مشال خان قتل کیس: ایک مجرم کو سزائے موت اور 5 مجرموں کو 25 سال قید کی سزا

اپ ڈیٹ 07 فروری 2018

ای میل

ہری پور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کے قتل کیس کا فیصلہ سنادیا، جس کے مطابق ایک مجرم کو سزائے موت، 5 مجرموں کو 25 سال قید اور 25 مجرموں کو 3 سال قید جبکہ عدالت نے 26 افراد کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔

ہری پور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج فضل سبحان نے کیس کا فیصلہ سنایا، اس موقع پر عدالت کے اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

مشال خان کے بھائی فیصلے کے بعد میڈیا سے بات کررہے ہیں — فوٹو: ڈان نیوز
مشال خان کے بھائی فیصلے کے بعد میڈیا سے بات کررہے ہیں — فوٹو: ڈان نیوز

اس موقع پر کیس میں گرفتار تمام ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

ابتدائی عدالتی فیصلے کے مطابق ایک مجرم کو سزائے موت، 5 مجرموں کو 25 سال قید، 25 مجرموں کو مختلف دفعات کے تحت ایک سال اور 3 سال قید کی سزا سنائی اور 26 افراد کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔

پولیس کے مطابق اس کیس کا مرکزی ملزم عارف تاحال لاپتہ ہے جبکہ اس کے بارے میں بیرون ملک فرار ہونے کی بھی اطلاعات تھیں۔

عدالتی فیصلہ

ڈان نیوز کو حاصل ہونے والے عدالتی فیصلے کی کاپی کے مطابق سزائے موت پانے والے مجرم عمران ولد سلطان محمد کو دو سزائیں دی گئی۔

عدالت نے اپنے 90 صفات پر مشتمل فیصلے میں کہا کہ مجرم عمران کو پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 302 (بی) کے تحت سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا جبکہ انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) کی دفعہ 7 (ون) (اے) کے تحت 5 سال قید بامشقت اور 50 ہزار جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق جن 5 ملزمان کو 25، 25 سال قید کی سزا سنائی گئی ان میں بلال بخش، فضل رازق، مجیب اللہ، اشفاق خان اور مدثر بشیر شامل ہیں جبکہ ان مجرمان کو جرمانہ بھی دینا ہوگا۔

ڈان نیوز کو حاصل ہونے والی فیصلے کی کاپی کے مطابق مجرموں فضل رازق ولد فضل خالق، مجیب اللہ ولد سید رحمٰن اور اشفاق خان ولد خان بہادر کو چار سزائیں دی گئی ہیں۔

ان ملزمان کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 (بی)، 148 اور 149 کے تحت عمر قید جبکہ اے ٹی اے کی دفعہ 7 کے تحت بھی عمر قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی گئی، ساتھ ہی ملزمان کو ایک سال قید اور 50 ہزار مزید جرمانے، 3 سال قید بامشقت اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزائیں دی گئیں۔

اس کے علاوہ عدالت کی جانب سے عمر قید کی سزا پانے والے مزید 2 ملزمان مدثر بشیر ولد محمد بشیر اور بلال بخش ولد نبی بخش کو 5 مختلف سزائیں سنائی گئیں۔

دونوں ملزمان کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 (بی) کے ساتھ دفعہ 148 اور 149 کے تحت عمر قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا جبکہ اے ٹی اے کی دفعہ 7 (اے) کے تحت عمر قید اور 50 ہزار روپے جرمانے، دفعہ 120 (بی) کے تحت عمر قید اور مزید 50 ہزار روپے جرمانے، اے ٹی اے کی دفعہ 11 – ڈبلیو ڈبلیو کے تحت 3 سال قید بامشقت اور 50 ہزار جرمانے جبکہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 297 کے تحت ایک سال مزید قید بامشقت اور 50 ہزار جرمانے کی سزا سنائی گئی۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ جن افراد کو بری کیا گیا ہے ان کے حوالے سے شواہد نہیں ملے کہ وہ مشال خان قتل میں ملوث تھے۔

مزید پڑھیں: مشال قتل کیس: اے ٹی سی نے فیصلہ محفوظ کرلیا

بعد ازاں کیس کے وکیلِ دفاع نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ عدالتی فیصلے کو چیلنج کریں گے۔

یاد رہے کہ مشال خان قتل کیس میں 25 سماعتوں میں 68 گواہوں کا بیان ریکارڈ کیا گیا تھا۔

کیس کا فیصلہ سامنے آنے سے قبل پولیس نے صوابی میں مشال خان کے گھر کے اطراف میں سخت سیکیورٹی کے انتظامات کرتے ہوئے بھاری نفری تعینات کردی تھی۔

