وفاقی بجٹ میں خسارہ کیوں بڑھ رہا ہے؟

اپ ڈیٹ 25 اپريل 2018

ای میل

یہ سال 2010ء کی بات ہے جب پاکستان ایک طرف دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہا تھا اور حکومت کا بیانیہ تھا کہ یہ جنگ ہماری ہے۔ یہ وہی وقت تھا جب ملک میں بدترین بارشیں ہوئیں جس کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان صوبہ سندھ میں ہوا۔

اس سیلاب کے بعد پیپلزپارٹی کی حکومت نے امداد کے لیے عالمی سطح پر اپیل کردی۔ اضافی امداد حاصل کرنے کے لیے پاکستان نے تمام دوست ملکوں سے رابطہ کیا مگر کوئی خاطر خواہ جواب موصول نہیں ہوا، بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے بڑے اتحادی امریکا نے بھی آنکھیں پھیر لیں۔

مدد کی پاکستانی اپیل کے جواب میں اس وقت کی امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ

’یہ میرے لیے ناقابلِ فہم ہے کہ جو ملک اپنے امیروں پر ٹیکس نہیں لگاتے، وہ توقع کرتے ہیں کہ ہم معاونت کریں گے جس طرح ماضی میں انہیں معاونت فراہم کی جاتی رہی ہے۔ اب ایسا نہیں ہوگا۔ پاکستان میں ٹیکس کی وصولی جی ڈی پی کا صرف 9 فیصد ہے۔ جب پاکستان میں طبقہ اشرافیہ اور بڑی زمینوں کے مالک ٹیکس ادا ہی نہ کریں یا اتنا ادا کریں جس پر ہنسی آتی ہو، اور جب کوئی مشکل پڑجائے تو سب توقع کرتے ہیں امریکا اور دوسرے اس کی مدد کو آئیں گے۔ پاکستان کو ٹیکس میں اصلاحات کرنا ہوں گی۔‘

بحیثیت پاکستانی ہیلری کلنٹن کے یہ الفاظ پاکستانیوں کے منہ پر طمانچے کے مترادف محسوس ہوئے، مگر ہیلری کلنٹن کی یہ بات حقیقت کے عین مطابق بھی تھی۔

بَری افواج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ برس اکتوبر میں وفاقی ایوانِ صنعت و تجارت کے سمینار سے خطاب میں بھی یہی کہا کہ کاروباری برادری کو اگر امن چاہیے تو اس کو اپنا فرض بھی ادا کرنا ہوگا اور ٹیکس کی ادائیگی کرنی ہوگی۔ جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں معیشت اور سیکیورٹی ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ آج کی دنیا میں سیکیورٹی سستی نہیں ملتی اور یہ اقتصادی ترقی سے جڑی ہوئی ہے۔

آرمی چیف نے سابقہ سویت یونین اور کویت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نہ تو کمزور معیشت میں اسلحہ بارود کا ڈھیر ملک کو بچاسکتا ہے اور نہ دولت کے ذریعے کسی دوسرے ملک سے سیکیورٹی خریدی جاسکتی ہے۔ ملک میں محفوظ اور پُرامن فضاء قائم کرنے میں مسلح افواج نے اپنا کردار ادا کردیا ہے اور اب یہ کاروباری برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ معیشت کی بحالی میں اپنا کردار ادا کرے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں ٹیکسوں کی وصولی شرح معاشی ترقی کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اگر پاکستان کو کشکولِ گداگری توڑنا ہے تو اس صورتحال کو تبدیل کرنا ہوگا اور مشکل فیصلے کرتے ہوئے ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنا ہوگا۔

اسی طرح نیول چیف ایڈمرل ظفر محمود عباسی بھی کہتے ہیں کہ پاکستان کو اپنی معیشت کو وسعت دینی ہوگی اور سمندر میں موجود وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے معاشی میدان میں آگے بڑھنا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بلو اکانومی یعنی بحری معیشت پر حکومت توجہ دے تو ملکی معیشت چند سال میں دگنی ہوجائے گی۔

بَری اور بحری افواج کے سربراہان کی معیشت سے متعلق بات چیت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان میں دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے معیشت کو مضبوط بنانا ہوگا اور اس کے علاوہ یہ بات بھی ظاہر کرتی ہے کہ اب پاکستان امریکی امداد کے بجائے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی پالیسی پر گامزن ہے۔

