• KHI: Maghrib 7:16pm Isha 8:43pm
  • LHR: Maghrib 7:01pm Isha 8:38pm
  • ISB: Maghrib 7:11pm Isha 8:52pm
  • KHI: Maghrib 7:16pm Isha 8:43pm
  • LHR: Maghrib 7:01pm Isha 8:38pm
  • ISB: Maghrib 7:11pm Isha 8:52pm

امریکا اب خلا میں بھی فوج بھیجے گا

شائع June 19, 2018

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگون کو ہدایت کی ہے کہ نئی امریکی ’خلائی فوج‘ تیار کی جائے، جو امریکی افواج کی چھٹی شاخ کے طور پر کام کرے گی اور خلا میں امریکی اجارہ داری قائم کرے گی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق نیشنل اسپیس کونسل کے اجلاس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ خلائی فوج کے قیام کے سلسلے میں شعبہ دفاع اور پینٹاگون کو فوری طور پر ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت دے دی گئی ہیں، ہماری فضائی افواج کے ساتھ ساتھ اب خلائی افواج بھی ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں: بین الاقوامی خلائی مرکز کیسے کام کرتا ہے؟

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ بات جب امریکا کے دفاع کی ہو تو محض خلا تک رسائی اور وہاں موجودگی کافی نہیں، ہمیں لازمی طور پر خلا میں امریکی اجارہ داری قائم کرنی ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے وقت اور خلائی فوج کے کردار کی مزید تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا۔

اس کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اسپیس ٹریفک کو منظم کرنے کے لیے ہدایت نامہ جاری کرنے کا بھی اعلان کیا، تاکہ خلائی مداروں میں نگرانی کے آلات چھوڑے جاسکیں جس سے خلا میں موجود سیاروں کے ٹکڑوں اور دیگر چیزوں کا ٹکراؤ نہ ہو۔

امریکا پناہ گزین کیمپ نہیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ امریکا کو پناہ گزین کیمپ نہیں بننے دیں گے، یہ بیان انہوں نے غیر قانونی تارکین وطن سے ان کو بچوں کو جدا کرنے کی پالیسی پر جاری تنقید کے پیش نظر جاری کیا۔

مزید پڑھیں؛ امریکی خاتون اول بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی ظالمانہ پالیسی پر خاموش نہ رہ سکیں

وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا پناہ گزین کیمپ نہیں بنے گا اور نہ ہی یہاں مہاجرین کو بسایا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ آپ یورپ پر نظر دوڑائیں، اور دنیا دیگر خطوں کو دیکھیں وہاں کیا ہورہا ہے، ہم وہ سب امریکا میں ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے، کم ازکم میرے ہوتے ہوئے ایسا ممکن نہیں۔

امریکی ادارے ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق گزشتہ 6 ہفتوں میں امریکی سرحد پر غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن کے نتیجے میں تقریباً 2 ہزار بچے اپنے والدین سے بچھڑ چکے ہیں کیوں کہ والدین کے جرم میں بچوں کو حراستی مراکز میں نہیں رکھا جاسکتا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ والدین کو ان کے بچوں سے جدا کرنے کے اقدامات کا خاتمہ چاہتے ہیں تاہم انہوں نے خود کسی قسم کی کوئی ذمہ داری لینے کے بجائے اس کا قصور وار ڈیموکریٹس کو ٹھہرایا کہ وہ پناہ گزینوں کے لیے کی جانے والی مؤثر قانون سازی میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں، خیال رہے امریکی ایوانِ نمائندگان میں اکثریت رپبلکن اراکین کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا: بارڈر پولیس نے والدین کو 2 ہزار بچوں سے محروم کردیا

اس ضمن میں پیر کے روز بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹس کا سلسلہ جاری رکھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ڈیموکریٹس رکاوٹ ڈالنے کے بجائے خاموش ہوجائیں تو ہم فوری طور پر ان بچوں کے لیے، امریکا کے لیے اور دنیا کے لیے کچھ بہتر کرسکتے تھے‘۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ پوری دنیا میں سب سے بدتر امیگریشن قانون ہمارا ہے، ہم ان بھیانک قوانین کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں، صورتحال بہت افسردہ ہے اور اسے فوری طور پر خوبصورتی سے بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ کوئی ملک سرحد کے بغیر ملک نہیں کہلایا جاسکتا، سرحدیں ہماری ضرورت ہیں، سیکیورٹی ہماری ضرورت ہے، حفاظت ہماری ضرورت ہے، ہمیں اپنے عوام کا خیال رکھنا ہے۔


یہ خبر 19 جون 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی

کارٹون

کارٹون : 29 مئی 2024
کارٹون : 28 مئی 2024