نیب ریفرنس: شرجیل میمن نے نیب میمو چیلنج کردیا

اپ ڈیٹ 06 نومبر 2017

ای میل

سابق وزیرِ اطلاعات سندھ اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما شرجیل انعام میمن نے احتساب عدالت میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے میمو کو چیلنج کردیا۔

نیب حکام کی جانب سے پی پی پی رہنما شرجیل میمن اور صوبائی محکمہ اطلاعات کے دیگر گرفتار افسران کو نیب ریفرنس کی سماعت کے لیے کراچی کی احتساب عدالت میں مخصوص جیکٹ پہنا کر لایا گیا۔

کراچی کی احتساب عدالت میں شرجیل انعام میمن صوبائی محکمہ اطلاعات کے دیگر افسران کے خلاف نیب ریفرنس کے سلسلے میں سماعت کا آغاز ہوا تو ملزمان کو ان کے خلاف الزامات پڑھ کر سنائے گئے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نے عدالت میں ایک درخواست دائر کی جس میں انہوں نے اپنے خلاف نیب کی جانب سے دائر میمو کو چیلنج کردیا۔

مزید پڑھیں: ’میرے ساتھ اور شریف خاندان کے ساتھ دہرا معیار کیوں؟‘

شرجیل انعام میمن نے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ نیب میمو میں جو لکھا گیا وہ غلظ بیانی پر مبنی ہے، اس کے حوالے سے نیب کی جانب سے ابھی ٹھوس شواہد بھی پیش نہیں کیے گئے، لہٰذا ان پر لگائے جانے والے الزامات کو واپس لیا جائے۔

دیگر ملزمان کے وکلا نے بھی عدالت میں نیب میمو کو چیلنج کیا۔

خیال رہے کہ سابق صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن، اس وقت کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات، ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن ڈپارٹمنٹ اور دیگر پر 15-2013 کے دوران سرکاری رقم میں 5 ارب 76 کروڑ روپے کی خرد برد کا الزام ہے۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے مذکورہ رقم صوبائی حکومت کی جانب سے آگاہی مہم کے لیے الیکٹرونک میڈیا کو دیے جانے والے اشتہارات کی مد میں کی جانے والی کرپشن کے دوران خرد برد کی۔

یہ بھی پڑھیں: کرپشن کیس: شرجیل انعام میمن سمیت دیگر ملزمان 4 نومبر تک جیل منتقل

شرجیل انعام میمن نے 2015 میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرلی تھی اور تقریباً 2 سال تک بیرون ملک رہنے کے بعد جب وہ رواں برس 18 اور 19 مارچ کی درمیانی شب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچے، تو انہیں نیب راولپنڈی کے اہلکار ایئرپورٹ سے ہی گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئے تھے، تاہم ضمانتی کاغذات دیکھنے کے بعد انہیں جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے 20 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض شرجیل میمن کی حفاظتی درخواست ضمانت منظور کی تھی۔

خیال رہے کہ سندھ کے محکمہ اطلاعات میں 5 ارب 76 کروڑ روپے کی مبینہ بدعنوانی کے معاملے پر سندھ ہائی کورٹ نے شرجیل میمن سمیت دیگر ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی، جس کے بعد نیب کی ٹیم نے سابق صوبائی وزیر کو عدالت سے باہر آتے ہی گرفتار کرلیا تھا۔

ایک روز بعد نیب نے شرجیل انعام میمن کو کراچی کی احتساب عدالت میں دیگر ملزمان سمیت پیش کی اور ان کا جوڈیشل ریمانڈ حاصل کرنے کی درخواست کی جسے عدالت نے قبول کرتے ہوئے 4 نومبر تک ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

شرجیل انعام میمن کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ایوان میں لایا گیا جہاں انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کے اور شریف خاندان کے معاملے میں نیب کی جانب سے دہرا معیار اپنایا جارہا ہے جبکہ ضمانت منظور ہونے کے باوجود نیب حکام نے انہیں گرفتار کیا ہوا ہے۔