قومی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر نئے اور پرانے چہرے

اپ ڈیٹ 13 اگست 2018

ای میل

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کی گئی خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کی فہرست کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان نشستوں پر منتخب اکثر خواتین کا تعلق مشہور سیاسی خاندانوں سے ہے جب کہ ان میں کچھ نئے چہرے بھی شامل ہیں جو پہلی مرتبہ وزارت سنبھالیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کے کراچی ونگ کے ترجمان اور رکن صوبائی اسمبلی جمال صدیقی نے کہا ہے کہ عموماً ایسا ہی ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتیں مخصوص نشستوں کے لیے ان خواتین کو منتخب کرتی ہیں جن کے اہلِ خانہ پہلے سے ہی سیاست میں ہوں لیکن پاکستان تحریک انصاف نے اس پرانی روایت کو توڑ کر پارٹی کی خواتین ونگ آفیسر کو نامزد کیا۔

پاکستان تحریک انصاف قومی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے، اس نے خواتین کے لیے مخصوص 60 نشستوں میں سے 28 نشستیں حاصل کی ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ(ن) کو 16، پاکستان پیپلز پارٹی کو 9 اور متحدہ مجلس عمل کو خواتین کی 2 نشستیں ملیں جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس، متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان مسلم لیگ (ق) نے ایک ایک نشست حاصل کی۔

چاروں صوبوں سے قومی اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی خواتین ارکان کی تفصیلات ملاحظہ کریں:

پنجاب

پاکستان تحریک انصاف کی شیریں مزاری ، لندن اسکول آف اکنامکس سے گریجویٹ ہیں اور سابق بیوروکریٹ عاشق مزاری کی صاحبزادی ہیں۔

وہ 2013 سے اب تک پاکستان تحریک انصاف کی بطور دفاعی تجزیہ کار اور اسٹریٹیجک ٹیکنالوجی ریسورسز کی سی او ای کی رکن قومی اسمبلی رہیں۔

منزہ حسن، پاکستان تحریک انصاف کے خواتین ونگ کی پہلی صدر ہیں اور 1997 کے انتخابات میں عمران خان کے حلقہ این اے 95 کی پولنگ ایجنٹ بھی رہ چکی ہیں۔ وہ 18-2013 میں مخصوص نشست پر رکن قومی اسمبلی تھیں۔

عندلیب عباس ، پی ٹی آئی پنجاب کی کمیونیکیشن ڈائریکٹر ہیں، انہوں نے مارچ میں پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر سینیٹ الیکشن میں بھی حصہ لیا تھا۔

اسما قدیر، پاکستان تحریک انصاف کے لیے 20 سال سے کام کررہیں اور ایوانِ زیریں کے لیے پہلی مرتبہ منتخب ہوئیں۔

ڈاکٹر نوشین حامد، 18-2013 میں پاکستان تحریک انصاف کی رکن صوبائی اسمبلی رہ چکی ہیں جبکہ جویریہ ظفر اور رخسانہ نوید پارلیمنٹ کے لیے پہلی مرتبہ منتخب ہوئیں۔

کنول شوزاب پاکستان تحریک انصاف کے شمالی پنجاب خواتین ونگ کی صدر ہیں اور انہوں نے سینیٹ کی نشست کے لیے بھی مقابلہ کیا تھا جبکہ ثوبیہ کمال خان پی ٹی آئی سینٹرل پنجاب کی سینئر وائس پریذیڈنٹ ہیں اور روبینہ جمال پی ٹی آئی پنجاب میں خواتین کی ایجوکیشن ونگ کی چیئرپرسن ہیں۔

ملیحہ بخاری پی ٹی آئی کور کمیٹی کی رکن ہیں اور پارٹی کے قانونی اور پارلیمانی امور کی ایڈوائزر بھی ہیں، وہ شعبہ کے اعتبار سے ایک کارپوریٹ وکیل ہیں ۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی 3 مرتبہ منتخب ہونے والی رکن صوبائی اسمبلی فوزیہ بہرام نے سال 2015 میں پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ تاشفین صفدر، سابق صدر چوہدری فضل الہٰی کی پوتی اور سابق ایم پی اے چوہدری صفدر کی صاحبزادی ہیں۔