پاکستان میں حکومت کے کیا مسائل ہیں، ان کے بارے میں امریکا کے لیے نامزد سفیر اور وزیرِ اعظم کے مشیر علی جہانگیر صدیقی نے ایک تعلیمی ادارے میں کچھ یوں مثال دی کہ

’اگر آپ کی کمائی ایک روپیہ ہے اور خرچہ بھی اتنا ہی یا اس سے کم ہے تو آپ آزاد ہیں اور اگر آپ کمائی سے زیادہ خرچہ کرتے ہیں تو آپ کا اختتام جیل میں ہوگا۔‘

پاکستان میں اس وقت عسکری اور سول قیادت کو پوری طرح احساس ہے کہ اب امریکی امداد پر ملک کو نہیں چلایا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے ٹیکسوں کی وصولی بڑھانی ہوگی اور اپنے وسائل میں رہتے ہوئے اخراجات کو پورا کرنا ہوگا۔

مگر کیا وفاقی بجٹ میں یہ سکت موجود ہے کہ وہ اتنی گنجائش پیدا کرے کہ دفاع اور معاشی ترقی کے لیے ضروری انفرااسٹرکچر کے قیام کے لیے فنانسنگ کرسکے۔ مزید تبصرے سے پہلے آئندہ مالی سال 19ء-2018ء کے بجٹ پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔

آئندہ مالی سال کا بجٹ برائے سال 19ء-2018ء 27 اپریل کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا جبکہ وفاقی کابینہ نے بجٹ کے پالیسی فریم ورک پیپر کی منظوری دے دی ہے۔ کابینہ کو مالی سال 19ء-2018ء سے لے کر مالی سال 21ء-2020ء تک کے بجٹ کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کے وفاقی بجٹ میں کسی چیز کے اضافے یا کمی کی گنجائش بہت کم ہے۔ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کا حجم 5,237 ارب روپے رکھا گیا ہے جو کہ موجودہ مالی سال کے بجٹ سے 10 فیصد زائد ہے۔

پڑھیے: 6 کروڑ غریبوں کے ٹیکس چور سیاستدان

وفاقی بجٹ کا سب سے بڑا حصہ غیر پیداواری ہے اور تقریباً 1600 ارب روپے سے زائد قرضوں اور اس پر سود کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے ہیں جوکہ مجموعی بجٹ کے حجم کا 30 فیصد کے لگ بھگ ہیں۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں قرضوں کی ادائیگی میں 243 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

بجٹ کاغذات کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران 1100 ارب روپے تنیوں مسلح افواج کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 100 ارب روپے مسلح افواج کے ترقیاتی پروگرام کے لیے رکھے گئے ہیں۔ اس طرح مجموعی بجٹ کا 23 فیصد دفاع پر خرچ کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

اس طرح وفاقی بجٹ کا تقریباً 53 فیصد حصہ تو محض دفاعی اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہوجاتا ہے اور حکومت کے پاس مالیاتی گنجائش بہت کم بچتی ہے کہ وہ بجٹ میں کوئی بڑی تبدیلی کرسکے۔

بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 800 ارب روپے رکھے گئے ہیں جو کہ مجوزہ بجٹ کا 15.2 فیصد ہیں اور ختم ہونے والے مالی سال کے مقابلے میں 201 ارب روپے کم ہیں۔ سول انتظامیہ کو چلانے کے لیے بجٹ میں 445 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو کہ 68 ارب روپے یا 18 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔

مالی سال 19ء-2018ء میں بجٹ خسارے کا تخمینہ 2,029 ارب روپے لگایا گیا ہے جو کہ جی ڈی پی کے تناسب میں 5.3 فیصد ہے۔

اوپر دیے گئے اعداد و شمار موجودہ مالی سال اور اس سے قبل کے بجٹ میں کم و بیش ایسے ہی تھے اور آنے والے آئندہ چند سال کے بجٹ میں بھی ایسے ہی ہوں گے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ خرچہ قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگی رہے گا۔ جس کے بعد دفاع پر اخراجات ہوں گے اور باقی سب کے لیے قرض لینا پڑے گا۔

’اگر آپ کی کمائی ایک روپیہ ہے اور خرچہ بھی اتنا ہی یا اس سے کم ہے تو آپ آزاد ہیں اور اگر کمائی سے زیادہ خرچہ کرتے ہیں تو آپ کا اختتام جیل میں ہوگا‘ — علی جہانگیر صدیقی

