ٹرمپ کی ٹوئیٹ سے ڈرنا نہیں ہے، لیکن

05 جنوری 2018

ای میل

ہاں، جب تک بم گرنا شروع نہیں ہوجاتے، تب تک ہم کہہ سکتے ہیں کہ سب کچھ مذاق ہے۔ نئے نویلے سال کا آغاز امریکی صدر کے ساتھ ہوا جنہوں نے بظاہر ٹوئٹر پر تباہی مچا رکھی ہے۔ چند افراد نے کہا کہ اس دن پورے چاند کی رات تھی، نہیں بلکہ سپر مون کی رات تھی، اور یہ سب باتیں اس پورے عجیب و غریب منظرنامے کی توجیہہ کے طور پر پیش کی جارہی ہیں۔ کون جانتا ہے؟ مجھے ابھی بھی ایک اور زیادہ پختہ وضاحت سننی ہے۔ حالانکہ وائٹ ہاؤس کے ترجمان کو اگلے ہی دن ایسا کرنے کے لیے پریس کانفرنس کرنے کا موقعہ فراہم کیا گیا تھا۔

ہر کوئی، ہماری طرف پھینکی گئی دھمکی آمیز ٹوئیٹ کو محض بکواس، صرف بھونکا جائے لیکن کاٹا نہ جائے کے مصداق، قرار دینا چاہے گا۔ پاکستان کے حکام نے بھی نپے تلے انداز میں جواب دیتے ہوئے یقیناً درست کام کیا۔

مزید پڑھیے: امریکا نے پاکستان کو 15 سال تک امداد دے کر بیوقوفی کی، ڈونلڈ ٹرمپ

اگلے دن وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے اپنی پریس کانفرنس میں ’چند دنوں کے اندر‘ پاکستان کے خلاف ’مخصوص ایکشن‘ لینے کی بات کہی۔ یہ بات ایک عرصے سے جاری واقعات کے ایک سلسلے کے اواخر میں سننے کو ملی ہے۔ اگست میں ٹرمپ نے بڑے ہی سخت لہجے میں تقریر کی تھی جس میں انہوں نے پاکستان کے اندر ’دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں' کی بات کی اور نتائج بھگتنے سے خبردار کیا، اور ہندوستان کو پاکستان کے اہم مسئلے، افغانستان میں اہم کردار ادا کرنے کی دعوت دی۔

چند دنوں بعد، خبر رساں ادارے پولیٹیکو نے خبر بریک کی کہ پاکستانی حکومت میں موجود چند اُن مخصوص افراد پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جو امریکا کے نزدیک خاص دہشتگردوں اور دہشتگرد تنظیموں سے تعلقات رکھتے ہیں۔ اگلے دن امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ، صدر نے دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور مطلوبہ مخصوص کارروائیوں کے معاملے پر 'پاکستان کو نوٹس پر رکھا ہوا ہے۔'

ان کارروائیوں میں پاکستانی حکومت کے اندر موجود ایسے افراد پر پابندیا عائد کرنا مشکل تھا ’جو اس قسم کے گروہوں کے ساتھ منسلک ہیں، جیسے کہ آپ جانتے ہی ہیں، ایسا بالکل نہیں ہونا چاہیے۔‘

اِس منظرنامے کے بعد کابینہ اجلاس ہوا اور آرمی چیف اور امریکی سفاتکار کے درمیان پاکستان میں ملاقات ہوئی، اور پھر حکومت اور فوج کی جانب سے علیحدہ علیحدہ بیانات جاری ہوئے جس میں انہوں نے پاکستان پر ڈالے جارہے دباؤ میں آنے سے صاف انکار کردیا۔ چند دنوں بعد پاکستان میں قومی سلامتی اجلاس کے بعد ایک مفصل جواب پیش کیا گیا، اس اجلاس میں اعلیٰ سول و فوجی قیادت نے شرکت کی تھی۔

اس مفصل جواب میں امریکا کو افغانستان کے اندر موجود محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے، بارڈر مینیجمنٹ، افغان مہاجرین کی واپسی اور افغانستان میں سیاسی حل کے ذریعے قیامِ امن کے عمل کو بحال کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے کہا گیا۔ اِس کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے وسیع کردار اور افغانستان میں اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے پاکستان پر الزام تراشی کرنے سے باز رہنے کو بھی کہا گیا۔

لفظی جنگ کے بعد بظاہر ایک خاموشی چھا گئی، لیکن ایک چیز قابلِ غور ہے وہ یہ کہ پاکستان کے خلاف جن جذبات کا اظہار کیا گیا تھا وہ صرف امریکی صدر کے بظاہر اشتعال انگیز ٹوئیٹ تک ہی محدود نہیں بلکہ ان جذبات کو تو وسیع پیمانے پر دیکھا گیا۔ جس کا اندازہ ایک بار پھر تب ہوا جب امریکا کے دفاعی سیکریٹری، جنرل میٹس نے دسمبر کی ابتداء میں پاکستان کا دورہ کیا۔ حالانکہ اجلاس کے اندر کی بات زیادہ منظرِ عام پر نہ آسکی، لیکن یہ واضح تھا کہ ماحول کو بہتر بنانے اور دونوں ملکوں کو ایک ہی صفحے پر لانے کی تمام کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔

