اسلام آباد: سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف احتساب عدالت میں زیر سماعت نیب ریفرنسز کی سماعت کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع کرتے ہوئے نیب ریفرنس مکمل کرنے کے لیے 9 جون تک کا وقت دے دیا۔

سپریم کورٹ میں جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ نیب نے ابھی تک ٹرائل مکمل کیوں نہیں کیا؟ ہم نے آپ کو مناسب وقت دیا تھا، اس پر وکیل نیب نے بتایا کہ ہر مقدمہ انفرادی طور پر ہے، ریفرنس نمبر 3 مکمل ہوچکا ہے۔

اس پرجسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ریفرنس نمبر ایک اور 2 میں ابھی مزید وقت چاہیے، جس پر وکیل نیب نے کہا کہ ریفرنس نمبر 3 میں استغاثہ کے 18 گواہان کے بیان قلمبند ہوچکے ہیں۔

سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ 342 کا بیان کب ریکارڈ ہوگا؟ اس پر وکیل نیب کوئی حتمی تاریخ دینے میں ناکام رہے، تاہم انہوں نے کہا کہ 10 مئی کو 342 کا بیان قلمبند ہوسکتا ہے۔

دوران سماعت شریف خاندان کے وکیل خواجہ حارث نے درخواست کی کہ نیب ریفرنسز کی سماعت کی مدت میں 3 ماہ کی توسیع کی جائے کیونکہ انہوں نے مرکزی گواہ واجد ضیاء پر جرح کرنی ہے، تاہم عدالت نے ان کی درخواست مسترد کردی۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر مزید توسیع کی ضرورت پڑے تو وہ دوبارہ عدالت آسکتے ہیں، اس پر عدالت نے شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز کی سماعت میں 9 جون تک توسیع کردی۔

خیال رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف درج تین ریفرنس کی کارروائی کے لیے سپریم کورٹ سے مزید مہلت طلب کی تھی۔

اس حوالے سے ڈان اخبار کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں مقدمے کی سماعت کے دوران احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے باضابطہ طور پر سپریم کورٹ کو حتمی تاریخ میں اضافے کے لیے درخواست دی ہے۔

یہ درخواست ایون فیلڈ، العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز سے متعلق تاحال کسی نتیجے پر نہ پہنچنے کی وجہ سے کی گئی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل مارچ میں بھی احتساب عدالت کے جج نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے درج مقدمات کی کارروائی کو نمٹانے کے لیے مہلت طلب کی تھی۔

خیال رہے گزشتہ برس 27 جولائی کو پاناما پیپرز کے مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ کی جانب سے قومی احتساب بیورو (نیب) کو نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز، دونوں صاحبزادوں حسن اور حسین جبکہ داماد کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف 3 ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ایون فیلڈ ریفرنس: نواز شریف عوامی عہدہ رکھتے ہوئے مالک تھے، تفتیشی افسر

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے مزید مہلت میں کسی ممکنہ مدت کا ذکر نہیں کیا لیکن سماعت کے دوران انہوں نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ مقدمے کی بقیہ کارروائی ٹائم فریم کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے گی۔

اس موقع پر شریف خاندان کے وکیل امجد پرویز کا کہنا تھا کہ عدالت نے مذکورہ مقدمے کی کارروائی پہلے ہی بہت جلد بازی میں نمٹائی ہے، اتنی کم مدت میں آج تک کوئی مقدمہ نہیں چلایا گیا۔

خیال رہے کہ عدالت میں ایون فیلڈ مقدمے کے تمام گواہان پر جرح کی جاچکی ہے، تاہم العزیزیہ اور فلیگ شپ مقدمے میں 2 گواہان کا بیان ریکارڈ کیا جانا باقی ہے جس میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ واجد ضیا اور تحقیقاتی افسر شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: ایون فیلڈ ریفرنس: نوازشریف کے خلاف نئے ثبوت ریکارڈ کا حصہ بنانے کی درخواست