وفاقی سطح پر بڑھتے ہوئے اس خسارے کے بارے میں وفاقی مشیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ یا تو پاکستان میں ریونیو کم جمع ہو رہا ہے یا پھر حکومت کے اخراجات بہت زیادہ ہیں۔

پاکستان میں تاریخی طور پر دیکھا جائے تو وفاقی سطح پر بجٹ خسارے میں گزشتہ 10 سال میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ حکومت نے نہ صرف مقامی سطح پر بھاری قرضے لیے ہیں بلکہ غیر ملکی اداروں اور مارکیٹس سے بھی ڈالر اور یورو کی مد میں قرضہ حاصل کیا ہے۔

مفتاح اسماعیل بجٹ خسارے کا الزام موجود قومی مالیاتی کمیشن یا این ایف سی کو دیتے نظر آتے ہیں۔ وفاق جو بھی کماتا ہے یا ٹیکس جمع کرتا ہے، این ایف سی فارمولے کے تحت اس کا 60 فیصد صوبوں کو منتقل کرنا ہوتا ہے۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ وفاقی ادارہ برائے محصولات 4 ہزار ارب روپے کا ریونیو جمع کرے گا اور اگر یہ ریونیو 6 ہزار ارب روپے بھی ہوجائے تب بھی وفاقی حکومت کو 1200 ارب روپے خسارے کا سامنا ہوگا۔ 6 ہزار ارب روپے ریونیو کا مطلب ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو کا 19 فیصد تک پہنچ جانا ہے۔

محصولات میں 50 فیصد اضافہ بھی حکومت کو خسارے سے نہیں بچا سکتا کیوں کہ ایف بی آر کے محصولات کا 60 فیصد صوبوں کو دینا ہوتا ہے اور اس کے علاوہ اگر دفاعی اخراجات کی ادائیگی کردی جائے تو بجٹ میں رقم ختم ہوجاتی ہے اور باقی اخراجات کے لیے قرض لینا پڑتا ہے۔ مفتاح اسماعیل این ایف سی ایوارڈ کی مد میں رقم کی صوبوں کو منتقلی کو ’ایف بی آر پر سب سے بڑا ٹیکس‘ قرار دیتے ہیں۔

پڑھیے: لوٹ سیل ملک لوٹنے والوں کے لیے

مفتاح اسماعیل کی کہی گئی بات کو اوپر بیان کی گئی بجٹ کی تفصیلات کے تناظر میں دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کی وجہ سے وفاقی حکومت غربت کا شکار ہوگئی ہے جبکہ صوبوں کو رقوم کی منتقلی بڑھ گئی ہے، جس سے وسائل کی ترسیل اور سہولتوں کی فراہمی بھی وفاق کے بجائے صوبائی حکومتوں کو منتقل ہوگئی ہے۔

پاکستان میں ٹیکسوں کی وصولی سے متعلق بہت کچھ ابہام پایا جاتا ہے۔ مشیرِ خزانہ وفاقی ادارہ محصولات یا ایف بی آر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی بات کرتے ہیں۔ اس وقت ایف بی آر مالیاتی ٹیکس پالیسی مرتب کرنے کے علاوہ ٹیکسوں کی وصولی کا کام بھی کرتا ہے۔ مگر اس کو پالیسی اور وصولی کے دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان میں ٹیکسوں کی وصولی بھی نہایت غیر منصفانہ ہے کیوں کہ پاکستان میں براہِ راست ٹیکس جمع کرنے کے بجائے بالواسطہ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جس سے امیر اور غریب پر ایک جیسے ٹیکسوں کا نفاذ ہوجاتا ہے۔

تاریخی طور پر دیکھا جائے تو 50ء-1949ء میں پیش کیے گئے پہلے بجٹ میں حکومت کی مجموعی آمدنی 44 کروڑ 80 لاکھ روپے رہی جس میں براہِ راست ٹیکس 9 کروڑ روپے جبکہ ایکسائز اور کسٹم ڈیوٹی 35 کروڑ 80 لاکھ روپے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں ابتداء سے ہی براہِ راست ٹیکسوں کی شرح کم رہی ہے اور ملکی آمدنی بالواسطہ ٹیکسوں پر منحصر رہی ہے۔