اس کے علاوہ پولیس نے مشال خان کی قبر پر بھی اضافی نفری تعینات کی تھی۔

خیال رہے کہ 28 جنوری 2018 کو ایبٹ آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے مشال خان قتل کیس کی سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو آج بروز 7 فروری کو سنادیا گیا۔

اے ٹی سی جج فضل سبحان خان نے ہری پور سینٹرل جیل میں مقدمے کی سماعت کی اور استغاثہ کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

اس فیصلے سے مطمئن نہیں، مقتول کی والدہ

مشال قتل کیس کے فیصلے پر مقتول کی ماں کا کہنا تھا کہ ہمیں انصاف نہیں ملا جبکہ وہ اس فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ گرفتار کیے گئے تمام افراد مشال کے سفاکانہ قتل میں ملوث تھے اور انہوں نے مشال کو قتل کرنے کے بعد ایک دوسرے کو مبارک باد دی جسے ویڈیو میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا ویڈیو کا ثبوت ملزمان کو سخت سزا دینے کے لیے کافی نہیں؟

ان کاکہنا تھا کہ سب لوگ مشال کے قتل کے ارادے سے آئے تھے اور اسے یونیورسٹی میں مارا گیا اور انصاف کو عدالت میں قتل کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ میرا صحافی بیٹا مارا گیا لیکن پولیس نے کوئی حرکت نہیں کی، رہا کیے گئے ملزمان اور لوگوں کو بھی قتل کریں گے انہیں سزا دے کر روکنا چاہیے تھا۔

مقتول مشال کی والدہ کا کہنا تھا کہ فیصلہ جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق آنا چاہیے تھا اور اس واقعے کے پیچھے جو عناصر ہیں انہیں بے نقاب کیا جانا چاہیے تھا۔

تمام ملزمان کو سزا ہونی چاہیے، بھائی مشال خان

عدالتی فیصلے کے بعد مشال خان کے بھائی ایمل نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مشال کیس میں تمام ملزمان کو سزا ہونی چاہیے، اس فیصلے پر وکلاء سے مشاورت کے بعد بتائیں گے کہ آیا ہم اس سے مطمئن ہیں یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کا کوئی ناخوشگوار واقعہ اچانک ہوجائے تو وہ برداشت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اور مشال خان کے قتل سے بہت تکلیف ہوئی اور والدہ اسے یاد کر کے بہت روتی ہیں۔

انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت سے اپیل کی کہ اس کیس میں مفرور ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور انہیں بھی قرار واقعی سزا دی جائے۔

عمران خان سے مطالبہ کرتے ہوئے مشال خان کے بھائی نے کہا کہ مشال خان کے نام سے یونیورسٹی کا نام منسوب کرنے کا وعدہ پورا کیا جائے۔

بعد ازاں فیصلے پر مشال کے بھائی کا کہنا تھا کہ والد نے کہا کہ سب لوگوں کو سزا ملنی چاہیے تھی یہ ڈھکا چھپا کیس نہیں ہے، لہٰذا اس حوالے سے ہائی کورٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

مشال کے بھائی نے کہا کہ ایک بندہ کہتا ہے کہ میں نے قتل کیا اور اسے صرف چار سال کی سزا دی، عمران خان کو اس معاملے پر ایکشن لینا چاہیے۔

رہائی کے فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے، پرویز خٹک

بعد ازاں ڈان نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا کہ یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے لیکن ہم بری ہونے والے 26 افراد کی رہائی کے خلاف عدالت میں جائیں گے جبکہ انہوں نے زور دیا کہ اس کیس کا کریڈٹ پولیس کی تفتیش کو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کی پولیس پر فخر کرتا ہوں اور اس کیس میں پولیس نے مثالی کردار ادا کیا اور عدالت میں ثبوت فراہم کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں مفرور ملزمان کو پکڑنے کے لیے بھی کوشش کررہے ہیں اور انہیں جلد گرفتار کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے یونیورسٹی کے نام کی تبدیلی کے حوالے سے کسی قسم کا کوئی وعدہ نہیں کیا تھا۔

عدالتی فیصلہ تاریخی ہے، سینئر تجزیہ کار

بعد ازاں ڈان نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار مبشر زیدی نے کہا کہ اس کیس نے پورے پاکستان کو چونکا دیا تھا اور ایک جرنلزم کے طالبعلم کو توہین مذہب کا الزام لگا کر قتل کردیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا یہ ایک تاریخی فیصلہ ہوگا اور اس میں عدالتی تاریخ میں ایک نذیر قائم ہوگی جس سے مستقبل میں یہ بات بھی سامنے آئے گی کہ جو توہین مذہب کا الزام عائد کرے گا اسے اس الزام کو ثابت بھی کرنا ہوگا۔