وجیہہ اکرم کو 2013 کے انتخابات میں نارووال کی جنرل نشست پر دانیال عزیز کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی منتخب رکن مریم اورنگزیب سابق وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات رہ چکی ہیں جبکہ ان کی والدہ طاہرہ اورنگزیب بھی دو مرتبہ قومی اسمبلی کے عہدے پر فائز رہ چکی ہیں۔

مزید پڑھیں : خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین کی فہرست جاری

پاکستان مسلم لیگ(ن) کی شائستہ پرویز ملک سابق وفاقی وزیربرائے کامرس پرویز ملک کی شریکِ حیات ہیں۔

عائشہ رجب بلوچ فیصل آباد سے 2 مرتبہ منتخب رکن قومی اسمبلی رجب علی کی بیوہ ہیں۔

سابق وزیر خزانہ پنجاب عائشہ غوث پاشا سابق وفاقی وزیر حفیظ پاشا کی شریک حیات ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ(ن) کی زہرہ ودود فاطمی سابق اسپیشل اسسٹنٹ برائے سفارتی امور کی شریک حیات ہیں اور رکن قومی اسمبلی بھی رہ چکی ہیں۔

کرن عمران ڈار 2015 میں اس وقت رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئی تھیں جب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رکن عائشہ رضا فاروق نے استعفیٰ دیا تھا۔

رومینہ خورشید اور شیزا فاطمہ خواجہ 18-2013 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی رہ چکی ہیں۔

مسرت آصف خواجہ سابق وزیر دفاع خواجہ آصف کی شریکِ حیات ہیں ،زیب جعفر سابق ڈپٹی اسپیکر برائے قومی اسمبلی چوہدری جعفر اقبال کی بیٹی ہیں۔

ثمینہ مطلوب اپنی پارلیمانی سیاست کا آغاز کریں گی وہ پہلی مرتبہ منتخب ہوئی ہیں۔

شہناز سلیم ملک ایک وکیل ہیں اور 2002 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کی نشست پر منتخب ہوئی تھیں۔

سیما محی الدین 2013 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی رہ چکی ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مائزہ حمید زیب جعفر کی کزن ہیں اور 18-2013 میں ایم این اے بھی رہ چکی ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی حنا ربانی کھر لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ اینڈ سائنسز (لمس یونیورسٹی) سے گریجویٹ ہیں، وہ 2011 سے 2013 تک سب سے کمر عمر خاتون وزیر خارجہ رہ چکی ہیں۔

فرخ خان پاکستان مسلم لیگ (ق) کے خواتین ونگ کی صدر ہیں، انہوں نے 2013 میں مخصوص نشستوں میں نامزدگی پر احتجاج کے باعث پارٹی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

سندھ

سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر 7 لوگ منتخب ہوئے ہیں جن میں شگفتہ جمانی، شازیہ مری، مسرت ناز بلوچ ، شاہدہ رحمانی، مہرین رزاق بھٹو ، ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم سومرو اور شمیم آراء پنہوار شامل ہیں۔

شگفتہ جمانی کا تعلق حیدرآباد سے ہے ،وہ زمانہ طالب علمی سے ہی سیاست میں کافی سرگرم رہی ہیں، وہ خواتین کی مخصوص نشست پر چوتھی مرتبہ منتخب ہوئی ہیں۔

مہرین رزاق بھٹو بھی تیسری مرتبہ منتخب ہوئی ہیں،ان کی خیر پور ڈسٹرکٹ میں جیلانی خاندان میں شادی ہوئی ہے۔

ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم سومرو دوسری مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئی ہیں۔

شمیم آراء پنہوار پہلی مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئی ہیں وہ ماضی میں سندھ اسمبلی کی رکن رہ چکی ہیں۔