پھر اسی مہینے میں امریکی نائب صدر نے فوجیوں کا مورال بڑھانے کے لیے اچانک کابل کا دورہ کیا اور اُنہیں یقین دلایا کہ امریکا 'اپنا کام انجام تک پہنچائے گا‘، اور انہوں نے ایک بار اِس بات کو دہرایا کہ دہشتگرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے معاملے پر صدر نے پاکستان کو ’نوٹس پر رکھا ہوا ہے‘۔ اس پر پاکستان کا باضابطہ جواب بھی اتنا ہی کرارا تھا، اور نائب صدر کو یاد دلایا کہ پاکستان ایسے نوٹسز تسلیم نہیں کرتا اور اب پاکستان کو مزید ’ڈو مور کا مطالبہ قبول نہیں۔‘

مزید پڑھیے: اتحادی ایک دوسرے کو تنبیہ نہیں کرتے،پاکستان کا امریکا کی دھمکی پر جواب

چند دنوں بعد نیو یارک ٹائمز میں خبر چھپی کہ نامعلوم ذرائع کے مطابق امریکا پاکستان کو دی جانے والی 25 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی ’امداد‘ روکنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ بدنام زمانہ ٹوئیٹ کے چند دنوں بعد، وہاں کے حکام نے اس فیصلے اور اس رقم کی توثیق کردی، رقم کے حوالے سے کہا گیا کہ یہ پیسہ فارین ملٹری فنانسنگ پروگرام کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے، جس کا مقصد دفاعی سازو سامان کے ساتھ ساتھ فوجی خدمات حاصل کرنے والے ملکوں کی مدد کرنا ہوتا ہے۔

مختصراً یہ کہ کچھ عرصے سے معاملات بگڑتے جا رہے ہیں، اور یہی بات غیر یقینی جذبات کو بڑھکانے کا سبب بن سکتی ہے، وہی غیر یقینی جذبات جو صدر کو بے چین کردیتے ہیں۔ پاکستان کے اندر قابلِ فہم طور پر بحث میں گرما گرمی پیدا ہوئی ہے، جس میں کئی لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ اِس بات کا کیا مطلب ہوسکتا ہے اور امریکی امداد حقیقی طور پر کس قدر پاکستان کے لیے اہمیت کی حامل ہے۔

چلیے ایک لمحے کے لیے اعداد کو ایک طرف رکھ دیتے ہیں؛ 'امداد' میں دی گئی اصل رقم ہی متنازعہ ہے۔ پہلا سوال تو یہ بنتا ہے کہ اس سے کیا کچھ ہوسکتا ہے، اور اگلا سوال یہ بنتا ہے کہ اس کا مطلب کیا ہوگا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ امریکا کن آپشنز پر غور کرسکتا ہے؟ ہم نے 3 خاص ایکشنز کے بارے میں سنا ہے:

  • پاکستان کی سرزمین پر جنہیں وہ اپنا دشمن سمجھتے ہیں انہیں امریکی فورسز کے ہاتھوں یکطرفہ طور پر حملہ کرکے ہدف بنانا،
  • امداد روکنا، اور
  • ایسے سینئر سرکاری (جن میں زیادہ تر ممکنہ طور پر فوج میں شامل) افسران جن کے بارے میں امریکا سمجھتا ہے کہ ان کے دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ تعلقات ہیں، ان پر پابندی عائد کرنا۔

ایسا کوئی امکان نہیں کہ وہ فوراً کوئی فوجی راستہ اختیار کریں گے، لیکن جو منظرنامہ بن رہا ہے اُسے دیکھ کر لگتا ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ کچھ بھی ممکن ہوسکتا ہے۔ امریکا کے ساتھ تعلقات میں جو گہری دراڑ آئی ہے وہ پاکستان کے لیے امداد کی صورت میں ملنے والی رقوم سے کہیں زیادہ معنی رکھتی ہے۔

ان تعلقات سے دیگر اہم اداروں سے وابستگی بھی جڑی ہوئی ہے، جس طرح پاکستان کثیر فریقی قرض خواہ اداروں، جیسے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک سے جڑا ہوا ہے اور سب سے اہم فنانشل ایکشن فورس، اور اُس کے ساتھ ساتھ نجی ڈیٹ مارکیٹوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اس وقت حکومت مارچ سے قبل اور 2018ء میں کسی بھی وقت، ایک بار پھر ڈیٹ مارکیٹ کا رخ کرنے پر غور کر رہی ہے، اگر ادائیگیوں کے بگڑتے ہوئے توازن میں بہتری نہیں آئی تو آئی ایم ایف کا رخ کرنا ضروری ہوجائے گا۔

مزید پڑھیے: امریکا نے پاکستان کا نام ’خصوصی واچ لسٹ‘ میں ڈال دیا

مگر پھر بھی ہمیں ان وجوہات کی بناء پر امریکی دھمکیوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ تعلقات میں اچانک سے ایسے وقت میں دراڑیں پیدا ہو رہی ہیں کہ جب سیاسی اور اقتصادی دونوں جانب صورتحال خستہ حال ہے۔

ان دنوں وائٹ ہاؤس سے ملنے والی دھمکیوں کے آگے قطعاً جھکنا نہیں ہوگا، لیکن بہتر ہوگا کہ ہم اپنا ردِعمل نبے تلے انداز میں اور غور و خوض کے ساتھ دیں۔ سب سے زیادہ اہم بات یہ کہ وقتی سیاسی مقاصد کے لیے ہمیں اپنے ملک میں عدم استحکام کو بڑھاوا نہیں دینا ہوگا، اس کی اتنی ضرور پہلے کبھی نہیں تھی کہ جتنی آج ہے۔

یہ مضمون 4 جنوری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