اس حوالے سے سینئر تجزیہ کار زاہد حسین نے کہا کہ مشال کے فیصلے میں سزا ضرور ہونی چاہیے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ آئندہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں اس طرح کے واقعات روکنے کے لیے اقدامات ضروری ہیں اور اس طرح کا قانون بننا چاہیے کہ اگر کوئی کسی پر الزام لگائے اور وہ ثابت نہیں کرسکے تو اسے بھی سزا ملنی چاہیے۔

مشال خان قتل کیس

یاد رہے کہ 23 سالہ مشال خان کو 13 اپریل 2017 کو خیبر پختونخوا (کے پی) میں عبدالولی خان یونیورسٹی میں توہین رسالت کے الزام پر ہجوم نے تشدد کانشانہ بنا کر قتل کر دیا تھا۔

مشال کی قتل کی ویڈیو جب سوشل میڈیا پر جاری ہوئی تو پورے ملک میں غم و غصہ پیدا ہوا جس کے بعد پاکستان میں توہین کے قانون کے حوالے سے نئی بحث کا بھی آغاز ہوگیا تھا۔

پشاور ہائی کورٹ نے مشال خان کے والد کی جانب سے درخواست پر مقدمے کو مردان سے اے ٹی سی ایبٹ آباد منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

اے ٹی سی نے مقدمے کی سماعت کا آغاز ستمبر میں کیا تھا جبکہ یونیورسٹی کے طلبا اور اسٹاف کے اراکین سمیت گرفتار 57 مشتبہ افراد پر فرد جرم عائد کی گئی تھی اور گرفتار ملزمان کی ضمانت کی درخواست بھی مسترد کی گئی تھی۔

مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کے سامنے 50 گواہوں کے بیانات قلم بند کیے گئے اور وکلا کی جانب سے ویڈیو ریکارڈ بھی پیش کیا گیا جس میں گرفتار ملزمان کو مشال خان پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا تھا۔

مشال خان کے والد قیوم خان، ان کے دوست اور اساتذہ نے بھی اے ٹی سی کے سامنے اپنے بیانات ریکارڈ کروائے تھے۔

اے ٹی سی نے پانچ ماہ اور 10 دن کی سماعت کے بعد مقدمے کی کارروائی مکمل کی اور فیصلہ محفوظ کرلیا اور 7 فروری کو فیصلہ سنایا جائے گا۔

یاد رہے کہ مشعال خان قتل کیس کے حوالے سے تحقیقات کرنے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ قتل باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پی ایس ایف کے صدر صابر مایار اور یونیورسٹی ملازم نے واقعے سے ایک ماہ قبل مشعال کو قتل کرنے کی بات کی تھی، مخصوص سیاسی گروہ کو مشعال کی سرگرمیوں سے خطرہ تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مشعال یونیورسٹی میں بے ضابطگيوں کے خلاف کھل کربولتا تھا جبکہ مشعال اور اس کے ساتھیوں کے خلاف توہین رسالت یا مذہب کے کوئی ثبوت موجود نہیں ملے۔

جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق مخصوص گروپ نے توہین رسالت کے نام پر لوگوں کو مشعال کے خلاف اکسایا تھا۔

اس میں بتایا گیا کہ تشدد اور فائرنگ کے بعد مشعال سے آخری بار ہاسٹل وارڈن کی بات ہوئی تھی، مشعال نے کہا میں مسلمان ہوں، کلمہ پڑھا اور ہسپتال پہنچانے کی التجا کی۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ یونیورسٹی میں رجسٹرار سے لے کر سیکیورٹی افسر تک تمام عہدوں پرنااہل سفارشی افراد تعینات ہیں اور سیاسی بنیادوں پر نا اہل افراد کی بھرتی سے یونیورسٹی کا نظام درہم برہم ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ یونیورسٹی میں منشیات اور اسلحہ کا استعمال، طالبات کا استحصال عام ہے جبکہ یونیورسٹی کے بیشترملازمین کا مجرمانہ ریکارڈ بھی موجود ہے اور ان کی چھان بین ہونی جانی چاہیے۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں واقعے کے دوران پولیس کردار پر بھی سوالات اٹھائے تھے، جس میں پوچھا گیا ہے کہ پولیس نے بروقت کارروائی کیوں نہیں کی جبکہ غفلت کے مرتکب افسران اور اہلکاروں کی نشاندہی کرکے کارروائی کی سفارش بھی کی گئی تھی۔