واجپائی صرف سیاستدان ہی نہیں اچھے شاعر بھی تھے

اپ ڈیٹ 16 اگست 2018

ای میل

اٹل بہاری واجپائی گردوں کے مرض میں مبتلا تھے—فائل فوٹو: انڈین ایکسپریس
اٹل بہاری واجپائی گردوں کے مرض میں مبتلا تھے—فائل فوٹو: انڈین ایکسپریس

16 اگست کی سہ کو طویل علالت کے بعد چل بسنے والے بھارت کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نہ صرف سیاستدان تھے، بلکہ وہ اچھے شاعر بھی تھے۔

علاوہ ازیں ان کے بولی وڈ فلم سازوں و اداکاروں سے اچھے تعلقات بھی تھے۔

زندگی کے 93 میں سے 50 سال سیاست کو دینے والے اٹل بہاری واجپائی کو جہاں بھارت کے ایٹمی پروگرام کو بڑھانے والے سیاستدان کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

وہیں ان کے حصے میں کچھ شاعری اور اچھے فلمی گیت اور غزل بھی آتے ہیں۔

اٹل بہاری واجپائی کی شاعری نہ صرف لتا منگیشکر جیسی گلوکارا نے گائی بلکہ ان کے الفاظ کو جگجیت سنگھ جیسے گلوکار نے بھی آواز کا سہارا دیا۔

ان کے گانوں میں بولی وڈ کنگ شاہ رخ خان سمیت دیگر کئی ستارے بھی جلوہ گر ہوچکے ہیں۔

اٹل بہاری واجپائی کا تعلق اس وقت حکمران جماعت بھارتیا جنتا پارٹی (بی جی پی) سے تھا، وہ 1996 سے 2004 تک تین بار ہندوستان کے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی انتقال کرگئے

انہوں نے مشہور بنارس ہندو یونیورسٹی بھی قائم کی، اٹل بہاری واجپائی کو 2014 میں ’بھارت رتنا‘ اعزازبھی دیا گیا تھا جو ہندوستان میں صرف 43 لوگوں کو دیا گیا ہے۔

سابق بھارتی وزیراعظم نے 1998 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ ان کے اس دورے میں پاکستان اور بھارت کے مابین خطے میں امن و استحکام کے لیے ’معاہدہ لاہور‘ بھی طے ہوا تھا۔

اس دورے کے بعد وہ 2004 میں بھی آخری بار پاکستان کے دورے پر آئے تھے۔

سابق بھارتی وزیر اعظم گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے اور 11 جون سے دہلی کے آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں زیرِ علاج تھے، گزشتہ 36 گھنٹوں میں ان کی طبیعت بے حد خراب ہوگئی اور وہ 16 اگست کی سہ پہر کو چل بسے۔

اٹل بہاری واجپائی کے چند مشہور گیت درج ذیل ہیں۔

کیا کھویا، کیا پایا

جھکی نہ الکیں

آؤ پھر سے دیا جلائیں

۔

آؤ من کی گھٹائیں

دور کہیں کوئی روتا ہے

جیون کی ڈھلنے لگی ہے سانجھ

ان کی یاد کریں