شازیہ مری پارلیمانی سیاست میں کافی عرصے سے سرگرم ہیں، وہ 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں وزیرا طلاعات بھی رہ چکی ہیں۔

ہہ بھی پڑھیں : مخصوص نشستوں کا اعلان، پی ٹی آئی 158 ارکان کے ساتھ سرفہرست

شازیہ مری 25 جولائی کو ہونے والے انتخاب میں این اے 216 (سانگھڑ ٹو) میں گریںڈ ڈیموکریٹک الائنس کے کشن چند پروانی کو شکست دے کر منتخب ہوئیں۔

غزالہ سیفی صوبہ سندھ میں پاکستان تحریک انصاف کے خواتین ونگ کی وائس پریذیڈنٹ ہیں جبکہ صائمہ ندیم پاکستان تحریک انصاف کراچی کے خواتین ونگ کی صدر ہیں۔

کشور زہرہ 1984 میں بننے والی مہاجر قومی موومنٹ (اب متحدہ قومی موومنٹ پاکستان) کی بانی رکن ہیں وہ 2008 سے تیسری مرتبہ پارلیمنٹ رکن بنی ہیں۔

خیبر پختونخوا

خیبر پختونخوا سے خواتین کے لیے مخصوص نشستوں پر 8 ایم این اے منتخب ہوئی ہیں جن میں سے 6 کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے۔

جن میں نفیسہ خٹک، ساجدہ بیگم، نورین فاروق ابراہیم، شاندانہ گلزار، عظمیٰ ریاض جدون اور ظل ہما شامل ہیں۔

نفیسہ خٹک سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی بھابھی ہیں۔ ساجدہ بیگم پرویز خٹک کی بھتیجی ہیں (ان کے مرحوم بھائی اکرام اللہ کی بیٹی ہیں)۔ نورین فاروق، آزاد جموں و کشمیر کے سردار فاروق ابراہیم کی شریک حیات ہیں وہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی خواتین ونگ کی صدر رہ چکی ہیں۔

شاندانہ گلزار مرحوم گلزار خان کی صاحبزادی ہیں،وہ پاکستان تحریک انصاف کے سابق ایم این اے جنہوں نے 2014 میں اسلام آباد کے دھرنے میں استعفیٰ نہیں دیا تھا۔

عظمیٰ ریاض جدون کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے اور ظل ہما پشاورمیں حیات آباد کی رہائشی ہیں، وہ قومی اسمبلی کے لیے پہلی مرتبہ منتخب ہوئی ہیں۔

متحدہ مجلس عمل کی شاہدہ بیگم 2002 اور 2013 میں مخصوص نشستوں پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئی ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی بیگم طاہرہ بخاری 2013 سے 2018 تک رکن قومی اسمبلی رہ چکی ہیں۔

بلوچستان

عالیہ کامران ، سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کامران مرتضیٰ کی شریکِ حیات ہیں۔

بلوچستان عوامی پارٹی کی روبینہ عرفان ، ڈاکٹر عرفان کریم کی شریکِ حیات ہیں جن کا تعلق خان آف میر احمد یار خان سے ہے۔

روبینہ کا تعلق زہری قبیلے سے ہے وہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر 2002 میں رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئی تھیں اور سال 2015 تک سینیٹر بھی رہ چکی ہیں۔

شہناز نصیر کا تعلق مستونگ سے ہے ،وہ ایک گائناکولوجسٹ ہیں اور بولان میڈیکل کالج کی ریٹائرڈ پروفیسر بھی ہیں، ان کے خاوند ڈاکٹر نصیر احمد بلوچ بلوچستان کے سابق ہیلتھ ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔

منورہ منیر بلوچ 2014 میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ سے کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔


رپورٹ مرتب کرنے میں لاہور سے امجد محمود، کراچی سے امتیاز علی، حیدرآباد سے ایم ایچ خان، پشاور سے وسیم احمد شاہ اور کوئٹہ سے سلیم شاہد نے معاونت فراہم کی۔


یہ رپورٹ ڈان اخبار میں 13 اگست 2018 کو شائع ہوئی ۔