معروف ٹیکس ماہر اشفاق تولا کا کہنا ہے کہ ملک میں ٹیکس نظام پر کاروباری برادری کو بھروسہ نہیں ہے اور صرف 100 کمپنیاں مجموعی طور پر 431 ارب روپے کا ٹیکس ادا کرتی ہیں جو کہ بہت کم ہے۔ ملک میں 61 ہزار کمپنیوں میں سے صرف 10 ہزار ٹیکس ادا کرتی ہیں اس مقصد کے لیے ٹیکس نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں ٹیکسوں کی وصولی بھی نہایت غیر منصفانہ ہے کیوں کہ پاکستان میں براہِ راست ٹیکس جمع کرنے کے بجائے بالواسطہ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جس سے امیر اور غریب پر ایک جیسے ٹیکسوں کا نفاذ ہوجاتا ہے۔

پاکستان میں انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروانے والوں کی تعداد 7 لاکھ ہے۔ اب نئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم میں کم از کم قابل ٹیکس آمدنی اور ٹیکس کی شرح میں کمی سے 5 لاکھ سے زائد ٹیکس دہندگان نیٹ سے باہر ہوگئے مگر اس کا اثر وفاقی بجٹ پر 90 ارب روپے کا پڑے گا۔

بجٹ کے اعلان سے پہلے ہی وفاقی حکومت نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم متعارف کروا کر ٹیکس سے متعلق بہت کچھ پہلے ہی ظاہر کردیا تھا۔ اب لگتا یوں ہے کہ وفاقی بجٹ میں نادہندہ یا ٹیکس ریٹرن جمع نہ کروانے والے افراد کو بہت سی خدمات کی فراہمی روک دی جائے گی۔ وزارتِ تجارت کے ذرائع نے اس بات کی تصدیق بھی کی ہے کہ 27 اپریل کو پیش کیے جانے والے بجٹ میں فائلر اور نان فائلر کو ختم کرتے ہوئے تمام تر توجہ اور سہولت ٹیکس ریٹرن فائلر کو دی جائے گی۔

پاکستان کا مسئلہ صرف بجٹ کا خسارہ نہیں ہے بلکہ اس کا مسئلہ دہرا خسارہ ہے، جس میں مالیاتی خسارے کے ساتھ ساتھ رواں کھاتوں کا خسارہ بھی شامل ہے۔ ان 2 خساروں کی وجہ سے پاکستان کو نہ صرف اندرونی طور پر بڑا قرض لینا پڑ رہا ہے بلکہ بیرونِ ملک سے بھی قرض حاصل کرنا پڑ رہا ہے۔

معروف سرمایہ کار عارف حبیب کہتے ہیں پاکستان میں زرِمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے فوری اقدامات میں ضروری ہے کہ سمندرپار پاکستانیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے پُرکشش مواقع دیے جائیں۔ سمندر پار پاکستانی سالانہ 19 ارب ڈالر بینکاری نظام اور تقریباً 7 ارب ڈالر ہنڈی حوالا کے ذریعے وطن لاتے ہیں، جبکہ ان کے اندازے کے مطابق سمندر پار پاکستانیوں کی سالانہ آمدنی کا یہ صرف 50 فیصد ہے۔

پڑھیے: خود ریلیکس، عوام پر ٹیکس

عارف حبیب کے مطابق سمندر پار پاکستانی سالانہ تقریباً 50 ارب ڈالر کماتے ہیں۔ روپے کمانے کے ساتھ بچت بھی کرتے ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے اپنے ملک کو کبھی بھی سرمایہ کاری کا مرکز تصور نہیں کیا۔ سمندر پار پاکستانیوں نے سرمایہ کاری کی بھی تو پلاٹس اور زمین میں، جن سے صرف ان کا ذاتی فائدہ ہوتا ہے اور روزگار یا ملازمت کے مزید مواقع پیدا نہیں ہوتے۔

حکومت نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے امیر طبقے پر ٹیکس لگانے کا اعلان کردیا ہے مگر کیا وہ اس اعلان کردہ ٹیکس اسکیم کے تمام عوامل پر اپنی حکومت ختم ہونے سے قبل عملدرآمد کروا سکے گی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔

مگر یہ بات بہت اہم ہے کہ اگر پاکستان کو ترقی کرنی ہے تو اس کو اپنے ٹیکس نظام میں بہتری لانی ہوگی اور وفاقی سطح پر قرضوں کے بوجھ کو کم کرنا ہوگا، اور یہ صرف اور صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب پاکستان کی کاروباری برادری اور جاگیردار اپنی آمدنی پر ٹیکس کی ادائیگی کریں جو ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔

دیکھتے ہیں اس حوالے سے اپنی مدت ختم کرتی ہوئی حکومت کس قدر کامیاب ہو پاتی ہے۔