عدالت کی جانب سے مذکورہ دونوں گواہان کو 10 مئی کو عدالت میں پیش ہو کر بیان ریکارڈ کرانے کے لیے سمن جاری کیا گیا۔

ادھر استغاثہ کے سربراہ سردار مظفر عباسی نے اختلاف کرتے اپنا موقف دیا کہ گواہان کے بیانات کے بعد نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کو بھی کرمنل پراسیکیوشن کی دفعہ 342 کے تحت اپنے بیانات قلمبند کروانے کے لیے سمن جاری کیا جائے۔

اس پرعدالت نے ریمارکس دیئے کہ وہ ایون فیلڈ مقدمے میں نامزد ملزمان کے بیانات قلمبند کروانے کا فیصلہ سپریم کورٹ سے ملنے والی مہلت کے بعد کریں گے۔

اس موقع پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے سوال کیا کہ کیا عدالتی کارروائی میں ہر فیصلہ استغاثہ کی خواہش کے مطابق کیا جائے گا؟ یہ معاملہ پہلے ہی طے پا چکا ہے کہ واجد ضیا پہلے اِن تین ریفرنس میں اپنا بیان قلمبند کرائیں گے، اس بارے میں عدالت کی جانب سے انہیں العزیزیہ ریفرنس میں سمن جاری کیا گیا تھا لیکن وہ 20 پیشیوں سے غیر حاضر ہیں۔

مزید پڑھیں: احتساب عدالت: نواز شریف کے وکیل کی ڈی جی آپریشنز نیب پر جرح مکمل

خواجہ حارث کا مزید کہنا تھا کہ مقدمے میں استغاثہ کے گواہان کے بیانات سے قبل نامزد ملزمان کے بیانات قلمبند کروانے سے ان کا دفاع کمزور پڑ جائے گا، انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ پہلے العزیزیہ اور ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کےریفرنس میں جے آئی ٹی کے سربراہ کا بیان لے لیا جائے بھلے مقدمے کی کارروائی میں 3 ماہ کی مہلت کا اضافہ کردیا جائے۔

دوسری جانب ایڈووکیٹ پرویز نے اس پر اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین کو یکساں مہلت دی جانی چاہیے، استغاثہ نے اپنے 18 گواہان کے بیانات 8 ماہ کی مدت میں قلمبند کروائے تو وکیل دفاع کو بھی اس تناظر میں اتنا ہی وقت دیا جائے۔

اس سلسلے میں احتساب عدالت میں 10 مئی کو اگلی سماعت کی جائے گی۔

بریت کی درخواست

پاکستان مسلم لیگ کے اندرونی ذرائع کے مطابق نواز شریف کو ان کے ساتھیوں کی جانب سے یہ تجویز دی گئی ہے کہ وہ نیب کی جانب سے مقدمے کی کارروائی نمٹانے کے لیے مزید مہلت طلب کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے مذکورہ مقدمے میں بریت کی درخواست جمع کرادیں۔

مزید پڑھیں: ایون فیلڈ ریفرنس: ‘جے آئی ٹی رپورٹ میں اضافی صفحات سے متعلق معلومات نہیں‘

اس ضمن میں مسلم لیگ (ن) اور شریف خاندان کے وکلاء کا کہنا تھا کہ جب نیب 8 ماہ میں نواز شریف کے خلاف کچھ ثابت نہ کرسکی تو وہ 2 ماہ میں کیا ثابت کرے گی۔

اس سلسلے میں ذرائع نے مزید بتایا کہ وزراعظم کے معاون خصوصی برائے قانون بیرسٹر ظفراللہ خان، سابق وزیر قانون زاہد حامد، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان، گورنر پنجاب رفیق رجوانا، گورنر خیبرپختونخوا اقبال ظفر جھگڑا، سینیٹر مشاہد حسین سید اور سینیٹر پرویز رشید نے پنجاب ہاؤس میں نواز شریف سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی۔