی تشکیل کی کوئی ضرورت نہیں۔

عدالت نے سیکریٹری صحت کو بھی جواب جمع کرنے کی آخری مہلت دیتے ہوئے 16 دسمبر تک جیل میں طبی سہولیات سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں: عدالتی احکامات کی خلاف ورزی نہیں کی: شرجیل انعام میمن

عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اگر سیکریٹری صحت نے وقت پر رپورٹ جمع نہیں کرائی تو ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا جبکہ ہدایت جاری کی کہ میرٹ کی بنیاد پر ملزمان کے روزانہ چیک اپ کی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی جائے۔

خیال رہے کہ احتساب عدالت میں شرجیل انعام میمن کے خلاف سندھ کے محکمہ اطلاعات میں 5 ارب 76 کروڑ روپے کی بد عنوانی کے خلاف نیب کی جانب سے بدائر ریفرنس کی سماعت بغیر کسی کارروائی کے ملتوی کردی گئی تھی جس میں ممکنہ طور پر ان کے اور دیگر شریک ملزمان کے خلاف فرد جرم عائد کی جانی تھی۔

سماعت سے قبل شرجیل میمن کے وکیل کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ شرجیل میمن کی طبیعت نا ساز ہے اور انہیں طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 25 نومبر کو شرجیل میمن نے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت کی درخواست مسترد کرنے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

مزید پڑھیں: نیب ریفرنس: شرجیل میمن نے نیب میمو چیلنج کردیا

یہ بھی یاد رہے کہ گزشتہ ماہ 23 اکتوبر کو سندھ کے محکمہ اطلاعات میں 5 ارب 76 کروڑ روپے کی مبینہ بدعنوانی کے معاملے پر سندھ ہائی کورٹ نے شرجیل انعام میمن سمیت دیگر ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی جس کے بعد نیب کی ٹیم نے انھیں عدالت سے باہر آتے ہی گرفتار کرلیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی ایم شیخ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے پی پی پی کے رہنما سمیت 13 ملزمان کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی۔

خیال رہے کہ سابق صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن، اس وقت کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات، ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن ڈپارٹمنٹ اور دیگر پر 15-2013 کے دوران سرکاری رقم میں 5 ارب 76 کروڑ روپے کی خرد برد کا الزام ہے۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے مذکورہ رقم صوبائی حکومت کی جانب سے آگاہی مہم کے لیے الیکٹرونک میڈیا کو دیے جانے والے اشتہارات کی مد میں کی جانے والی کرپشن کے دوران خرد برد کی۔

یہ بھی پڑھیں: 'شرجیل میمن کیخلاف کروڑوں کے غبن کی انکوائری'

یہ بھی یاد رہے کہ رواں سال مارچ میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے 20 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض شرجیل میمن کی حفاظتی درخواست ضمانت منظور کی تھی۔

شرجیل انعام میمن نے 2015 میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرلی تھی اور تقریباً 2 سال تک بیرون ملک رہنے کے بعد جب وہ رواں برس 18 اور 19 مارچ کی درمیانی شب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچے، تو انہیں قومی احتساب بیورو (نیب) کے اہلکاروں نے ایئرپورٹ سے ہی گرفتار کرلیا تھا۔

تاہم 2 گھنٹے پوچھ گچھ کرنے اور ضمانتی کاغذات دیکھنے کے بعد نیب راولپنڈی کے اہلکاروں شرجیل میمن کو رہا کردیا تھا۔