واشنگٹن: امریکا کے سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر وہ امریکا کی عائد پابندیوں کی پاسداری نہیں کرے گا تو اسے ‘تاریخ کی سخت ترین پابندیوں’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ‘ممکن ہے کہ ایران کو اپنے جوہری جنون سے ہاتھ دھونا پڑ جائے اور بیلسکٹ میزائل کی تیاری کے مراحل کو محدود کرنا پڑ ے’۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کی ایران پر پابندیاں: پہلے مرحلے میں گاڑیوں اور طیاروں کی صنعت متاثر ہوگی

واضح رہے کہ 2 ہفتے قبل ہی امریکا نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کرنے کا اعلان کیا تھا اور سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کی ایران کے خلاف مزید پابندیوں پر مشتمل دھمکی دنوں ممالک کو گہرے تنازع میں مبتلا کرسکتی ہے۔

مائیک پومپیو نے بطور سیکریٹری خارجہ اپنی پہلی خارجہ پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘اگر ایران نے ناقابل قبول اور غیر موزوں راستے پر چلنے سے گریز نہیں کیا تو پابندی کا سلسلہ مزید بڑھ جائے گا’۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘امریکا کی جانب سے اب لگائی جانے والی پابندیاں اس سے قبل ماضی میں کبھی نہیں لگائی گئی ہوں گی’۔

بعدازاں مائیک پومپیو نے ایرانی خارجہ پالیسی کو نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا کہ ‘امریکا، ایران اور اس کے اتحادیوں کے بیرون ملک آپریشن کو ‘نیست و نابود’ کردے گا۔

مزید پڑھیں: امریکا اور عرب ممالک کا حزب اللہ کی قیادت پر پابندی کا اعلان

ان کا کہنا تھا کہ تہران کو شام میں اپنی تمام فورسز کو واپس بلاکر شام کے صدر کی حمایت کا سلسلہ بند کرنا ہوگا’۔

دوسری جانب کہا جا رہا ہے کہ ایران امریکا کی دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لائے گا۔

سیکریٹری خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر ایران جوہری منصوبہ جاری رکھتا ہے تو واشنگٹن بھرپور جواب دے گا اور ایرانی جوہری منصوبوں کو معاونت فراہم کرنے والی کمپنیوں کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

اس حوالے سے مائیک پومپیو نے مزید کہا کہ ‘ایران سے ہمارا مطالبہ غیر موزوں نہیں، ایران اپنا جوہری منصوبہ ترک کردے’۔

امریکا کے سیکریٹری خارجہ کا بیان خطے میں تبدیلی کے حوالے سے مکمل نہیں تھا لیکن انہوں نے ایرانی عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے صدر حسن روحانی اور وزیر خارجہ محمد جواد ظریف پر اعتماد مت کریں۔

یہ پڑھیں: ایرانی ڈرون کی امریکی ایئرکرافٹ کیریئر کے قریب سے پرواز

مائیک پومپیو نے واضح کیا کہ ‘ایران کی عوام کو بالآخر اپنے رہنماؤں کے حوالے سے فیصلہ کرنا ہی ہوگا، اگر وہ فیصلہ پابندیاں عائد ہونے سے پہلے کرلیں تو بہت اچھا ہوگا’۔

انہوں نے ایران سے 12 مطالبات کیے اور کہا کہ اقتصادی پابندیوں میں ریلیف صرف اسی وقت ممکن ہوگا جب واشنگٹن کو محسوس ہو گا کہ تہران کی پالیسی میں تبدیلی آئی ہے۔


یہ خبر22 مئی 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی