قبض سے تحفط فراہم کرنے والی بہترین غذائیں

22 نومبر 2018

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

قبض کی بیماری کا سامنا اکثر افراد کو ہوتا ہے اور انہیں اپنی زندگی اس کی وجہ سے بہت مشکل محسوس ہونے لگتی ہے۔

قبض ذیابیطس جیسے مرض کی بھی ایک بڑی علامت ہوسکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق ذیابیطس سے ہٹ کر کچھ اقسام کے کینسر لاحق ہونے کی صورت میں بھی قبض کی شکایت اکثر رہنے لگتی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو اکثر قبض کی شکایت رہتی ہے تو اسے عام سمجھ کر نظر انداز مت کریں۔

مزید پڑھیں : قبض سے نجات دلانے والے 10 گھریلو نسخے

تاہم قبض کا علاج تو آپ کے اپنے کچن میں بھی موجود ہے۔

چند عام اور مزیدار چیزوں کو کھانا اس تکلیف سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

امرود

اس میں غذائی فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے اور ایک امرود ہی فائبر کی روزانہ کے لیے ضروری مقدار کا 12 فیصد حصہ جسم کو فراہم کردیتا ہے جو کہ نظام ہضم کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہے، امرود کے بیج بھی قبض کو ختم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

سونف

سونف کو کھانے کے بعد استعمال کرنا نظام ہاضمہ کو بہتر طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتا ہے جبکہ سانس کی بو کی شکایت بھی ختم ہوتی ہے، سونف اکثر قبض کے شکار رہنے والے افراد کے لیے بہترین ہے جبکہ اس کا تیل بھی نظام ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے۔

املوک (جاپانی پھل)

ٹماٹر جیسے نظر آنے والا یہ پھل فائبر سے بھرپور ہوتا ہے جبکہ بیٹا کیروٹین آکسائیڈنٹ بھی اس میں پایا جاتا ہے، فائبر کی وجہ سے یہ نظام ہاضمہ کے لیے بہترین ہوتا ہے خصوصاً قبض کے شکار افراد کے لیے یہ بہت زیادہ فائدہ مند ہے۔

کیلے

کیلے بھی قدرتی طور پر قبض کشا پھل ہے، یہ فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں اور کھانے کو آسانی سے ہضم ہونے میں مدد دیتے ہیں، اس پھل میں پوٹاشیم بھی ہوتا ہے جو کہ آنتوں کے افعال کو بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

مٹر

مٹر تو سردیوں میں بہت زیادہ استعمال ہونے والی سبزی ہے جس میں فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ وٹامن کے ون بھی جسم کو ملتا ہے جو کہ ہڈیوں کی صحت بنانے، خون کے گاڑھے ہونے کا خطرہ کم کرتا ہے، جیسا اوپر ذکر کیا جاچکا ہے کہ فائبر قبض کے خلاف بہترین جز ہے اور مٹر کھانے کی عادت بھی قبض دور کرتی ہے۔

گاجر

گاجروں میں پیکٹین نامی جز پایا جاتا ہے جو کہ آنتوں کے افعال کے لیے بہتر ہوتا ہے جبکہ یہ نظام ہاضمہ کی بھی صفائی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : قبض سے نجات کے لیے یہ 6 جوس پینا شروع کریں

ٹماٹر

وٹامن سی، اے اور کے سے بھرپور یہ قبض دور کرنے کے لیے بہترین ہے، اس میں شامل اجزاءجسم کو روزانہ درکار فائبر کا دس فیصد حصہ فراہم کرتے ہیں۔

مکئی

مکئی بھی فائبر سے بھرپور غذاﺅں میں سے ایک ہے جس کی سوگرام مقدار میں 7 گرام فائبر ہوتا ہے، اس کے علاوہ لیوٹین اور دیگر اجزا بھی موجود ہوتے ہیں جو کہ صحت مند بینائی کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔

پانی

فائبر اور ورزش کے ساتھ ساتھ مناسب مقدار میں پانی پینا بھی قبض کی شکایت میں کمی لانے کے لیے ضروری ہے، پانی آنتوں کے افعال کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے، اگر آپ کا جسم پانی کی کمی کا شکار ہوگا تو قبض کا خطرہ بھی اتنا زیادہ بڑھ جائے گا۔

شکرقندی

یہ سبزی بھی قبض کی شکایت کو ختم کرنے کے لیے بہترین ہے جو کہ پانی، فائبر، میگنیشم اور وٹامن بی سکس سے بھرپور ہوتی ہے، میگنیشم آنتوں کو ریلیف پہنچا کر ان کی قدرتی حرکت کو بحال کرتی ہے، جبکہ پانی اور فائبر جسمانی نمی کو برقرار رکھتے ہیں جبکہ فضلے کو جسم سے باہر نکال دیتے ہیں۔

تخ ملنگا

تخ ملنگا آنتوں کی سرگرمیوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے۔ سونے سے قبل ایک گلاس دودھ میں اسے ملا کر پینا معدے کو صاف کرتا ہے، قبض کی روک تھام جبکہ پیٹ پھولنے یا گیس کے مسئلے کو ختم کرتا ہے۔

آلو بخارے

آلو بخارے فائبر سے بھرپور پھل ہے اور یہ وہ جز ہے جو آنتوں کے افعال کو بہتر کرکے قبض کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے، ایک آلو بخارے میں ایک گرام فائبر ہوتا ہے جو کہ جسم کے لیے مناسب مقدار ہے، اسی طرح اس میں موجود دیگر اجزاءبھی نظام ہضم کے مسائل پر قابو پانے کے لیے موثر ثابت ہوتے ہیں۔

جو

فائبر کے حصول کے لیے جو بہترین ہے، اس کے ایک کپ میں دو گرام انسولیبل جبکہ دو گرام سولیبل فائبر موجود ہوتا ہے، انسولیبل فائبر کھانے کو معدے سے جلد آنتوں میں پہنچانے میں مدد دیتا ہے جبکہ فائبر کی دوسری قسم پانی میں تحلیل ہوکر جیل جیسا میٹریل بناتی ہے جو کہ قبض کے خلاف موثر ہے۔

چاول

ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ زیادہ چاول کھانے کے عادی ہوتے ہیں ان میں قبض کا خطرہ 41 فیصد تک کم ہوتا ہے، اس کی کوئی واضح وجہ تو نہیں بتائی گئی مگر ممکنہ طور پر چاول میں موجود فائبر اس حوالے سے مددگار ہوتا ہے۔

لوبیا

لوبیا میں موجود فائبر آنتوں کی حرکت کو بہت کم وقت میں بہتر کرتی ہے جس سے قبض سے نجات ملتی ہے۔

دہی

دہی میں بیکٹریا یا پرو بائیو ٹکس کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ معدے کے لیے اچھے ثابت ہوتے ہیں، یہ نہ صرف غذائی نالی کے نظام کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں بلکہ آنتوں کی کارکردگی کو بھی بہتر بناتے ہیں۔